= *اتحاد کی سخت ضرورت* =
محمد نورالقمرنورانی قادری
آج کا دور فتنوں، انتشار اور باہمی اختلافات کا دور بن چکا ہے۔ خاص طور پر ہماری جماعت کے اندر جس قدر اختلافات اور دوریاں پیدا ہو گئی ہیں، وہ نہایت افسوسناک ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے، وہاں ہم ایک دوسرے کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ حقیقت نہ صرف ہماری کمزوری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ہماری ترقی کی راہوں کو بھی مسدود کر رہی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو قومیں متحد رہیں، وہ ہمیشہ عروج پر پہنچیں، اور جو آپس میں بٹ گئیں، وہ زوال کا شکار ہوئیں۔ اتحاد ایک ایسی طاقت ہے جو کمزور کو بھی مضبوط بنا دیتی ہے، جبکہ اختلاف ایک ایسی کمزوری ہے جو مضبوط کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ اسی لیے ہمارے اکابرین نے ہمیشہ اتحاد و اتفاق پر زور دیا ہے۔ حضور حافظِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ سنہری قول کہ “اتحاد زندگی ہے اور اختلاف موت” ہمارے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ جب ایک گھر کے افراد آپس میں محبت اور اتحاد کے ساتھ رہتے ہیں تو وہ گھر سکون اور خوشحالی کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں اختلاف، لڑائی جھگڑا اور نفرت ہو، وہاں بے سکونی اور تباہی جنم لیتی ہے۔ یہی حال ایک گاؤں، ایک ادارے اور پوری قوم کا ہوتا ہے۔ جب تک اتحاد نہیں ہوگا، ترقی ممکن نہیں۔ بدقسمتی سے آج ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑا بنا کر اپنے درمیان دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔ انا، حسد، اور ذاتی مفادات نے ہمیں اس حد تک تقسیم کر دیا ہے کہ ہم اجتماعی مفاد کو بھول بیٹھے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ہم اسی طرح آپس میں الجھتے رہے تو ہمارا نقصان کون پورا کرے گا؟ یقیناً اس کا فائدہ ہمارے مخالفین کو ہی ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف کریں، ایک دوسرے کو معاف کریں، اور بڑے مقصد کے لیے متحد ہو جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اختلاف رائے کو برداشت کریں، لیکن اسے دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ اپنے بڑوں کی تعلیمات کو یاد رکھیں اور اپنی جماعت کی بھلائی کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں۔ محمد نورالقمرنورانی قادری موبائل نمبر 9918488253
