تین سابق وزرائے اعظم کے ذاتی سیکریٹریوں کے خلاف اثاثہ جات کی تحقیقات شروع۔
نیپال اردو ٹائمز
محمد رضوان احمد مصباحی
کاٹھمنڈو، 20 اگست: نیپال کے اختیار دروپیوگ انوسندھان آیوگ (CIAA) نے سابق وزرائے اعظم کے پی شرما اولی، شیر بہادر دیوبا اور پشپ کمل دہال ’پرچنڈ‘ کے سابق ذاتی سیکریٹریوں کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ اور غیر معمولی مالی لین دین سے متعلق تحقیقات آگے بڑھا دی ہیں۔ آیوگ نے اولی کے سابق ذاتی سیکریٹری راجیش بجراچاریہ، شیر بہادر دیوبا کے سابق ذاتی سیکریٹری بھانو دیوبا اور پشپ کمل دہال کی بیٹی و سابق ذاتی سیکریٹری گنگا دہال کے مالی معاملات کی چھان بین شروع کی ہے۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق تینوں افراد کے بینک کھاتوں، حصص، جائیداد، گاڑیوں، قرضوں، بیرونِ ملک سفر، خاندانی اثاثوں اور کمپنیوں میں سرمایہ کاری سمیت مختلف مالی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال راشٹر بینک، مالپوت دفاتر اور دیگر 20 سے زائد سرکاری و متعلقہ اداروں کو تفصیلات فراہم کرنے کے لیے خطوط بھیجے گئے ہیں۔ آیوگ کے ایک اہلکار کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بعض ایسے بینکنگ لین دین سامنے آئے ہیں جنہیں معمول سے ہٹ کر سمجھا جا رہا ہے۔ اسی بنیاد پر تینوں افراد سے جلد ہی بیان لینے کی تیاری کی جا رہی ہے ذرائع کے مطابق شیر بہادر دیوبا کے سابق ذاتی سیکریٹری بھانو دیوبا سے 13 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فارم بھی پُر کروایا گیا ہے، جس میں ان کے بینک کھاتوں، حصص، جائیداد، گاڑیوں، قرضوں، بیرونِ ملک سفر
اور خاندان کے افراد کے اثاثوں سمیت مختلف معلومات طلب کی گئی ہیں۔ پشپ
کمل دہال کی بیٹی گنگا دہال کے مالی معاملات بھی تحقیقاتی افسران کی توجہ کا مرکز ہیں۔ گزشتہ سال بھادرو کے واقعات کے دوران دہال کے للت پور واقع گھر میں آتش زنی اور توڑ پھوڑ ہوئی تھی۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق اس واقعے کے دوران گھر سے نقدی اور سونا لوٹے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق بعض مقامات سے جلی ہوئی رقم کے ممکنہ آثار ملنے کے بعد راکھ کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے تھے۔ رپورٹ میں نقدی کے باقیات کی موجودگی کی نشاندہی ہونے کے بعد مزید تحقیقات کے لیے معاملہ اخیار آیوگ کو بھیجا گیا۔ تاہم پشپ کمل دہال نے اس معاملے میں غیر قانونی نقدی ملنے کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خاندان کی آمدنی کا کوئی غیر قانونی ذریعہ نہیں ہے۔ آیوگ گنگا دہال کے شوہر جیون آچاریہ کے اثاثوں کی بھی چھان بین کر رہا ہے، جو کوشی صوبائی
حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔راجیش بجراچاریہ کا نام پہلے بھی مختلف معاملات میں آیا : کے پی شرما اولی کے سابق ذاتی سیکریٹری راجیش بجراچاریہ کے خلاف بھی پہلے سے مختلف معاملات میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ دربار مارگ کی سرکاری زمین کو یتی گروپ کو لیز پر دینے کے معاملے کی تحقیقات کے دوران ان کا نام سامنے آیا تھا۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق بجراچاریہ نے یتی گروپ سے بالکوٹ میں تقریباً چار کروڑ روپے مالیت کی زمین حاصل کی تھی، جبکہ مالپوت دفتر میں اس لین دین کی رقم تقریباً 96 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی۔ آیوگ نے ان سے بھی 13 صفحات پر مشتمل اثاثہ جات کا فارم پُر کروایا ہے۔ اسی طرح جعلی بھوٹانی پناہ گزین بنا کر نیپالی شہریوں کو امریکہ بھیجنے والے مبینہ گروہ کی تحقیقات میں بھی بجراچاریہ کا نام سامنے آیا تھا۔ اس معاملے میں گرفتار ایک ملزم نے ان پر ایک کروڑ روپے نقد رقم دینے کا الزام عائد کیا تھا، تاہم بجراچاریہ سے اس حوالے سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ بھانو دیوبا نے تحقیقات سے لاعلمی ظاہر کی دوسری جانب شیر بہادر دیوبا کے سابق ذاتی سیکریٹری بھانو دیوبا نے کہا ہے کہ کسی بھی تحقیقاتی ادارے نے اب تکان سے اس معاملے میں پوچھ گچھ نہیں کی۔ اسی طرح گنگا دہال نے بھی کہا کہ انہیں ابھی بیان کے لیے طلب نہیں کیا گیا، تاہم اگر ریاستی ادارے تحقیقات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں جلد از جلد تحقیقات مکمل کرنی چاہییں۔ سیاسی قیادت کے اثاثے بھی زیرِ بحث :نیپال میں گزشتہ سال کے سیاسی احتجاج اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں سابق اعلیٰ سیاسی عہدیداروں کے اثاثوں کی شفافیت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر اہم بحث بن گیا ہے۔ بالندر شاہ کی قیادت والی حکومت نے 2006-07 کی سیاسی تبدیلی کے بعد سرکاری عہدوں پر فائز رہنے والے افراد کے اثاثوں کی چھان بین کے لیے سابق سپریم کورٹ جج راجندر کمار بھنڈاری کی سربراہی میں ایک کمیشن بھی تشکیل دیا تھا۔ تقریباً 10 ہزار افراد نے اپنی جائیداد اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائی تھیں، تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اس عمل کو روک دیا گیا۔
یہ تحقیقات محض تین افراد کے مالی معاملات تک محدود نہیں سمجھی جانی چاہییں۔ اگر ریاست واقعی بدعنوانی اور غیر شفاف مالی لین دین کے خلاف سنجیدہ ہے تو تحقیقات سیاسی وابستگی سے بالاتر، شواہد پر مبنی اور مکمل شفافیت کے ساتھ ہونی چاہییں۔ کسی شخص کے خلاف الزام کو جرم ثابت ہونے سے پہلے حتمی حقیقت قرار دینا بھی درست نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ تحقیقاتی ادارے ثبوت سامنے لائیں، متعلقہ افراد کو صفائی کا مکمل موقع دیں اور اگر غیر قانونی اثاثے یا آمدنی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
