علم اور خلوص کا حسین سنگم: ڈاکٹر فاضل احسن ہاشمی
سید انوار صفی (صفی ابن صفی)
فاؤنڈر اینڈ ڈائریکٹر:
صوفی اکیڈمی خانقاہ سہروردیہ چشتیہ خلیل پور شریف الہ آباد پریاگ راج
اردو ادب کے افق پر ڈاکٹر فاضل احسن ہاشمی ایک ایسا درخشندہ نام اور علم و دانش کا وہ روشن مینار ہیں جن کی تحریریں گہرے شعور، فکرِ رسا اور دلنشین اسلوب کا ارفع شاہکار ہیں. ان کا شمار عصر حاضر کے ان چیدہ چیدہ محققین اور سخن فہموں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی گراں قدر تحقیقی کاوشوں اور بے مثال علمی جستجو سے اردو ادب کی ثروت میں گراں بہا اضافہ کیا ہے. بالخصوص مرثیہ نگاری کے نازک رموز، کلاسیکی شاعری کے لا فانی اسرار اور قدیم شعری روایات کی تہوں میں چھپے ادبی جواہر کو جس سلیقے اور دیانت داری سے انہوں نے بے نقاب کیا ہے اس نے علم و ادب کی بزم کو ایک نئی وسعت اور سحر انگیز روشنی بخشی ہے. الہ آباد کی تاریخی، علمی اور تہذیبی مٹی کے خمیر سے پھوٹنے والی ان کی اس بے پناہ علمی بصیرت نے نہ صرف ماضی کے دھندلکوں میں گم اور فراموش کردہ عظیم اساتذہ سخن کے شعری و نثری اثاثوں کو دوبارہ زندہ جاوید کر کے ادبی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے بلکہ اپنے سحر انگیز و مقناطیسی قلم کے ذریعے علم و فن کے متلاشیوں اور قارئین کے دلوں پر بھی ایک سدا بہار اور ان مٹ نقش چھوڑا ہے.
وہ محض روایتی معنوں میں ایک محقق یا قلمکار نہیں ہیں بلکہ وہ اردو زبان کی شعری، نثری اور تہذیبی روایات کے ایک سچے، معتبر اور نہایت باوقار پاسبان ہیں. ان کی اس علمی و ادبی جلالت علمی کے متوازی ان کی شخصیت کا ایک نہایت دلکش، سحر انگیز اور قابل رشک پہلو ان کی بے پناہ شفقت، بے لوث محبت اور بے مثال عاجزی ہے. یوں تو ان کی عالی وقار محفل میں بیٹھنے اور ان سے اکثر و بیشتر ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے اور میں ہمیشہ سے ہی ان کے دل موہ لینے والے اخلاق، ان کی پدرانہ شفقت اور بے غرض محبتوں کا دل سے قائل رہا ہوں لیکن حال ہی میں ہونے والی ہماری ملاقات کا رنگ بالکل منفرد، سحر آفریں اور ہمیشہ کے لیے یادگار تھا. جب یوم اساتذہ (ٹیچرز ڈے) کے اس پروقار اور تاریخی موقع پر مجھے ان کی خدمت عالیہ میں حاضر ہونے کی سعادت ملی تو ان کی عظیم اور مثالی شخصیت کی فطری سادگی، انکساری اور اعلیٰ ظرفی ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ کھل کر سامنے آئی. ایک بزرگ، رہنما اور معتبر علمی شخصیت ہونے کے ناطے اخلاقی اور روایتی طور پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میں آگے بڑھ کر ان کا پرجوش استقبال کرتا لیکن ان کی خاندانی وضع داری، بے پناہ شرافت اور مہمان نوازی کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے خود تمام روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آگے بڑھ کر ایک خوبصورت اور تروتازہ گلدستہ پیش کر کے مجھ حقیر کا استقبال کیا. ان کی زبان فیض ترجمان سے نکلنے والی پرخلوص دعاؤں، علم و حکمت سے لبریز مخلصانہ گفتگو اور لازوال محبتوں کے اس دریا نے مجھے اس قدر سرفراز، ممنون اور جذباتی کر دیا کہ وہ حسین لمحہ، وہ یادگار دن اور وہ سحر انگیز ملاقات میرے دل کے نہاں خانے اور حافظے کے پردے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نقش ہو کر رہ گئی ہے.
