مدارسِ نسواں کو تربیتِ نسواں کی ضرورت
www.nepalurdutimes.com
آج کے دور میں مدارسِ نسواں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو بظاہر ایک خوش آئند بات ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جہاں ہماری بہنیں اور بیٹیاں دینی تعلیم حاصل کرتی ہیں، قرآن و حدیث سیکھتی ہیں، اور اسلامی زندگی گزارنے کا شعور حاصل کرتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف تعلیم کافی ہے؟ یا اس کے ساتھ تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مدارسِ نسواں کا قیام صرف اس لیے نہیں ہوا تھا کہ طالبات کو سند دے دی جائے، بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ وہ دین کو سمجھ کر اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں اور معاشرے کی دیگر خواتین کے لیے ایک مثالی کردار بنیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بعض جگہوں پر ہم اس مقصد سے دور ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا رجحان ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ بعض طالبات یا عالمات کی ایسی ویڈیوز اور سرگرمیاں سامنے آتی ہیں جو دینی وقار، حیا اور سنجیدگی کے خلاف محسوس ہوتی ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف تشویش کا باعث ہے بلکہ اس سے مدارسِ نسواں کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ سب جگہ نہیں ہو رہا، لیکن جہاں ہو رہا ہے وہاں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ علم بغیر تربیت کے ادھورا ہے۔ اگر طالبہ کے اندر حیا، تقویٰ، اور ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہوا تو محض کتابی علم اس کے لیے اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ مدارس میں تربیت کو بنیادی حیثیت دی جائے۔ اساتذہ اور منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف نصاب مکمل کروانے پر اکتفا نہ کریں بلکہ طالبات کی عملی زندگی، اخلاق اور سوشل رویے پر بھی نظر رکھیں۔ موبائل فون اور سوشلمیڈیا کے استعمال کے لیے واضح اصول و ضوابط مقرر کیے جائیں، خاص طور پر مدرسہ کے اندر ویڈیو بنانے یا غیر ضروری نمائش پر سختی سے پابندی ہونی چاہیے۔
اسی کے ساتھ طالبات کو یہ شعور دیا جائے کہ وہ دین کی نمائندہ ہیں۔ ان کا ہر عمل اسلام کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اگر وہ سنجیدگی، حیا اور وقار کو اپنائیں گی تو معاشرہ خود بخود ان سے متاثر ہوگا، اور اگر وہ خود ہی غیر سنجیدہ رویہ اختیار کریں گی تو اس کا نقصان پورے دینی ماحول کو ہوگا۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مدارسِ نسواں کی اصل کامیابی عمارتوں یا تعداد میں نہیں بلکہ کردار سازی میں ہے۔ ہمیں ایسی خواتین تیار کرنی ہیں جو علم کے ساتھ عمل، اور تعلیم کے ساتھ تربیت کا حسین امتزاج ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف مدارس کا وقار برقرار رہے گا بلکہ معاشرہ بھی حقیقی دینی روشنی سے منور ہوگا۔
محمد نورالقمرنورانی قادری
موبائل نمبر 9918488253
