خراجِ تحسین بحضور: حضرت مولانا عبد الودود صاحب حبیبی اشرفی علیہ الرحمہ
محتاجِ دعا:قاری رئیس احمد خان چرہ محمد پور، فیض آباد ضلع ایودھیا، یوپی، انڈیا
بموقع: فاتحۂ چہلم
اودھ کی قدیم راجدھانی فیض آباد کی مرکزی جامع مسجد ٹاٹ شاہ، فنِ تعمیر کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ یعنی یہ مسجد فنِ تعمیر کا وہ اعلیٰ نمونہ اور عظیم شاہکار ہے جو دیکھنے والوں کی آنکھوں کو اس قدر متاثر کرتا ہے کہ وہ خیرہ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس مسجد کو شاہانِ زمانہ نے نہیں، بلکہ الحمدللہ فیض آباد کے خوش عقیدہ مسلمانوں نے تعمیر کرایا ہے۔ مبارک ہو! کبھی آپ بھی تشریف لائیں اور دیکھیں؛ فنِ تعمیر کی دلکشی سے آپ کی بھی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی، اور جب آپ جامع مسجد ٹاٹ شاہ میں نماز ادا کرنے کے لیے داخل ہوں گے تو آپ کے قلب و جگر کو وہ راحت افزا سکون میسر ہوگا جسے آپ شاید لفظوں میں بیان نہ کر سکیں۔
قلبِ شہر میں بنی ہوئی اس مسجد سے مؤذن صدائے توحید و رسالت بلند کرتے ہوئے نمازِ پنجگانہ باجماعت ادا کرنے کے لیے جب اذان دیتا ہے تو شہر کے نمازی کشاں کشاں مسجد کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔
سمسجدیں سب کو بلاتی ہیں بھلائی کی طرف
آئیں نہ آئیں، پکارے تو سبھی جائیں گے
یہی وہ مرکزی جامع مسجد ٹاٹ شاہ ہے، جہاں منصبِ امامت کے لیے حضور مجاہدِ دوراں حضرت علامہ سید مظفر حسین کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادِ عالیہ پر نائب مفتیِ اعظم، شارحِ بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا عبد الودود صاحب علیہ الرحمہ کا انتخاب فرمایا۔ بعدِ انتخاب، حضور مجاہدِ دوراں علیہ الرحمہ نے دیگر اکابر علمائے کرام و مشائخِ اہلسنت اور مسجد انتظامیہ سے باہم
مشاورت کے بعد حضرت مولانا عبد الودود صاحب علیہ الرحمہ کو اسی مرکزی جامع مسجد
ٹاٹ شاہ کے منصبِ امامت پر فائز فرما دیا۔
حضرت مولانا عبد الودود صاحب علیہ الرحمہ نے مذکورہ بزرگانِ اہلسنت کے حکم کو بسر و چشم قبول کرتے ہوئے مرکزی جامع مسجد ٹاٹ شاہ، فیض آباد کے منصبِ امامت کو سنبھال لیا۔ حضرت موصوف علیہ الرحمہ نے منصبِ امامت پر فائز ہونے کے بعد اسلام و سنیت اور محسنِ انسانیت، رحمتِ عالم ﷺ کی تعلیمات کی فیض آباد میں ایسی شمع جلائی کہ جس کی روشن اور منور کرنوں سے آج بھی اہلِ فیض آباد مستفیض ہو رہے ہیں اور آئندہ بھی ان شاء اللہ مستفیض ہوتے رہیں گے۔بقولِ خاکسار، سابق امام ٹاٹ شاہ، فقیہ و پیر حضرت مولانا عبد الودود صاحب علیہ الرحمہ کی نذر ہے کہ:
نعرہ رسولِ پاک کا جب جب لگائیں گے
ہم آپ کو ضرور وہاں یاد آئیں گے
کچھ آنکھوں دیکھے حال اور کچھ بزرگانِ اہلسنت کی روایات کے مطابق خاکسار، سابق امام ٹاٹ شاہ کے احوال کو قارئین کی نذر کر رہا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
احبابِ گرامی! جب خاکسار پہلی مرتبہ بطورِ خاص چرہ محمد پور سے جامع مسجد ٹاٹ شاہ، فیض آباد، نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لیے حاضر ہوا تو اس وقت منصبِ امامت پر جماعتِ اہلسنت کے معروف عالمِ دین، فاضلِ جلیل حضرت مولانا عبدالقیوم صاحب بہاری علیہ الرحمہ فائز تھے۔ بعدِ نماز امامِ موصوف سے خصوصی ملاقات کی اور ان سے دعائیں لے کر واپس تو ضرور ہوا، لیکن اسی وقت سے جامع مسجد ٹاٹ شاہ میں ضرورتاً آنا جانا لگا رہا، اور وہ سلسلہ الحمدللہ آج بھی جاری ہے، آئندہ بھی ان شاء اللہ جاری رہے گا۔ اکابرینِ اہلسنت کی نگاہِ انتخاب کو سلام: حضرت مولانا عبد الودود صاحب حبیبی اشرفی رائے بریلوی جب مرکزی جامع مسجد ٹاٹ شاہ، فیض آباد کے منصبِ امامت کے فرائض انجام دینے کے لیے تشریف لائے تو وہ زمانہ ان کے عہدِ شباب کا تھا۔ ماشاء اللہ! بڑے ہی خوب رو نوجوان تھے، جن کی چمکتی دمکتی پیشانی سے ان کی نیک سیرتی کی صرف عکاسی ہی نہیں ہو رہی تھی، بلکہ ان کے چھپے ہوئے اوصاف بھی نمایاں ہو رہے تھے؛ جسے اہلِ فیض آباد نے آنے والے دنوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کے کارناموں سے ایسا متاثر ہوئے کہ جو ان سے دور تھے، وہ قریب ہوگئے، اور جو قریب تھے، وہ ان کے دل میں اتر گئے۔حضرت موصوف علیہ الرحمہ میں بہت ساری خوبیاں تھیں۔ وہ ایک باصلاحیت فقیہ، باوقار عالمِ دین، اچھے مدرس اور لاجواب خطیب بھی تھے۔ انتظامی امور میں ایسی مہارت رکھتے تھے کہ نہ پوچھیے! یہی وجہ تھی کہ ان کے عہد میں ضلع کے تمام ائمۂ مساجد، نظمائے مدارس، اساتذۂ مدارس اور عوام و خواصِ اہلسنت سب ان پر اعتماد کرتے
تھے۔ انہیں جب بھی کوئی اہم فیصلہ لینا ہوتا تو وہ بھی علمائے اہلسنت کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ ان کے کیے ہوئے فیصلے کو اپنے اور پرائے سبھی محبت سے قبول کرتے۔
چاہے وہ کوئی قضائی معاملہ ہو یا رؤیتِ ہلال کا مسئلہ، ان کا فیصلہ حرفِ آخر ہوتا۔ انہی سب خوبیوں کی وجہ سے وہ دیگر ائمۂ مساجد کے درمیان ہمیشہ ممتاز نظر آتے تھے۔
حضرت مولانا عبد الودود صاحب حبیبی اشرفی علیہ الرحمہ کی خدمات کی ایک طویل داستان ہے، جسے صرف ایک مضمون میں قلم بند کر پانا کم از کم میرے لیے بہت مشکل ہے، چونکہ ان کے سنہرے کارنامے صرف فیض آباد ہی میں نہیں، بلکہ ملک کے طول و عرض اور بیرونِ ملک میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔
موصوف مختلف درسگاہوں سے علوم و فنون حاصل کرتے رہے اور آخرش جامعہ عربیہ انوار القرآن، بلرام پور سے فارغ التحصیل ہوئے۔ بعد از فراغت وہیں سے بحیثیتِ مدرس اپنی خدمات کا آغاز کیا، اور ان کی خدمات کا جو سلسلہ چلا تو الحمدللہ تادمِ حیات چلتا ہی رہا، جو آپ سبھی حضرات کے سامنے ہے۔حضرت نے اپنی پوری زندگی اسلام و سنیت اور انسانیت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ جہاں جاتے، اپنے حصے کا کام کرتے اور سنہرے کارناموں کے ایسے گہرے نقوش ثبت کرتے جو بعد میں آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہوتے۔
حضرت مولانا عبد الودود صاحب علیہ الرحمہ جہاں ایک اچھے، لائق و فائق مدرس، باصلاحیت عالمِ دین، فقیہ اور خطیب تھے، وہیں وہ ایک بہترین سیاست داں بھی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ صرف مذہبی حلقوں میں
ہی مقبول و محبوب نہیں تھے، بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی بہت ہی مقبول و محبوب تھے۔ اسی بنا پر ان کے عہد کے سیاسی عمائدین بھی ان کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔یہی حال حضرت کا اپنے معاصرین خطبائے اہلسنت کے درمیان بھی رہا کہ جس اسٹیج پر حضرت ہوتے تو بس آپ ہی آپ ہوتے۔ ماشاء اللہ! کیا ہی ان کی خطابت کا منفرد انداز تھا! ان کے اسلوبِ بیان سے سامعین ایسا متاثر ہوتے کہ نہ صرف ان کی تقریر سنتے، بلکہ برسوں اسے یاد بھی رکھتے۔
حضرت مولانا عبد الودود صاحب علیہ الرحمہ نے اپنے عہدِ شباب کے سولہ برس علم و ادب کے شہر فیض آباد میں جو قیمتی لیل و نہار گزارے ہیں اور اس شہرِ غزل میں اسلام و سنیت کے حوالے سے کارناموں کے جو گہرے نقوش چھوڑے ہیں، وہ اگر آبِ زر سے لکھے جائیں تو بھی کم ہوگا۔
مرکزی جامع مسجد ٹاٹ شاہ، فیض آباد، اور یہاں کے ائمۂ کرام کی خدمات کے حوالے سے جب بھی مورخ لکھے گا تو اس میں حضرت مولانا عبد الودود صاحب حبیبی اشرفی رائے بریلوی کے سنہرے کارناموں کو جلی حروف میں ضرور لکھے گا، اور اگر نہیں لکھے گا تو مرکزی جامع مسجد ٹاٹ شاہ، فیض آباد، اور یہاں کے ائمۂ کرام کی خدمات کی تاریخ نامکمل تصور کی جائے گی۔
حضرت مولانا عبد الودود صاحب علیہ الرحمہ کی سوانحِ حیات کے حوالے سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے لیے ان کے مداح و معتقدین "سوانحِ حیاتِ شیخ الہند" کا ضرور مطالعہ کریں اور اہلِ عقیدت، حضرت اور حضرت کے مرشد و مجاز، سلطان الواعظین حضرت علامہ مولانا پیر سید کمیل اشرف
اشرفی الجیلانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض سے اپنے آپ کو بھی خوب خوب فیضیاب کریں۔ حضرت موصوف علیہ الرحمہ کے بعد دارالعلوم نورالحق، چرہ محمد پور، فیض آباد، ضلع ایودھیا کے شیخ الادب حضرت مولانا محمد کمال اختر صاحب قادری رضوی کے والدِ محترم حضرت مولانا قطب الدین صاحب حشمتی علیہ الرحمہ مرکزی جامع مسجد ٹاٹ شاہ، فیض آباد میں منصبِ امامت پر فائز ہوئے اور وہ بھی طویل عرصہ تک رہ کر اپنے تمام تر فرائض کو بحسن و خوبی سرانجام دیتے رہے۔
علالت کے باعث حضرت اپنے آبائی گاؤں چلے گئے اور اب وہیں آسودۂ خواب ہیں۔ اللہ رب العزت اپنے محبوب ﷺ کے صدقے ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام تر خدمات کو قبول فرما کر انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ علاوہ ازیں دیگر سابق ائمۂ کرام علیہم الرحمہ کی بھی بال بال مغفرت فرمائے اور ان حضرات کی بھی خدمات کو قبول فرما کر کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین!
احبابِ گرامی! مضمون کے آخر میں یہ خاکسار بھی اپنی خوش نصیبی کا ذکر کرتے ہوئے اظہارِ مسرت اس لیے کر رہا ہے کہ جب بھی حضرت مولانا عبد الودود صاحب علیہ الرحمہ کے توسط سے حضور مجاہدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کی فیض آباد آمد ہوتی تو اس خاکسار کو بھی حضور مجاہدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کا دیدار کرنے اور دعائیں لینے کے اکثر مواقع میسر آتے رہے۔
اور اسی پر بس نہیں ہے، خاکسار کے لیے خوشی بالائے خوشی کی بات یہ بھی رہی کہ جب تجوید و قراءت کی تکمیل ہوئی تو حضور
مجاہدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ مبارک سے اس خاکسار کے سر پر دستارِ قراءت بھی رکھی گئی۔ سبحان اللہ!
رفیقانِ گرامی! ہم سب کے لیے یہ دنیا دارالعمل ہے، لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی کے لیے ہمہ وقت اپنے اپنے حصے کا کام کرتے رہیں، چونکہ ایک دن وہ ضرور آئے گا کہ ہم سب کو یہ فانی دنیا چھوڑنی پڑے گی۔
حضرت مولانا عبد الودود صاحب علیہ الرحمہ کے لیے بھی وہ دن آیا کہ وہ بھی اس فانی دنیا کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے اہلِ خانہ، معتقدین اور مداحوں کو چھوڑ کر چلے گئے، اور اب وہ اپنے آبائی گاؤں بکسراوں میں قائم خانقاہِ اشرفیہ مخدومِ ثانی کے احاطۂ نور میں آسودۂ خواب ہیں۔
حضرت تو نہیں رہے، لیکن وہ اپنے کارناموں کی بنیاد پر ہمیشہ زندہ رہیں گے، اور ان کے مداح ان کے کارناموں کو یاد کرکے محبت سے حضرت کا تذکرہ بھی کرتے رہیں گے، جو ان کی روح کے لیے تسکین کا باعث ہوگا۔
بارگاہِ عبد الودود علیہ الرحمہ میں خاکسار کی جانب سے بطورِ خراجِ تحسین یہ شعر نذر ہے:
اکیلا ہوں مگر آباد کر دیتا ہوں ویرانہ
بہت روئے گی میرے بعد میری شامِ تنہائی
آئیے! ہم سب مل کر حضرت مولانا عبد الودود صاحب حبیبی اشرفی علیہ الرحمہ کے لیے دل سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کے صدقے ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی تمام تر خدمات کو قبول و مقبول فرما کر انہیں ہر پل جنت الفردوس کی بہاریں نصیب فرمائے اور حضرت کے فرزندان کو ان کا سچا جانشین و وارث بنائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ
محتاجِ دعا:قاری رئیس احمد خان
چرہ محمد پور، فیض آباد ضلع ایودھیا، یوپی، انڈیا
