چراغ سے چراغ تک
(قسط دوم)
Selection from Collection
جمع آوری سے انتخاب تک — انسان، علم اور تہذیب کا ازلی سفر
بختیار برکاتی، دارالحکومت دہلی ہند
انسانی تاریخ کو اگر ایک زاویے سے دیکھا جائے تو پوری داستانِ انسانیت دو الفاظ میں سمٹتی دکھائی دیتی ہے: Collection and Selection — پہلے جمع کرنا، پھر انتخاب کرنا۔ یہی علم کا سفر ہے، یہی تحقیق کا سفر ہے، یہی تہذیب کا سفر ہے، اور شاید یہی زندگی کا سفر بھی۔
کائنات اپنے اندر امکانات کا ایک عظیم ذخیرہ سموئے ہوئے ہے۔ زمین میں معدنیات، سمندروں میں مخلوقات، فضاؤں میں راز، تاریخ میں واقعات اور انسانی معاشروں میں بے شمار تجربات بکھرے ہوئے ہیں۔ آج ڈیجیٹل دور نے معلومات کا ایسا سمندر پیدا کر دیا ہے جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف جمع کر لینا ہی کمال ہے؟
اگر محض جمع آوری ہی علم ہوتی تو دنیا کا سب سے بڑا کتب خانہ سب سے بڑا دانشور ہوتا اور کمپیوٹر سب سے بڑا حکیم۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا کمال جمع کرنے میں نہیں بلکہ صحیح انتخاب کرنے میں پوشیدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک مکمل بنی بنائی دنیا نہیں دی بلکہ امکانات سے بھرپور ایک کائنات عطا کی۔ بیج موجود ہے مگر باغ انسان نے بنانا ہے، مٹی موجود ہے مگر برتن انسان نے تراشنا ہے، الفاظ موجود ہیں مگر ادب انسان نے تخلیق کرنا ہے۔ یہی انتخاب کی قوت انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے۔ جانور بھی دیکھتے اور سنتے ہیں، لیکن انسان مشاہدات سے معنی اخذ
کرتا اور تجربات سے حکمت کشید کرتا ہے۔
اگر تمام علوم کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر علم کی بنیاد دراصل Collection اور Selection پر قائم ہے۔ طبیب مشاہدات جمع کرکے علاج کے اصول اخذ کرتا ہے، فقیہ دلائل جمع کرکے حکم مرتب کرتا ہے، مورخ واقعات کو یکجا کرکے تاریخ کا دھارا متعین کرتا ہے، اور سائنس دان تجربات
کے انبار سے قوانین دریافت کرتا ہے۔ گویا ہر فن
اور ہر مہارت کی بنیاد انتخاب پر کھڑی ہے۔ آج کا دور معلومات کی کمی کا نہیں بلکہ معلومات کی فراوانی کا دور ہے۔ پہلے انسان معلومات تلاش کرتا تھا، اب معلومات انسان کا تعاقب کرتی ہیں۔ ہر لمحہ نئی خبر، نئی رائے، نیا تجزیہ اور نئی بحث سامنے آ جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں اصل مسئلہ معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ ان میں سے مفید، معتبر اور ضروری معلومات کا انتخاب کرنا ہے۔ یہیں سے علم اور حکمت کا فرق واضح ہوتا ہے۔ علم ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا میں کیا کچھ موجود ہے، جبکہ حکمت یہ سکھاتی ہے کہ ان میں سے ہمارے لیے کیا مفید ہے۔ علم امکانات دکھاتا ہے، حکمت ترجیحات متعین کرتی ہے۔ علم راستوں کی فہرست دیتا ہے، حکمت صحیح راستہ منتخب کرواتی ہے۔ انسانی تاریخ کا سب سے عظیم انتخاب انبیاء علیہم السلام نے سکھایا۔ انہوں نے حق و باطل، خیر و شر، اور نفع و نقصان کے درمیان فرق واضح کیا۔ وہ نہ ہر چیز کو رد کرنے آئے تھے اور نہ ہر چیز کو بلا تحقیق قبول کرنے۔ وہ معیار، میزان اور اصول لے کر آئے تھے تاکہ انسان خود بھی درست انتخاب کرنا سیکھ سکے۔ تہذیبیں عموماً دو انتہاؤں کا شکار ہوکر زوال پذیر ہوتی ہیں: ایک یہ کہ ہر نئی چیز کو رد کر دیا جائے، اور دوسری یہ کہ ہر نئی چیز کو بلا سوچے سمجھے قبول کر لیا جائے۔ حکمت ان دونوں کے درمیان اعتدال کا نام
ہے۔ ہر بات کو دلیل، تجربہ، عقل اور فطرت کے ترازو میں تولنا ہی دانش مندی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی خود انتخابوں کا نام ہے۔
انسان اپنے الفاظ، دوستوں، کتابوں، اساتذہ، خیالات اور طرزِ زندگی کا انتخاب کرتا ہے، اور یہی انتخاب آہستہ آہستہ اس کی شخصیت، کردار اور
تقدیر کی تشکیل کرتے ہیں۔ انسان بالآخر وہی بنتا ہے جسے وہ بار بار منتخب کرتا ہے۔ اگر "چراغ سے چراغ تک" روشنی کے تسلسل کی داستان ہے تو "Selection from Collection" اس روشنی کی سمت متعین کرنے کا نام ہے۔ چراغ روشنی دیتا ہے، لیکن آئینہ اسی روشنی کو درست سمت میں منعکس کرتا ہے۔ اسی
طرح علم روشنی ہے اور حکمت اس روشنی کا صحیح استعمال۔ آخرکار انسان کے پاس جو کچھ باقی رہ جاتا ہے وہ اس کا جمع کیا ہوا سرمایہ نہیں بلکہ اس کا منتخب کیا ہوا سرمایہ ہوتا ہے۔ وہ الفاظ جو زبان بن گئے، وہ تجربات جو شخصیت بن گئے، وہ مطالعہ جو فکر بن گیا، اور وہ روشنی جو بصیرت میں ڈھل گئی۔
کائنات ایک عظیم Collection ہے، زندگی Selection کا میدان ہے، اور کامیابی اسی شخص کا مقدر بنتی ہے جو منتشر معلومات، مختلف آراء، متنوع تجربات اور بے شمار امکانات میں سے خیر، حکمت، حقیقت اور توازن کو منتخب کرنا سیکھ لے۔
