“ غزل ”
بازارِ نفرتوں میں یوں کھونے نہیں دوں گا
ہو جاؤ تم کسی کے یہ ہونے نہیں دوں گا
ہر دم بسائے رکھو گے دل میں جو میرا نام
وعدہ رہا تمہیں کبھی رونے نہیں دوں گا
خاکِ وطن کو تم نے تو ناپاک کر دیا
نفرت کے بیج اب تمہیں بونے نہیں دوں گا
آؤنگا ترے خواب میں وعدہ رہا میرا
تڑپے گا ساری رات تو سونے نہیں دوں گا
اس کائناتِ بزم میں میں اپنا اے سعیدؔ
کچھ اور رُکو بوجھ میں ڈھونے نہیں دوں گا
ثمیر سعید
متعلم: جامعہ امام ابنِ تیمیہ
مشرقی چمپارن، بہار الہند ۔۔
