تعزیہ داری یا امت کی تباہی؟
ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی دھنوشا(نیپال)*
محرم الحرام
کا مبارک مہینہ آتے ہی نیپال کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گاؤں محلہ پر جوش ہوجاتا ہے، چوراہے آباد ہوتے ہیں، تعزیے بنائے جانے لگتے ہیں، جلوس نکلتے ہیں، میلے لگتے ہیں اور عوام کا ایک بڑا طبقہ ان سرگرمیوں میں غیر معمولی دلچسپی لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ نوجوانوں کا جوش، بوڑھوں کی وابستگی، عورتوں کی شرکت اور بچوں کی دل چسپی دیکھ کر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید پوری قوم محبتِ اہلِ بیت کے جذبے سے سرشار ہے،علما سے زیاد ہ انہیں کو امام حسین اور شہیدان کربلا رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے محبت ہے، لیکن جب حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس لیے کہ وہ شریعت کے خلاف اتنے کارنامے انجام دیتے ہیں کہ اللہ کی پناہ،مزید جو لوگ مروجہ تعزیہ داری اور اس کے خرافات و بدعات کے فروغ پر جس فخر سے روپے پانی کی طرح بہادیتے ہیں انہی کے محلوں کی مسجدیں نمازیوں کی قلت کا شکوہ کر رہی ہیں، انہی کے مکاتب وسائل کے فقدان سے دم توڑ رہے ہیں، انہی کے مدارس مالی بحران سے گزر رہے ہیں اور انہی کے بچے دینی و عصری تعلیم کے میدان میں دوسروں سے پیچھے رہتے دکھائی دے رہے ہیں۔ذرا غور کیجیے! ہر سال لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے تعزیہ داری، جلوسوں، آرائشوں اورتعزیہ داری کے مختلف تقریبات پر خرچ کر دیے جاتے ہیں، لیکن جب کسی مسجد کی تعمیر، کسی مکتب کے قیام، کسی مدرسے کی امداد، کسی یتیم طالبِ علم کی کفالت یا کسی دینی معلم کی تنخواہ کا معاملہ آتا ہے تو جیبیں خالی اور دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ قوم کے پاس رسموں اور خرافات کے لیے دولت موجود ہے مگر علم کے لیے نہیں؛ چند دن کی تقریبات کے لیے سرمایہ موجود ہے مگر آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے سسک رہے ہیں، ہمارے اساتذہ مالی پریشانیوں میں مبتلا ہیں، ہمارے نوجوان علمیمیدانوں میں کمزور ہیں اور ہمارا معاشرہ جہالت، بے عملی اور پسماندگی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت و عقیدت کا تقاضا بدعات و منکرات کی اشاعت و فروغ ہی ہیں یا حقیقی محبت یہ ہے کہ ان کے مشن کو عام کیا جائے ،ان کے کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے،نماز کی پابندی ہر حال میں کی جائے،اہل بیت کی پردہ نشینوں کو اپناتے ہوئے قوم کی بیٹیوں کو حیا و پردہ کا اہتما م کرنا چاہے؟یقینا یہی حقیقی اظہار محبت اور اہل بیت اطہار و شہیدان کربلا کے حضور نذرانہ محبت ہے۔مگر اس قوم کو اس سے کیا سروکار،انہیں تو مستی و سرور چاہئے،انہیں جھوم برابر جھوم کا نظارہ چاہئے،انہیں مستی کا خمار چاہئے اور شوق لذت آشنائی کی محفل چاہئے۔
اسے سنی مسمانو اور ملت اسلامیہ کے نوجوانو! کربلا کا پیغام صرف آنسو بہانے کا نام نہیں، کھیل ،کود اور تماشہ بازی کا نہیں ،بلکہ حق کے لیے کھڑے ہونے، باطل کے سامنے ڈٹ جانے، دین کی حفاظت کرنے، نماز کو زندہ رکھنے اور شریعت کی سربلندی کے لیے ہر قربانی پیش کرنے کا نام ہے۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سر تو کٹوا دیا لیکن دینِ مصطفیٰ ﷺ کے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا۔ افسوس! آج انہی کے نام پر ایسے اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں جن میں بے پردگی، اختلاط، فحاشی اور بے حیائی کے مناظر عام نظر آتے ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایسے میلوں میں شریک ہوتے ہیں جہاں حیا کا دامن تار تار ہوتا ہے، نگاہیں آلودہ ہوتی ہیں اور دل گناہوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کیا یہ اہلِ بیت کی محبت ہے یا اہلِ بیت کی تعلیمات سے دوری؟
کیا یہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشن کی خدمت ہے یا ان کے مقصد سے غفلت؟ اگر کسی عمل کے نتیجے میں نمازیں ضائع ہوں، مساجد ویران ہوں، علم کمزور ہو اور گناہ عام ہوں تو اسے محبتِ اہلِ بیت کا نامدینا خود محبتِ اہلِ بیت کے ساتھ ناانصافی ہے اور اپنی جانوں پر ظلم عظیم ہے۔ تعزیہ کے میلوں میں کیا کیا خرافات ہوتے ہیں ،کیا کیا بے حیائیاں اور برائیاں انجام دی جاتی ہیں یہ کسی سے مخفی نہیں ہے،مسلم لڑکے بھی اور غیر مسلم لڑکے بھی تعزیہ کے تماشوں میں ایک ایک فٹ اچھلتی عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کے جسم کی نمائش،سر پر لہراتے بالوں کے نظاروں،سینوں سے بغاوت کرتے دوپٹہ کی حرکت سے لطف اندوز ہوت ہیں اور پھر کچھ منچلے اس تماشہ کے بہانے لڑکیوں سے ملتے ہیں اور پیار و محبت کے گل بھی کھلاتے ہیں اور کچھ تو مذہب و خاندان کی عزت کی پرواہ کئے بغیر فرار بھی ہوجاتے ہیں۔اور حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ امام حسین اور شہیدان کربلا کی غیرپائیدار و فریب سے پر دعوائے محبت کے نام پر تعزیہ داری مع ممنوعہ و محرمہ خرافات و منکرات و مراسم کی ادائیگی کے موقع پر شراب نوشی بھی کی جاتی ہے،جلوس میں بہتیرے نوجوان شراب کے نشے دھت کرتب دیکھاتے نظر آتے ہیں،جنہیں دیکھ کر مسلمان کہنے میں بھی اہل دل کو حیا آتی ہے۔ افسوس کی انتہا تو یہ ہے کہ جب اہلِ علم، ائمۂ مساجد اور دینی رہنما اس قوم کو تعزیہ داری میں پائی جانے والی خرافات، بدعات اور منکرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح راستہ دکھاتے ہیں، محرم الحرام کی حقیقی روح اور شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصل پیغام بیان کرتے ہیں، تو بجائے اس کے کہ ان کی بات کو غور برا بھلا کہتے ہیں، ان کی نیتوں پر حملے کرتے ہیں اور عوام کو ان سے بدظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چوک چوراہوں پر کان زبان بھی کان بھی دراز ہونے لگتے ہیں،عیبجوئی کی محفلیں چائے کی دکان پر اس عالم و امام کے خلاف منعقد ہونے لگتی ہےاور کچھ سنجیدہ مزاج افراد جو امام و عالم کی حمایت و تائید میں ہوتے ہیں ان کے کان بھرنے لگتے ہیں اور انہیں ورغلانے میں پورا زور لگادیتے ہیں۔ مزید افسوس ناک بات یہ ہے کہ اگر کسی مسجد کا امام پوری دیانت داری کے ساتھ شرعی مسئلہ بیان کر دے، تعزیہ داری کی غیر شرعی رسومات کی نشاندہی کر دے یا لوگوں کو سنتِ نبوی ﷺ اور منہجِ اہلِ سنت کی طرف بلائے تو بعض مقامات پر اسی امام کو معزول کرنے، اس کی مخالفت کرنے یا اسے مسجد سے ہٹانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ گویا حق بات سننے کے بجائے حق بات کہنے والے کو ہی مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں، ان کا کام لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنا نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام پہنچانا ہے۔ جو قوم اپنے مصلحین اور خیر خواہوں کی آواز کو دبا دیتی ہے، وہ اصلاح کے دروازے خود اپنے اوپر بند کر لیتی ہے۔ اگر ہم واقعی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں حق بات سننے اور قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا،
کیونکہ کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ حق کی حمایت کی جائے خواہ وہ ہماری خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 2015 میں ضلع سرلاہی کے ایک بڑی آبادی والے قریہ کبیرہ کے ایک ادارہ میں تدریسی خدمات انجام دینے پر مامور ہوا،محرم الحرام کے موقع پر جمعہ میں بیان کردیا کہ اگر عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کا محرم الحرام میں تعزیہ کے تماشہ میں گیت گانا،اچھل اچھل کر جسم کی نمائش کرنا،دو پٹہ لہرا کر اور بلند آواز میں غیر محرموں کی موجودگی میں اور مسلم و غیر مسلم نوجوانوں کی نگاہوں کا سامان لطف و لذت فراہم کرتی ہوئیں ادائیں دیکھانا ہماری قوم کی نظروں میں درست ہے تو پھر مدرسہ کے ہم اساتذہ اس سے کیوں محروم رہیں؟آئے ہم سارے اسٹاف مدرسہ کے صحن میں کرسی لگاکر بیٹھتے ہیں اور پھر قوم کی انہیں عورتوں اور بیٹیوں کو بلا کر یہی نمائش کا موقع فراہم کیا جائے۔یہ سنتے ہی کچھ باغیرت مسلمانوں کی غیرت بیدار ہوئی اور جمعہ کے بعد مدرسہ کے صحن و برآمدہ پر خوب ہنگامہ شروع ،ایسے مفتی صاحب نے کیسے کہہ دیا؟یہ کیا بات ہوئی؟اس وقت میں مسجد میں تھا ،میرے آنے سے قبل کچھ سنجیدہ مزاج لوگوں نے کہا بھائی اگر انہوں نے اپنی طرف سے کہا ہے تو پھر کاروائی کی جائے اور اگر شریعت کی روشنی میں بات کی ہے تو ان سے بھی بڑے مفتی نیپال میں ہیں ان سے پوچھا جائے وہ کیا کہتے ہیں ؟اگر وہ تائید کردیں تو پھر اس برائی کو روکنا ہوگا۔کئی اہل علم سے پوچھا سب نے میری بات کی تائید کی اور آخر کار ہر محلہ کے سرکردہ افراد نے اس برائی کے خلاف میدان میں آگئے ۔
اے نیپال کے مسلمانوں! اپنے ضمیر سے ایک سوال ضرور کیجیے۔ جو نوجوان رات بھر تعزیہ داری کے پروگراموں میں شریک رہ سکتا ہے، کیا وہ فجر کی اذان پر مسجد تک نہیں پہنچ سکتا؟ جو شخص ہزاروں روپے تعزیوں کی سجاوٹ پر خرچ کر سکتا ہے، کیا وہ ایک غریب طالبِ علم کی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا؟ جو لوگ اہلِ بیت کی محبت کے دعوے کرتے ہیں، کیا انہوں نے کبھی اہلِ بیت کے طریقِ زندگی، ان کی عبادت، ان کے زہد، ان کے علم، ان کی دیانت اور ان کی قربانیوں کو اپنانے کی کوشش کی؟ محبت صرف نعروں کا نام نہیں، محبت اطاعت کا نام ہے۔ محبت صرف جلوس کا نام نہیں، محبت کردار کا نام ہے۔محبت صرف جذبات کا نام نہیں، محبت اتباع کا نام ہے۔ اگر ہماری سے سنا جائے اور اپنی اصلاح کی فکر کی جائے، الٹا انہی اہلِ حق کو تنقید و ملامت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بعض لوگ ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلاتے ہیں، انہیں محبت ہمیں مسجد سے جوڑنے کے بجائے دور کر دے، علم کی طرف لے جانے کے بجائے جہالت میں مبتلا کر دے اور تقویٰ پیدا کرنے کے بجائے غفلت میں ڈال دے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی ترجیحات بدلیں۔ قوموں کی ترقی تعزیوں کی اونچائی سے نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کی مضبوطی سے ہوتی ہے۔ معاشرے کی عزت جلوسوں کے ہجوم سے نہیں بلکہ علم، کردار اور اخلاق سے بنتی ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی دولت، اپنی توانائیاں اور اپنی صلاحیتیں علم، تعلیم، مساجد، مدارس اور نوجوان نسل کی تربیت پر صرف نہ کیں تو کل تاریخ ہم سے یہ سوال کرے گی کہ جب تمہارے پاس وسائل موجود تھے تو تم نے اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے کیا کیا؟ اس لیے اب بھی وقت ہے کہ ہم فضول کی وابستگیوں سے نکل کر شعوری بیداری کی طرف آئیں، رسموں کے بجائے تعلیم کو ترجیح دیں، وقتی نمائش کے بجائے دائمی تعمیر کو اختیار کریں اور اہلِ بیتِ اطہار کی محبت کو ان کے نقشِ قدم پر چل کر ثابت کریں۔ان کے ایصال ثواب کے لئے قرآن کی تلاوت کریں،درود شریف کی کثرت کریں اور صدقہ و خیرات کریں،یتیموں کا سہارا بنیں،بیواؤں کا خیال رکھیں،اپنی مسجد کے امام کی خدمت کریں،لائبریری میں دینی کتابیں فراہم کریں،جہاں پانی کی قلت ہے وہاں نل لگوادیں،جنہیں کپڑوں کی ضرورت ہے انہیں کپڑے دیدیں،جن غریب بچیوں کی شادیوں میں دقتیں ہیں انہیں مالی مدد کردیں، یہی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام ہے، یہی کربلا کا سبق ہے،یہی سچی محبت ہے اور یہی شہیدان کربلا کی بارگاہ میں بہترین اور قابل تحسین خراج عقیدت ہے اور اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔
*ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی*
