کاٹھمانڈو: 'جین زی' شہدا کی پہلی برسی پر پروقار تقریب ملک بھر میں عام تعطیل
احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی
نمائندہ نیپال اردو ٹائمز
کاٹھمانڈو
نیپال میں گزشتہ سال ہونے والی تاریخی 'جین زی تحریک' کے شہدا کی پہلی برسی کے موقع پر دارالحکومت کاٹھمانڈو کے علاقے نیا بانیشور میں ایک پروقار یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر نیپال حکومت کی جانب سے ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ تقریب میں وزیر داخلہ سودھن گرونگ سمیت متعدد وفاقی وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ اور شہدا کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔جین زی شہدا ویلفیئر سوسائٹی' کے زیر اہتمام پرانے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں منعقدہ اس تقریب میں شریک وزراء، جن میں وزیر قانون سوبیتا گوتم اور وزیر صحت نشا مہتا شامل تھیں، نے شہدا کی تصاویر پر پھول چڑھائے اور شمعیں روشن کیں۔حکومت نے تحریک کے شہدا کی قربانیوں کی یاد میں ۸ ستمبر کو 'جین زی شہدا ڈے' قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سودھن گرونگ نے تحریک
کے نوجوانوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نوجوانوں کے خوابوں کو ادھورا نہیں چھوڑے گی اور پرانی حکومتوں کی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائے گا۔ انہوں نے روایتی سیاستدانوں کو خبردار کیا کہ وہ اس تحریک کی تاریخ کو مسخ کرنے سے باز رہیں۔ وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کے احاطے میں شہدا کی یاد میں ایک یادگاری پارک، مجسمے اور ستون بنانے کے منصوبے کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔جہاں ایک طرف حکومتی وزراء نے تقریب میں شرکت کی، وہی دوسری طرف تقریب میں اس وقت تناؤ دیکھا گیا جب شہدا کے لواحقین اور جین زی مظاہرین نے وزیر اعظم کی عدم موجودگی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا。 لواحقین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے برسی کی سرکاری تقریب میں شرکت نہ کر کے نوجوانوں کی قربانیوں کو نظرانداز کیا ہے۔ تقریب کے دوران لواحقین نے حکومت پر سست روی کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کے علاج، معاوضے کی ادائیگی اور تحریک کے دوران درج کیے گئے تمام مقدمات کی واپسی کے وعدوں کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔
سیلاب متاثرین کی امداد کا غلط استعمال نہیں ہونے دیں گے، تمام سامان حکومت کے سپرد کیا جائے گا: آر ایس پی ترجمان
احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی
نمائندہ نیپال اردو ٹائمز
کاٹھمانڈو
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد راشٹریہ سواتنتر پارٹی نے متاثرین کے لیے جمع کی جانے والی امداد کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم ترین فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی ترجمان جگدیش خاریل نے واضح کیا ہے کہ سیلاب زدگان کے لیے جمع ہونے والی تمام امداد کا غلط استعمال روکنے کے لیے اسے حکومتی نظام کے تحت ہی تقسیم کیا جائے گا۔مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس اور پارٹی سیکریٹریٹ کے فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے درج ذیل اہم اقدامات کا اعلان کیا:آر ایس پی اپنی سطح پر متوازی امدادی نظام قائم نہیں کرے گی۔ پارٹی کے مرکزی دفتر میں ملک و بیرونِ ملک سے جمع ہونے والا تمام امدادی سامان حکومت کے نامزد کردہ تقسیم کاری مراکز کے سپرد کیا جائے گا تاکہ امداد براہِ راست اور منصفانہ طور پر مستحقین تک پہنچ سکے۔آر ایس پی نے اپنے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے دوران پارٹی کا جھنڈا، لوگو یا کسی بھی قسم کا سیاسی مواد استعمال نہ کریں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ہے۔آر ایس پی نے نیپال کی دیگر تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور این جی اوز پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس قومی آفت کے وقت انفرادی تشہیر کے بجائے حکومتی نگرانی میں کام کریں، تاکہ امدادی کاموں میں نظم و ضبط برقرار رہے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا خدشہ باقی نہ رہے۔
