Sep 13, 2026 09:46 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ہو  جاؤ تم کسی کے یہ ہونے نہیں دوں گا

ہو  جاؤ تم کسی کے یہ ہونے نہیں دوں گا

11 Sep 2026
1 min read

 

“ غزل ”

بازارِ نفرتوں میں یوں کھونے نہیں دوں گا 

ہو  جاؤ تم کسی کے یہ ہونے نہیں دوں گا 

 

ہر دم بسائے رکھو گے دل میں جو میرا نام 

وعدہ رہا  تمہیں  کبھی رونے نہیں دوں گا 

 

خاکِ وطن  کو  تم  نے  تو ناپاک  کر دیا 

نفرت کے بیج اب تمہیں بونے نہیں دوں گا 

 

آؤنگا  ترے خواب  میں  وعدہ رہا  میرا 

تڑپے گا ساری رات تو سونے نہیں دوں گا 

 

اس  کائناتِ بزم   میں  میں اپنا اے  سعیدؔ

کچھ اور رُکو بوجھ میں ڈھونے نہیں دوں گا

ثمیر سعید

متعلم: جامعہ امام ابنِ تیمیہ

مشرقی چمپارن، بہار الہند ۔۔

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)