سیلاب متاثرین تنہا محسوس نہ کریں: وزیر اعظم بالین شاہ
احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی
نمائندہ نیپال اردو ٹائمز
کاٹھمانڈو
نیپال میں بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں کے اطراف آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد وزیر اعظم بالیندر (بالین) شاہ نے متاثرین کے نام ایک انتہائی جذباتی اور حوصلہ افزا پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے مصیبت کی اس گھڑی میں شہریوں کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ "آپ خود کو تنہا محسوس نہ کریں، ہم آپ کو اس مشکل میں پھنسے نہیں چھوڑیں گے۔پارلیمنٹ سے خطاب اور سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں وزیر اعظم بالین شاہ نے واضح کیا کہ یہ آفت صرف مخصوص اضلاع کا نہیں بلکہ پورے ملک کا سانحہ ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں، بزرگوں اور بچوں کو یقین دلایا کہ حکومت اپنے تمام تر دستیاب وسائل اور طاقت کے ساتھ ان کی مدد کے لیے میدان میں کھڑی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ریاست اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ متاثرین کی پشت
پر موجود ہے۔ کسی بھی شہری کو لاوارث یا بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جائے گا۔سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک، پینے کے صاف پانی، ادویات اور عارضی پناہ گاہوں کی فراہمی کو پہلی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر جیسے سڑکوں، پلوں اور بجلی کے نظام کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیرِ نو کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے حالیہ معجزانہ ریسکیو آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امدادی سرگرمیوں میں بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور معذور افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بچوں کے نام اپنے پیغام میں حوصلہ برقرار رکھنے اور مستقبل کی تعمیر نو پر توجہ دینے پر زور دیا۔بالین شاہ نے دن رات ریسکیو آپریشن میں مصروف نیپال فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کی خدمات
کو سراہا۔ انہوں نے مشکل وقت میں یکجہتی کا اظہار کرنے والے دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی جانب سے بڑے پیمانے پر امدادی سامان موصول ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ اس ہمالین آفت کے نتیجے میں اب تک ١،٣٤٤ سے زائد اموات کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔ وزیر اعظم نے عوام سے اتحاد، صبر اور امید کا دامن تھامے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "جسم تھک سکتا ہے لیکن ہماری ہمت ختم نہیں ہوگی، ہم کام نہیں روکیں گے۔
اقتدار کا غرور نہیں، ہر نیپالی کی امیدیں پوری کرنا میری ذمہ داری ہے: وزیر داخلہ سودھن گرونگ
احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی
نمائندہ نیپال اردو ٹائمز
کاٹھمانڈو :وزیر داخلہ سدھن گرونگ نے واضح کیا ہے کہ وہ وزارت کے عہدے کو کسی طاقت، مراعات یا غرور کا ذریعہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ہر نیپالی شہری کی امیدوں اور امنگوں کو پورا کرنے کی ایک عظیم ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حکومت ملک کے سیاسی کلچر کو تبدیل کرنے اور عوام کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔منگل، ٨ ستمبر ٢٠٢٦ کو للت پور میں 'جنریشن زی' تحریک کے دوران ہلاک ہونے والے ونود مہارجن کے مجسمے کی نقاب کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا۔اپنے خطاب میں سدھن گرونگ کا کہنا تھا، ہم حکومت میں صرف شہیدوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ہی نہیں آئے، بلکہ تمام نیپالیوں کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنا ہمارا اصل مشن ہے۔ میں یہاں کسی ذاتی مفاد یا تکبر کے لیے نہیں، بلکہ نیپال کی تعمیر نو کے سچے جذبے کے ساتھ آیا ہوں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ موجودہ حکومت ماضی کی حکومتوں کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سیکھ کر آگے بڑھے گی۔وزیر داخلہ نے پرانی سیاسی جماعتوں اور روایتی رہنماؤں کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کی تاریخی 'جنریشن زی' تحریک کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی ایک لیڈر یا گروہ کی نہیں تھی، بلکہ یہ کروڑوں نیپالیوں کی دبی ہوئی آواز تھی جس نے ملک میں تبدیلی کی بنیاد رکھی۔انہوں نے مزید کہا کہ پرانی سیاسی قوتوں کی طرف سے ڈالے جانے والے کسی بھی قسم کے دباؤ، تنقید یا رکاوٹوں کی پرواہ کیے بغیر حکومت اپنے عوامی وعدے پورے کرے گی۔ وزیر داخلہ نے عوام کو امید دلائی کہ حکومت کی پالیسیوں اور محنت کے مثبت نتائج بہت جلد ملک کے سامنے ہوں گے۔
