دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف میں جشنِ افتتاحِ بخاری شریف
(نیپال اردو ٹائمز پریس ریلیز)
تھار کی سنہری ریت جب شام کی نرم روشنی میں ڈھلتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اس نورانی محفل کے استقبال میں سایہ فگن ہوں- اسی دلآویز وروحانی فضا میں 25 شوال المکرم 1447ھ مطابق 15 اپریل 2026ء بروز چہارشنبہ، دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف کی عظیم الشان غریب نواز مسجد ایک بار پھر علم و عرفان کے انوار سے جگمگا اٹھی۔ موقع تھا “جشنِ افتتاحِ بخاری شریف” کا، اور یہ بابرکت مجلس نورالعلماء، پیرِ طریقت حضرت علامہ الحاج سید نور اللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی تھی۔
فضا میں ایک عجیب سا سکون اور تقدس رچا ہوا تھا۔ جیسے ہی تلاوتِ کلامِ ربانی کی پُرکیف صدائیں بلند ہوئیں، دلوں کی دھڑکنیں بھی آہستہ آہستہ اس نورانی آہنگ میں ڈھلنے لگیں۔ قرآنِ مجید کی تلاوت نے محفل کو ایک ایسی روحانی چادر میں لپیٹ دیا جس میں ہر سمت خشوع و خضوع کی کیفیت نمایاں تھی۔
پھر یکے بعد دیگرے دارالعلوم کے خوش الحان اور باوقار طلبہ نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعت کے گل ہائے عقیدت پیش کیے۔ ہر صدا میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی حرارت تھی، ہر لفظ میں عقیدت کا چراغ روشن تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دلوں کی گہرائیوں سے اٹھنے والی یہ صدائیں عرش تک رسائی حاصل کر رہی ہوں۔
اس کے بعد مجودِ عصر حضرت مولانا قاری محمد جاوید سکندری انواری اور خوش الحان واصفِ شاہِ ہدیٰ حضرت حافظ و قاری مولانا برکت علی برکاتی احسنی انواری نے سندھی و اردو کے دلنشیں امتزاج میں ایسا نعتیہ کلام پیش کیا کہ محفل پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی۔ سامعین کی نگاہیں جھک گئیں، دلپگھلنے لگے اور فضا میں درود و سلام کی مہک گھل گئی۔
پھر جب حضرت مولانا محمد حسین قادری انواری نے لب کشائی کی تو ان کے الفاظ میں سادگی بھی تھی اور تاثیر بھی۔ انہوں نے مختصر مگر جامع انداز میں درسِ بخاری کی عظمت کو اجاگر کیا اور حاضرینِ مجلس کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے بعد حضرت مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی نے نہایت متین اور بلیغ انداز میں مختصر خطاب فرمایا، جس میں علم و ادب کی خوشبو نمایاں تھی۔
اب وہ گھڑی آن پہنچی جس کا سب کو انتظار تھا۔ محفل کی نگاہیں ایک سمت مرکوز ہو گئیں جب شہزادۂ مفتیٔ تھار، حضرت مولانا عبد المصطفیٰ نعیمی سہروردی کو افتتاحِ بخاری شریف کے لیے مدعو کیا گیا۔ آپ کا وجود خود ایک علمی وقار اور روحانی جلال کا مظہر تھا۔آپ نے گفتگو کا آغاز حضرت امام بخاری علیہ الرحمہ کے تذکرے سے کیا۔ الفاظ رواں تھے، انداز دلنشیں تھا، اور بیان میں ایسا سحر تھا کہ ہر سننے والا خود کو ایک علمی سفر میں محو محسوس کر رہا تھا۔ آپ نے امام بخاری کی حیاتِ مبارکہ، ان کے غیر معمولی حفظ، ان کی للہیت اور ان کی علمی خدمات کو اس انداز میں پیش کیا کہ گویا تاریخ کے اوراق آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گئے ہوں۔
پھر جب آپ نے بخاری شریف کی پہلی حدیث "اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" کا درس شروع کیا تو محفل پر ایک عمیق سکوت طاری ہو گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں الفاظ نہیں، بلکہ احساسات بول رہے تھے۔
آپ نے فرمایا کہ حضرت امام بخاری نے اپنی اس شہرۂ آفاق کتاب کا آغاز اسی حدیث سے کرکے دراصل پوری امت کو ایک دائمی پیغام دیا ہے کہ
عمل کی جان نیت ہے۔ اگر نیت پاکیزہ ہو تو معمولی عمل بھی عظیم بن جاتا ہے، اور اگر نیت میں کھوٹ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے۔ گویا یہ حدیث صرف ایک باب کا آغاز نہیں، بلکہ پوری زندگی کے اعمال کا معیار ہے۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ "باب کیف کان بدء الوحی" کو مقدم رکھنا امام بخاری کی فکری گہرائی کا مظہر ہے، تاکہ طالبِ علم کے ذہن میں یہ حقیقت راسخ ہو جائے کہ علمِ حدیث کا دروازہ اسی وقت کھلتا ہے جب انسان وحیِ متلو اور وحیِ غیر متلو دونوں پر کامل یقین رکھتا ہو۔
یہی وہ بنیاد ہے جس پر علمِ حدیث کی پوری عمارت قائم ہے۔
آپ نے صحیح بخاری کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ کتاب ہے جسے امت نے قرآنِ مجید کے بعد سب سے زیادہ مستند تسلیم کیا ہے۔ حضرت امام بخاری نے سولہ برس کی مسلسل محنت،
اخلاص اور بے مثال احتیاط کے ساتھ چھ لاکھ احادیث میں سے منتخب کرکے اسے مرتب کیا۔ ان کا حافظہ ایسا تھا کہ انہیں "جبل الحفظ" کہا جاتا تھا، اور ان کی زندگی کا ہر لمحہ سنتِ رسول ﷺ کی خدمت میں وقف تھا۔
محفل اپنے عروج کو پہنچ چکی تھی۔ دلوں میں عجز تھا، آنکھوں میں نمی تھی، اور زبانوں پر درود و سلام کی صدائیں تھیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وقت تھم سا گیا ہے اور ہر شخص اس نورانی کیفیت کو اپنے دل میں محفوظ کر لینا چاہتا ہے۔
بالآخر صلوٰۃ و سلام کی پُرسوز صداؤں، اجتماعی فاتحہ خوانی اور رقت انگیز دعا کے ساتھ یہ روحانی محفل اختتام پذیر ہوئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسی محفلیں ختم نہیں ہوتیں، بلکہ دلوں میں ایک چراغ
جلا جاتی ہیں۔۔۔۔ایسا چراغ جو علم، اخلاص اور محبتِ رسول ﷺ کی روشنی سے ہمیشہ روشن رہتا ہے۔
یہ تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہ تھی، بلکہ ایک زندہ پیغام تھی۔۔۔نیت کی پاکیزگی، علم کی عظمت اور سنتِ نبوی ﷺ سے وابستگی کا پیغام؛ ایک ایسا پیغام جو سننے والوں کے دلوں میں دیر تک گونجتا رہے گا۔
رپورٹ: حبیب اللہ قادری انواری
آفس انچارج:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)
