اصاغر نوازی کے پیکر: حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمہ
از قلم :
محمد ابوہریرہ رضوی مصباحی
(رام گڑھ_ جھارکھنڈ)
اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو ایسی ہمہ گیر صفات سے نوازتا ہے کہ وہ صرف اپنے علم و فضل ہی سے ممتاز نہیں ہوتے بلکہ اپنے حسن اخلاق، شفقت، تواضع، خلوص اور اصاغر نوازی کی وجہ سے بھی دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں اکابر علما کی زندگی کا مطالعہ اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ انھوں نے اپنے علمی مقام کو کبھی نوآموز طلبہ اور مبتدی اہل علم سے فاصلہ پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ ان کی تربیت، حوصلہ افزائی اور دلجوئی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھا۔ انہیں مبارک ناموں میں سے ایک نمایاں اور ممتاز نام حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمہ کا بھی ہے.
آپ کی پوری زندگی علم و عمل کے ساتھ اصاغر نوازی، شفقت اور حسن تربیت کا حسین مرقع تھی۔
اسلام نے بڑوں کو چھوٹوں پر شفقت اور چھوٹوں کو بڑوں کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيرَنَا. یعنی جوہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کی عزت نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں ۔(ترمذی شریف، 3/ 369، حدیث:1927)
حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمہ نے اس نبوی تعلیم کو اپنی عملی زندگی میں اس حسن کے ساتھ اپنایا کہ ہر چھوٹا، ہر طالب علم اور ہر نوخیز قلم کار ان کی شفقت کا معترف ہے۔
حضرت کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص اس بات کا گواہ ہے کہ آپ کے دروازے پر کسی کے لیے اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ طالب علم ہو یا عام آدمی، نوآموز قلم کار ہو یا کسی علمی سفرکا ابتدائی مسافر، سب کو یکساں محبت، عزت اور خندہ پیشانی سے نوازتے۔ ان کی گفتگو میں شفقت، انداز میں نرمی اور لہجے میں ایسی مٹھاس
ہوتی تھی کہ مخاطب بے ساختہ ان سے مانوس ہو جاتا۔
*نوخیز قلم کاروں کے محسن*
حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمہ کی ایک امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ وہ نئی نسل کے قلم کاروں کی بے حد حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ کسی کی تحریر میں خامی دیکھتے تو اس کی اصلاح کرتے، اسلوب سنوارتے اور مناسب تعبیرات تجویز فرماتے۔ ان کی تنقید کبھی دل شکنی کا سبب نہ بنتی بلکہ اصلاح اور تربیت کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی تھی۔ مطالعہ کے لیے مناسب کتابیں تجویز کرتے، نوآموز قلم کاروں کی تحریریں ملاحظہ فرماتے اور قدم قدم پر رہنمائی کرتے.
*انکساری کا بے مثال نمونہ:*
بلند علمی مقام اور وسیع مقبولیت کے باوجود حضرت میں تکبر یا خود نمائی کا شائبہ تک نہ تھا۔ ہر آنے والے سے نہایت خوش اخلاقی سے ملتے، چھوٹوں کو اپنے قریب بٹھاتے، ان کی بات پوری توجہ سے سنتے اور ان کی حتی المقدور اصلاح فرماتے بالخصوص قلمی میدان میں بہترین رہنمائی فرماتے۔ یہی انکساری ان کی شخصیت کا وہ روشن پہلو تھا جس نے ہزاروں قلوب کو ان کا گرویدہ بنا دیا۔
*سالنامہ باغ فردوس کے لیے مفید مشوروں سے نوازا کرتے:*
جامعہ اشرفیہ میں زمانۂ طالب علمی کے دوران متعدد بار حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہونے اور دفتر ماہنامہ اشرفیہ جانے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ حاضریاں محض رسمی نہ تھیں بلکہ ہر بار علم و ادب اور تربیت کا ایک نیا سرمایہ ہاتھ آتا تھا۔
خصوصاً ان ایام میں جب "سالنامہ باغ فردوس" کا مجددین اسلام نمبر، مجتہدین اسلام (جلد اول _ دوم) اور فروغ رضویات میں فرزندان اشرفیہ کی خدمات جیسی ضخیم اور وقیع تصنیفات زیر ترتیب تھیں، حضرت کی خدمت
میں حاضری نسبتاً زیادہ رہتی تھی۔ ان علمی منصوبوں کے سلسلے میں آپ نہایت شفقت کے ساتھ مفید مشوروں ، قیمتی رہنمائی اور بصیرت افروز تجاویز سے نوازتے، جو ہمارے لیے سرمایۂ افتخار اور باعث رہنمائی تھی۔
حضرت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ ہر علمی و تحقیقی کاوش کی دل کھول کر حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ مذکورہ کتابوں اور رسائل کے لیے آپ نے اپنے گراں قدر تاثرات بھی تحریر فرماتے، جو آج بھی ان مطبوعات کی زینت ہیں۔ آپ کے الفاظ محض رسمی تبصرے نہیں ہوتے تھے بلکہ خلوص، محبت اور دل سوزی سے لبریز ہوتے تھے۔ نوخیز اہل قلم کی معمولی سی کاوش کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے، ان کی ہمت بندھاتے اور مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا فرماتے۔
راقم جیسے بے بضاعت طالب علم کو بھی حضرت نے ہمیشہ اپنی شفقتوں سے نوازا۔ میری معمولی خدمات پر غیر معمولی محبت کا اظہار فرماتے، حوصلہ افزائی کے ایسے دل نشیں کلمات ارشاد فرماتے کہ کام کرنے کا جذبہ کئی گنا بڑھ جاتا۔
حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمہ مشفقانہ انداز میں نصیحت فرمایا کرتے تھے:
"ابھی آپ لوگ جوان ہیں، جو کچھ کرنا ہے، اسی عمر میں کر گزریں۔ جوانی عمل، محنت اور خدمت کا بہترین زمانہ ہے۔ جب عمر ڈھل جاتی ہے تو نہ قوت باقی رہتی ہے، نہ وہ ہمت اور نہ وہ فرصت۔ پھر انسان بہت کچھ کرنا چاہتا ہے، مگر جسم اور حالات اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ اس لیے فرصت شباب کو غنیمت جانیں اور علم و دین کی خدمت میں بھرپور محنت کریں. آپ لوگوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔
حضرت کی یہ نصیحت دراصل زندگی کا ایک گراں قدر اصول تھی۔ وہ نوجوانوں کو ہمیشہ
وقت کی قدر کرنے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور جوانی کے ایام کو علم و تحقیق، تصنیف و تالیف اور دینی خدمات کے لیے وقف کر دینے کی تلقین فرماتے تھے۔
حضرت علیہ الرحمہ فراخ دلی، وسیع الظرفی اور حسن میزبانی کا بھی پیکر تھے۔ جب کبھی ملاقات کی غرض سے ان کے فیملی کوارٹر پر حاضری ہوتی، وہ از راہ محبت ناشتے کا اہتمام ضرور فرماتے۔ ہم لوگ ادباً عرض کرتے: "حضور! رہنے دیا جائے آپ فرماتے، تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔"ان کے یہ محبت بھرے جملے آج بھی سماعتوں میں رس گھولتے ہیں اور ان کی شفقت و اپنائیت کی یاد کو تازہ کر دیتے ہیں۔
*ماہنامہ اشرفیہ کی نائب مدیر کی پیش کش*
حضرت مولانا طفیل احمد مصباحی صاحب (سابق نائب مدیر، ماہنامہ اشرفیہ) کی سبک دوشی کے بعد حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمہ نے ازراہ شفقت و اعتماد مجھے ماہنامہ اشرفیہ کے نائب مدیر کی ذمہ داری سنبھالنے کی پیش کش فرمائی۔ یہ پیش کش ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد مواقع پر فرمائی۔ اس موقع پر ہمارے عزیز مفتی فیضان سرور مصباحی، قاری ریاض مصباحی مظفرپوری اور دیگر احباب بھی موجود تھے۔ اس وقت میں جامعہ اشرفیہ میں جماعت فضیلت کا طالب علم تھا، اس لیے نہ اثبات میں کچھ عرض کر سکا اور نہ انکار کی جراءت ہوئی.
فراغت کے بعد تقریباً ایک سال تک مبارک پور میں قیام رہا۔ اس دوران حضرت نے ماہنامہ اشرفیہ میں تبصرے کے لیے موصول ہونے والی چند تازہ شائع شدہ کتابیں مجھے عنایت فرمائیں۔ میں نے ان پر تبصرے تحریر کیے، جنہیں حضرت نے ماہنامہ اشرفیہ میں شائع کیا۔ یہ میرے لیے حوصلہ افزائی کا عظیم سرمایہ تھا۔ اسی کے ساتھ صحافت، تنقید اور قلمی اسلوب کی عملی تربیت بھی حضرت کی سرپرستی میں حاصل ہوئی، جس کے اثرات آج تک میری علمی و قلمی زندگی میں نمایاں ہیں۔
اسی دوران کورونا وبا کے باعث ملک گیر لاک
ڈاؤن نافذ ہو گیا، جس کے نتیجے میں مجھے اپنے آبائی وطن، جھارکھنڈ، واپس آنا پڑا۔ بعد ازاں ہمارے سرپرست حضرات نے مشورہ دیا کہ جھارکھنڈ میں دینی، علمی اور مسلکی خدمات کی اشد ضرورت ہے، اس لیے اپنی صلاحیتیں یہیں صرف کیجیے۔ ان حضرات کا کہنا تھا کہ ماہنامہ اشرفیہ کے لیے اہل قلم کی کمی نہیں، لیکن جھارکھنڈ میں ایسے افراد کی ضرورت زیادہ ہے جو دین و سنیت کی خدمت، مسلک اہل سنت کی اشاعت اور عوام کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں۔ چناں چہ اسی مشورے کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے جھارکھنڈ ہی کو اپنی دینی و علمی خدمات کا مرکز بنایا۔
حضرت نے ایک اہم علمی کام میرے سپرد یہ بھی فرمایا تھا کہ ماہنامہ اشرفیہ میں شائع ہونے والے آپ کے تمام اداریے، علمی و فکری مضامین، نیز جن جلسوں اور علمی اجتماعات میں آپ نے شرکت فرمائی، ان کی وہ تمام رپورٹس جو ماہنامہ اشرفیہ کی مختلف اشاعتوں میں موجود ہیں، انہیں تلاش کرکے یکجا کیا جائے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے آپ کی علمی و دعوتی خدمات ایک منظم صورت میں محفوظ ہو جائیں۔ میں نے اس کام کا آغاز بھی کر دیا تھا، لیکن بدقسمتی سے لاک ڈاؤن کے باعث یہ عظیم منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسی سبیل پیدا فرمائے کہ حضرت کا یہ ادھورا خواب پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے اور ان کی علمی میراث پوری شان کے ساتھ محفوظ ہو سکے۔
آخر میں بارگاہ الٰہی میں دست بہ دعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت کی دینی، علمی، دعوتی اور صحافتی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین متین کی مخلصانہ خدمت کرنے کی توفیق بخشے۔
آمین یا رب العالمین، بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
