Apr 5, 2026 06:50 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
وزیر اعظم بنتے ہی ایکشن میں بالین شاہ،سابق وزیر اعظم وزیر داخلہ سمیت کئی اعلی رہنما گرفتار

وزیر اعظم بنتے ہی ایکشن میں بالین شاہ،سابق وزیر اعظم وزیر داخلہ سمیت کئی اعلی رہنما گرفتار

02 Apr 2026
1 min read

وزیر اعظم بنتے ہی ایکشن میں بالین شاہ،سابق وزیر اعظم وزیر داخلہ سمیت کئی اعلی رہنما گرفتار

نمائندہ نیپال اردوٹائمز

احمدرضاابن عبدالقادراویسی

کاٹھمانڈو

نیپال میں نئی حکومت کی تشکیل کے چند منٹ بعد ہی بڑا سیاسی بھونچال آگیا ہے۔ پولس نے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور نیپالی کا نگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو گرفتار کر لیا ہے۔ دونوں اعلیٰ رہنماؤں پر ستمبر میں جین زی احتجاج کو دبانے سے متعلق مجرمانہ غفلت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بالین شاہ کے جمعہ کو وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلی بڑی کارروائی ہے۔ کے پی اولی کی گرفتاری چین کے لیے بھی پریشان کن ہے کیونکہ اولی کا جھکاؤ ہمیشہ چین کی طرف رہا ہے۔ یہ کارروائی بالین شاہ کے جمعہ کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے کے ٹھیک ایک دن بعد ہوئی ہے۔ تاہم بالین شاہ کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ یہ گرفتاری پہلے ہی وزارت داخلہ کیطرف سے درج کرائی گئی ایک با ضابطہ شکایت کے بعد کی گئی ہے۔ اس شکایت کی بنیاد پر تفتیش شروع کی گئی اور بعد ازاں عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اسپیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے کی گئی۔ کھٹمنڈو پوسٹ کی ایک پورٹ کے مطابق یہ کمیشن خصوصی عدالت کے سابق حج گوری بہادر کار کی کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اپنی رپورٹ میں کمیشن نے اولی، رمیش لیکھک اور اس وقت کے پولس سربراہ چندر کبیر کھا پونگ کے خلاف قومی تعزیرات ہند کی دفعہ 181 اور 182 کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی۔ ان دفعات کے تحت قصور وار ٹھہرائے جانے پر زیادہ سے زیادہ 10 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔گرفتاریوں سے قبل حکومت اور سکیورٹی اداروں کے درمیان مسلسل میٹنگوں کا سلسلہ جمعہ کی رات گئے تک جاری رہا۔ وزیر داخله سودن گرونگ نے سیکورٹی سربراہوں کے ساتھ وسیع تبادلہ خیال کیا۔ سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری

قانون بھی پولیس ہیڈ کوارٹرز پہنچے تھے جہاں مزید کارروائی کی حتمی منظوری دی گئی۔ بالین شاہ کی قیادت والی حکومت نے جمعہ کو کابینہ کے اجلاس میں کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی وقت ان ہائی پروفائل گرفتاریوں کا راستہ واضح ہو گیا تھا۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383