لکھنؤ میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کا عظیم الشان روح پرور اجتماع
علماء، اطباء، شعراء اور دانشورانِ ملت کی کثیر تعداد میں شرکت کنوینر ڈاکٹر محمد خالد سرجن و سارہ علوی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا
پریس ریلیز
نیپال اردو ٹائمز
لکھنؤ۔ (اخلاق احمد نظامی)
سرزمینِ اولیاء و علماء لکھنؤ کے محلہ خرم نگر کے ولٹ گارڈن میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلہ میں ایک عظیم الشان فقید المثال اور روح پرور اجتماع کا انعقاد نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا یہ بابرکت محفلِ میلاد عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کے دلوں کے سرور و انبساط کا مرکز بنی رہی۔ صبح سے ہی علاقہ میں جشنِ میلاد کی خوشبو مہک رہی تھی، ہر طرف استقبالیہ گیٹ، جھنڈیاں اور نعرہائے تکبیر و رسالت کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ پروگرام میں شہر لکھنؤ اور اطراف سے تقریباً دو ہزار عاشقانِ رسول ﷺ نے شرکت کر کے ثابت کر دیا کہ اہلِ لکھنؤ آج بھی اپنے آقا و مولیٰ ﷺ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔
اس نورانی محفل کی سرپرستی عالمِ اسلام کی عظیم روحانی شخصیت رئیس الاتقیاء پیرِ طریقت حضرت علامہ الحاج سید اویس مصطفیٰ صغروی واسطی قادری سجادہ نشین خانقاہِ عالیہ قادریہ بیلگرام شریف نے کی۔ آپ کی آمد سے پورے پنڈال میں ایک روحانی کیف و سرور کی لہر دوڑ گئی۔ اس بابرکت محفل کی صدارت لکھنؤ کی علمی و روحانی شخصیت قاریِ خوش الحان حضرت قاری ذاکر علی قادری صدر مدرسہ حنفیہ لکھنؤ نے کی
پروگرام کی نگرانی متحرک فعال شخصیت مجود قرآن حضرت قاری شمس تبریز قادری واسطی نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ فرمائی حضرت قاری صاحب کی شبانہ روز محنت اور بہترین انتظامات قابلِ دید تھے پروگرام کی نظامت معروف نقیب محمد عدنان واسطی نے بحسن و خوبی انجام دی انہوں نے اپنے مخصوص اندازِ نظامت سے سامعین کو آخر تک باندھے رکھا اور علماء کرام کا تعارف نہایت عقیدت و محبت کے ساتھ پیش کیا۔
محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے قاری محمد احمد نےکیا۔ اس کے بعد نعت خوانانِ مصطفیٰ نے بارگاہِ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔

تاہم کنوینرِ جلسہ کی جانب سے طے شدہ موضوعات پر جید علمائے کرام نے اپنے پُر مغز مدلل اور ایمان افروز خطابات پیش کئے۔ دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی آسے تشریف لائے مولانا مفتی کمال احمد علیمی واسطی نے صحابہ کرام اور محبتِ رسول ﷺ" کے موضوع پر ایمان افروز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری زندگی محبتِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ تھی۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں واضح کیا کہ محبتِ رسول ﷺ کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ حضرت مفتی صاحب نے کہا کہ آج اگر کوئی شخص صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو وہ دراصل اسلام کی جڑ کاٹتا ہے، کیونکہ صحابہ کرام ہی وہ واسطہ ہیں جن کے ذریعہ ہم تک قرآن و سنت پہنچا ہے۔
مفتی صاحب نےحضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب ہجرت کی رات غارِ ثور میں سانپ نے آپ کو ڈسا، لیکن آپ نے اس خوف سے اپنا پاؤں نہ ہٹایا کہ کہیں میرے آقا ﷺ کی نیند میں خلل نہ آ جائے۔ل یہی سچی محبتِ رسول ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جب تپتی ریت پر لٹا کر ظلم کیا گیا تو ان کی زبان پر احد احد کے ساتھ ساتھ محبتِ رسول کا نعرہ تھا۔ حضرت مفتی صاحب نے کہا کہ آج ہمیں بھی چاہئے کہ ہم صحابہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی زندگیوں کو محبتِ رسول ﷺ کے رنگ میں رنگ لیں۔ یہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔
دارالعلوم وارثیہ گومتی نگر لکھنؤ کے استاذ مولانا مفتی شیر محمد برکاتی مصباحی نے "انسانیت کی تکمیل صرف تعلیمِ نبوی ﷺ سے ہی ممکن ہے" کے موضوع پر نہایت فلسفیانہ، مگر عام فہم خطاب پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں انسانیت سسک رہی ہے، قتل و غارت، ظلم و جبر، بے حیائی اور مادہ پرستی عام ہو چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیماتِ نبوی ﷺ سے منہ موڑ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ صرف مسلمانوں کے نبی نہیں بلکہ رحمۃ للعالمین ہیں۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں پوری انسانیت کے لئے نجات ہے۔
مفتی مصباحی نے کہا کہ جب عرب کے لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، انسانیت سوز مظالم کرتے تھے، اس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اور آپ نے انسانیت کو جینے کا سلیقہ سکھایا۔ آپ نے غلاموں کو آزاد کروایا، عورتوں کو عزت دلائی، یتیموں کے سروں پر ہاتھ رکھا، جانوروں تک کے حقوق بیان فرمائے۔ آج اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، لیکن آج سے چودہ سو سال پہلے میرے آقا ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں انسانی حقوق کا وہ عظیم منشور پیش فرما دیا تھا جس کی مثال دنیا پیش نہیں کر سکتی۔ مولانا مصباحی نے کہا کہ اگر آج بھی دنیا میں امن قائم کرنا ہے، انسانیت کو بچانا ہے تو صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ کی طرف لوٹنا۔
معروف دانشور و محقق پروفیسر محمد رضا بلرامپوری نے "اسلام میں عورتوں کا مقام" کے عنوان پر نہایت مدلل اور تحقیقی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سے پہلے عورت کو زندہ رہنے کا بھی حق نہیں دیا جاتا تھا۔ اسے منحوس سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اسلام نے عورت کو وہ عظمت و مقام عطا کیا جو کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں عورت کبھی ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے، کبھی بیٹی ہے تو وہ رحمت ہے، کبھی بہن ہے تو وہ عزت ہے، اور کبھی بیوی ہے تو وہ مرد کے ایمان کی تکمیل کرنے والی اور اس کا لباس ہے۔
پروفیسر صاحب نے قرآن و حدیث کے حوالوں سے ثابت کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لئے بہترین ہے۔ پروفیسر صاحب نے حضرت
خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے عورت کو تعلیم کا حق دیا، وراثت کا حق دیا، اپنی پسند سے نکاح کا حق دیا۔ آج مغربی تہذیب عورت کو آزادی کے نام پر بے حیائی کی طرف دھکیل رہی ہے، جبکہ اسلام نے عورت کو پردہ دے کر اسے ملکہ بنایا ہے۔ اخیر میں پروفیسر صاحب نے موجودہ دور میں مسلم خواتین کو تعلیمِ نبوی اور سیرتِ صحابیات کی روشنی میں اپنی زندگیاں گزارنے کی تلقین فرمائی۔
اس روحانی محفل میں ملک کے مشہور و معروف شعراء و نعت خواں حضرات خصوصا مولانا عبد الکریم بلگرامی ،احمد رضا، محمد جنید، معظم علی، اور قاری اقبال ضیائی نے جب بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا تو پورا پنڈال "لبیک یا رسول اللہ" کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ان حضرات کے پر سوز اشعار نے محفل میں رقت طاری کر دی اور کئی عاشقانِ رسول کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس بابرکت محفل میں لکھنؤ شہر کے نامور علمائے کرام اور ائمہ مساجد نے خصوصی طور پر شرکت کی جن میں مولانا عرفان احمد مصباحی، مولانا بدرالدین مصباحی، مولانا اسلم پرویز مصباحی، قاری محمد مستقیم، مولانا ذاکر حسین، مولانا محمد خالد، قاری محمد صدیق قادری، مولانا محمد نسیم قادری، مولانا مہتاب عالم، مولانا الطاف حسین، قاری محمد عارف اسماعیلی، قاری توقیر احمد، رضا بہرائچی، اعجاز الرحمن برکاتی، مفتی ابرار احمد مصباحی، حافظ محمد شاداب، حافظ محمد عمران اور قاری شاہد رضا کے نام قابلِ ذکر ہیں
اس جلسہ کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس میں دین و دنیا دونوں طبقوں کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا لکھنؤ شہر کے مختلف امراض کے ماہر ممتاز اور معزز ڈاکٹرس حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے محفل کو چار چاند لگا دیئے۔
معزز اطباء میں ڈاکٹر عبد القوی، ڈاکٹر محمد یوسف، ڈاکٹر سراج احمد شمسی، ڈاکٹر محمد احمد، ڈاکٹر محمد سلیم، ڈاکٹر قطب الدین، ڈاکٹر ریاض احمد، ڈاکٹر محمد کاشف، ڈاکٹر نفیس احمد صدیقی، ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر محمد آفتاب، ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر اے رحمان، ڈاکٹر محمد جنید، ڈاکٹر محمد علیم صدیقی اور ڈاکٹر آفتاب ملک نے شرکت فرمائی۔ جشن کے کنوئنئر ڈاکٹر محمد خالد سرجن و ڈاکٹر سارہ علوی ڈائریکٹر میری لینڈ ہسپتال چنہٹ تیراہا لکھنؤ نے اس پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دیگر معزز شخصیات میں محبوب عالم صدیقی،محمد قدیم، محمد ناظر، محمد سلمان، ملک عبدالسلام، حاجی سعید انصاری، حاجی جمیل احمد بہرائچی، سرفراز ملک، محمد فیصل، راجو ملک، پروفیسر سعید انور وغیرہ نے شرکت کی۔ تمام مہمانوں کا منتظمین نے گل پوشی اور تہنیت پیش کر کے استقبال کیا۔
پروگرام کے آخر میں سرپرستِ جلسہ پیرِ طریقت حضرت سید اویس مصطفیٰ صغروی واسطی قادری بیلگرام شریف نے اپنے خصوصی خطاب و دعا سے نوازا۔ آپ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ منانا اور حضور کی سیرت کو عام کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے دلوں میں حضور ﷺ کی محبت ڈالنی چاہئے۔ آپ نے تمام حاضرین کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے اور مسلکِ اعلیٰ حضرت پر قائم رہنے کی تلقین فرمائی۔
پروگرام کا اختتام صلاۃ و سلام اور ملک و ملت کی سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔ آخر میں تمام حاضرین میں تبرک تقسیم کیا گیا۔ منتظمین نے تمام مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
