Apr 6, 2026 01:55 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ہندوستان کی سالمیت اور ترقی میں صوفیائے کرام کا حصہ

ہندوستان کی سالمیت اور ترقی میں صوفیائے کرام کا حصہ

04 Apr 2026
1 min read

ہندوستان کی سالمیت اور ترقی میں صوفیائے کرام کا حصہ 

صوفی اکیڈمی خانقاہ سہروردیہ چشتیہ خلیل پور شریف کے زیرِ اہتمام یک روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد 

الہ آباد (پریاگ راج): صوفی اکیڈمی خانقاہ سہروردیہ چشتیہ خلیل پور شریف کے زیرِ اہتمام بعنوان “ہندوستان کی سالمیت اور ترقی میں صوفیائے کرام کا حصہ” ایک شاندار اور باوقار یک روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد چندر شیکھر آزاد پارک، الہ آباد میوزیم کے پنڈت برج موہن ویاس آڈیٹوریم میں عمل میں آیا. اس اہم علمی و فکری اجتماع کی صدارت پدم شری امریطس پروفیسر اختر الواسع نے فرمائی. ملک کے مختلف علمی و ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں، اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی.

 کانفرنس کا آغاز قرآنِ مقدس کی تلاوت سے ہوا جسے قاری محمد ابراہیم نے نہایت خوش الحانی اور اثر انگیز انداز میں پیش کیا. تلاوت نے پروگرام کو روحانیت اور سنجیدگی کی فضا عطا کی.

 صوفی اکیڈمی کے ڈائریکٹر اور کانفرنس کے کنوینر سید انوار صفی نے تمام معزز مہمانوں کا گلدستہ، شال اور نشانِ یادگار پیش کر کے استقبال کیا. انہوں نے نظامت کے فرائض بھی انجام دیے اور پروگرام کو منظم انداز میں آگے بڑھایا.

 استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر فاضل احسن ہاشمی نے شہر الہ آباد (موجودہ پریاگ راج) کی تاریخی و تہذیبی عظمت کو موضوع بنایا. انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ یہ شہر سیاسی، مذہبی، علمی، ثقافتی اور انقلابی تحریکوں کا مرکز رہا ہے. انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ پریاگ راج ہندوؤں کے لیے مقدس تیرتھ کی حیثیت رکھتا ہے مگر صوفیائے کرام نے بھی یہاں تزکیۂ نفس، حق آگہی اور خدمتِ خلق کے مراکز قائم کیے. ان خانقاہوں اور دائروں نے نہ صرف مذہبی بیداری پیدا کی بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور اخلاقی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کیا. انہوں نے کہا کہ یہی خانقاہی نظام ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی زندہ علامت ہے.

 تعارفی کلمات میں پروفیسر صالحہ رشید نے صوفیائے کرام کی عالمی شناخت پر روشنی ڈالی. انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطے اپنے صوفی بزرگوں کی نسبت سے پہچانے جاتے ہیں. ہندوستان میں بھی صوفیاء نے محبت، اخوت، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام عام کیا. انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوفی تعلیمات نے دلوں کو جوڑنے اور معاشرے کو استحکام دینے میں بنیادی کردار ادا کیا. الہ آباد کی خانقاہوں اور دائروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مراکز آج بھی روحانی تربیت اور سماجی اصلاح کا فریضہ انجام دے رہے ہیں. 

افتتاحی تقریر کرتے ہوئے پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے صوفیائے کرام کی خدماتِ خلق کو کانفرنس کے مرکزی موضوع سے جوڑا. انہوں نے کہا کہ صوفیاء نے مذہب کو محض رسم و رواج تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عملی زندگی میں نافذ کیا. انہوں نے بھوکوں کو کھانا کھلایا، بے سہارا افراد کی مدد کی، تعلیم و تربیت کے مراکز قائم کیے اور ہر طبقے کے لوگوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے. ان کے نزدیک انسانیت کی خدمت ہی اصل عبادت ہے. انہوں نے کہا کہ یہی طرزِ عمل ہندوستان کی سالمیت اور ترقی کی بنیاد بنا. 

کلیدی خطبہ دیتے ہوئے پروفیسر علیم اشرف خان نے ہندوستان کی کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ساخت پر گفتگو کی. انہوں نے کہا کہ صوفیائے کرام نے “الخلق عیال اللہ” کے نظریے کو عملی شکل دی جس کا مطلب ہے کہ تمام انسان خدا کے کنبے کا حصہ ہیں. اس فکر نے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دی. انہوں نے ہندوستان کو ایک گلدستے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کثرت میں وحدت کی جو مثال ملتی ہے اس کی بنیاد صوفی فکر اور عمل پر قائم ہے. انہوں نے زور دیا کہ آج کے دور میں بھی اسی فکر کی ضرورت ہے تاکہ قومی یکجہتی کو مضبوط بنایا جا سکے. 

مہمان خصوصی پروفیسر مسعود انور علوی نے اپنے خطاب میں عالمی منظرنامے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں جب ظلم، جبر اور استبداد نے سر اٹھایا تب صوفیائے کرام نے انسانیت کی حفاظت کے لیے آواز بلند کی. انہوں نے اخلاقی اقدار کی بحالی اور عدل و انصاف کے قیام میں اہم کردار ادا کیا. انہوں نے کہا کہ تصوف ہمیشہ امن، صبر اور استقامت کا پیغام دیتا رہا ہے. مہمانِ اعزازی پروفیسر عمر کمال الدین نے صوفیائے کرام کی روحانی زندگی اور باطنی مجاہدات پر روشنی ڈالی. انہوں نے کہا کہ صوفی بزرگ سخت ریاضتوں اور مجاہدات سے گزر کر اپنے نفس کو پاک کرتے تھے. ان کی زندگی خاکساری، عاجزی، محبت اور مساوات کا عملی نمونہ تھی. انہوں نے حق و باطل کے معرکے میں ہمیشہ حق کا ساتھ دیا اور اخوت و ہمدردی کے جذبات کو فروغ دیا. یہی اوصاف انہیں معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بناتے ہیں.

 صدارتی خطبہ دیتے ہوئے پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے تصوف کی جامع اور متوازن فکر پر تفصیل سے گفتگو کی. انہوں نے کہا کہ شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج تصوف میں نظر آتا ہے. تصوف انسان کے باطن کو سنوارتا ہے اور اسے خدا سے جوڑتا ہے ساتھ ہی انسانوں کے درمیان محبت اور ہم آہنگی پیدا کرتا ہے. انہوں نے کہا کہ دین کا اصل پیغام توحید اور وصل ہے نہ کہ تفریق اور تقسیم. صوفی روایات نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی اور ثقافتی تعامل کو فروغ دیا.

 

اسی موقع پر سید انوار صفی کی تصنیف “عہدِ حاضر میں تصوف کی معنویت” کی رسمِ اجرا بھی انجام پائی جس میں تصوف کے عصری تقاضوں اور فکری پہلوؤں پر مقالات شامل ہیں. حاضرین نے اس کتاب کو موجودہ دور میں تصوف کی اہمیت کے حوالے سے ایک اہم اضافہ قرار دیا. آخر میں ڈاکٹر شبیب انور علوی نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا. بعد ازاں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا اور پھر محفلِ قوالی منعقد ہوئی جس میں قوال غفران اسلمی اور ان کی ٹیم نے روح پرور کلام پیش کیا اور سامعین کو محظوظ کیا. اس موقع پر کو کنوینر ڈاکٹر ناظر حسین، ڈاکٹر محمد ریحان، سید اکرام صفی سمیت شہر الہ آباد کی متعدد علمی، ادبی، سماجی اور سیاسی شخصیات موجود تھیں. پروفیسر علی احمد فاطمی، ڈاکٹر نیلوفر حفیظ، ڈاکٹر ظفر اللہ انصاری، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر محمد شہباز، ڈاکٹر رانی حفیظ، ڈاکٹر طالب اکرام، ڈاکٹر جاوید احسن مشہود انور علوی، اختر ملک، فاروق اعظمی، نواب فاروقی، رکن الدین، صبا نعیم، زینب شمس، محمد امجد، زبیر حسن، سید محمود عالم، محمد عسکری، علی اختر مصباحی، محمد اشرف برکاتی، محمد زاہد، محمد قیصر، محمد گلشیر، شاہنواز عطاری، وجہ القمر، محمد دانش، غلام نبی، اختر رضا، سید رحمت علی، سید ثقلین، محمد اکرم، ثرمدی، نظامی، گُل کے علاوہ شہر کے ائمہ مساجد و اساتذۂ مدارس و دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی. الہ آباد یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز اور بی اے، ایم اے کے طلبہ و طالبات کی نمایاں تعداد موجود رہی. 

خانقاہ سہروردیہ چشتیہ خلیل پور شریف کے معتقدین، محبین اور مریدین کی بڑی تعداد کی وجہ سے آڈیٹوریم مکمل طور پر بھر گیا جو اس کانفرنس کی کامیابی اور عوامی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے.

 یہ کانفرنس اپنے موضوع کی معنویت، مقررین کی علمی گہرائی اور شرکاء کی بھرپور شرکت کے سبب نہایت کامیاب رہی اور اس نے ہندوستان کی سالمیت اور ترقی میں صوفیائے کرام کے کردار کو واضح اور مؤثر انداز میں اجاگر کیا.

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383