متحدہ عرب امارات میں حملہ، تین بھارتی شہری زخمی بھارت کا سخت ردعمل
مولانا مشہود خاں
لمبنی پردیش
متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں پیش آنے والے ایک تشویشناک حملے پر بھارت نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے "مکمل طور پر ناقابل قبول" قرار دیا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں سلامتی کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی نازک صورتحال کی جانب مبذول کرا دی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس حملے میں تین بھارتی شہری زخمی ہوئے ہیں، جن کی حالت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت نے اس واقعے کو نہایت سنجیدگی سے لیا ہے۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا: "یہ واقعہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے حملے فوری طور پر بند کیے جائیں اور عام شہریوں کے ساتھ ساتھ اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔" انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہمیشہ سے مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کی حمایت کرتا آیا ہے، اور موجودہ کشیدہ حالات میں بھی تحمل، بردباری اور سفارتکاری کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔ رندھیر جیسوال نے بین الاقوامی قوانین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جاری عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو ہر صورت بلا رکاوٹ جاری رہنا چاہیے، کیونکہ یہ عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ دوسری جانب، اماراتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض میزائلوں کو ان کے دفاعی نظام نے کامیابی کے ساتھ فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم اس حملے کے نتیجے میں تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافے کا عندیہ دے رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر امن، سلامتی اور سفارتی توازن کے لیے ایک نئے امتحان کی حیثیت بھی اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس حساس صورتحال میں تمام فریقین کو تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنازع کے پرامن حل کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیے تاکہ خطے کو کسی بڑے بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔مولانا مشہود خاں مشرقی
