Jun 25, 2026 12:19 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
یکم محرم الحرام اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی جغرافیائی حدود

یکم محرم الحرام اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی جغرافیائی حدود

18 Jun 2026
1 min read

یکم محرم الحرام اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی جغرافیائی حدود

از قلم : محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی

 نائب ایڈیٹر: نیپال اردو ٹائمز

یکم محرم الحرام کی تاریخ جہاں ہجرتِ مدینہ کے اس سبق کو تازہ کرتی ہے کہ حق کی خاطر قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے، وہاں ہمیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بے مثال خلافت اور شہادت کی بھی یاد دلاتی ہے. 

اس تحریر میں راقم الحروف محرم الحرام کی تاریخی حیثیت اور فضائل و کمالاتِ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو پیش کرنے کی كوشش کرے گا.

پہلی محرم الحرام کی تاریخ اسلام اور مسلمانوں کے لیے صرف ایک نئے کیلنڈر کا آغاز نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر گہری تاریخی، روحانی اور انتظامی اہمیت رکھتی ہے۔

اسلامی تاریخ کے آئینے میں یکم محرم کی اہمیت کو درج ذیل بنیادی نکات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے:

اسلامی نئے سال (ہجری تقویم) کا آغاز

یکم محرم الحرام اسلامی (ہجری) سال کا پہلا دن ہے۔

 اس کیلنڈر کی بنیاد نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے عظیم واقعے پر رکھی گئی ہے۔ ہجرت محض ایک سفر نہیں تھا، بلکہ یہ اسلام کی فتح، ایک آزاد اسلامی معاشرے کے قیام اور حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچنے کا نقطہ آغاز تھا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب ایک باقاعدہ اسلامی کیلنڈر کی ضرورت محسوس ہوئی، تو صحابہ کرام کے مشورے سے ہجرت کے سال کو بنیاد بنا کر محرم الحرام سے نئے سال کا آغاز طے پایا۔

حرمت اور امن کا مہینہ

 قرآن کریم میں جن چار مہینوں کو "اشھر حرم" (حرمت والے مہینے) قرار دیا گیا ہے، محرم الحرام ان میں سے ایک ہے۔

یکم محرم سے ہی اس متبرک مہینے کا آغاز ہوتا

 

ہے، جس میں زمانہ جاہلیت سے لے کر اسلام کے بعد تک جنگ و جدل، خون خرابہ اور ظلم کو سخت ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ یہ دن دنیا کو امن، سلامتی اور احترام کا پیغام دیتا ہے۔

احتسابِ نفس اور نئے روحانی سفر کا آغاز

روحانی نقطہ نظر سے یکم محرم مسلمانوں کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

جیسے دنیاوی سال کے آغاز پر لوگ نئے منصوبے بناتے ہیں، ویسے ہی یکم محرم کو مسلمان گزرے ہوئے سال کے گناہوں اور کوتاہیوں پر استغفار کرتے ہیں اور آنے والے سال کو تقویٰ، عبادات اور انسانیت کی خدمت میں گزارنے کا نیا عزم کرتے ہیں۔

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت

یکم محرم الحرام تاریخِ اسلام کے ایک انتہائی دردناک اور عظیم سانحے کی یادگار بھی ہے۔

 مسلمانوں کے دوسرے خلیفہِ راشد، "حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ " پر 26 ذوالحجہ کو نمازِ فجر کے دوران ابو لولو فیروز (مغیرہ بن شعبہ کے پارسی غلام) نے خنجر سے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔

آپ شدید زخمی ہوئے اور تین دن بعد، یکم محرم الحرام کو جامِ شہادت نوش کر کے دنیاِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ آپ کی شہادت نے اسلامی تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑے اور آپ کا دورِ خلافت عدل و انصاف، شاندار فتوحات اور مثالی انتظامی نظام کا سنہری دور کہلاتا ہے۔

فضائل و كمالات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کی وہ عظیم ترین شخصیت ہیں جن کی عدل و انصاف، شجاعت، اور تدبر کی گواہی نہ صرف مسلم تاریخ بلکہ غیر مسلم مؤرخین بھی دیتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے "فاروق" (حق اور باطل میں فرق کرنے والا) کا لقب عطا فرمایا۔

قرآن، حدیث اور تاریخ کی روشنی میں آپ رضی اللہ عنہ کے چند نمایاں فضائل:

مرادِ رسول ﷺ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اسلام آوری خود رسول اللہ ﷺ کی دعا کا نتیجہ تھی۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی تھی:

"اے اللہ عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہو، اس کے ذریعے اسلام کو عزت و قوت عطا فرما۔" (جامع ترمذی)

اللہ تعالیٰ نے یہ شرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بخشا۔

آپ کی آمد سے اسلام کو تقویت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے سے قبل مسلمان مکہ میں چھپ کر عبادت کرتے تھے۔ آپ کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو حوصلہ ملا۔، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"جب سے عمر اسلام لائے، ہم برابر طاقتور رہے اور ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کے قابل ہو گئے۔" قرآن کی تائیدات اور موافقاتِ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بصیرت اور فہم کا یہ عالم تھا کہ متعدد مرتبہ انہوں نے جس رائے کا اظہار کیا، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اس کی تائید فرمائی۔ ان امور کو تاریخ میں "موافقاتِ عمر" کہا جاتا ہے۔ جیسے:مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بنانا۔

امہات المؤمنین (حضور ﷺ کی ازواج مطہرات) کے لیے پردے کے احکامات۔

 بدر کے قیدیوں کے متعلق رائے۔

فرمانِ نبوی ﷺ کی روشنی میں مقام و مرتبہ

احادیثِ مبارکہ میں آپ کے فضائل بکثرت بیان ہوئے ہیں:

 آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر میری امت میں کوئی 'محدث' (جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق جاری ہو) ہو سکتا ہے، تو وہ عمر ہیں۔" (صحیح بخاری)

 آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔" (جامع ترمذی) 

(واضح رہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں)۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "اے عمر جس راستے پر تم چلتے ہو، شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔" (صحیح بخاری)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی تقویٰ، سادگی اور غیرتِ ایمانی کا وہ اعلیٰ نمونہ ہے جو قیامت تک آنے والے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت اور جغرافیائی حدود

یکم محرم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن بھی ہے، اس لیے اس موقع پر آپ کی خلافت کے ان کارناموں کو یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اسلامی دنیا کا نقشہ بدل دیا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد آپ دوسرے خلیفہ راشد بنے۔

آپ کا 10 سالہ دورِ حکومت (634ء سے 644ء) تاریخِ اسلام کا وہ سنہرا دور ہے جس

میں اسلامی سلطنت نے غیر معمولی وسعت اختیار کی۔ آپ کے دور میں دنیا کی دو بڑی سپر پاورز، یعنی سیسانی سلطنت (ایران) اور بازنطینی سلطنت (روم) کا ایک بڑا حصہ اسلامی قلمرو میں شامل ہوا۔

 یہ سلطنت تین براعظموں (ایشیائے کوچک، افریقہ اور یورپ کے مضافات) تک پھیل گئی تھی۔

فتح ہونے والے اہم علاقے اور موجودہ ممالک

​اگر موجودہ جغرافیے کے حساب سے دیکھا جائے، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں مندرجہ ذیل ممالک یا ان کے بڑے حصے اسلامی سلطنت کا حصہ بنے:

​سعودی عرب اور خلیجی ممالک: پورا جزیرہ نما عرب (بشمول یمن، عمان، متحدہ عرب امارات وغیرہ)۔

​عراق اور ایران: پوری ساسانی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور یہ دونوں ملک مکمل طور پر شامل ہوئے۔

​شام، اردن، لبنان اور فلسطین: بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر یہ پورا خطہ (جسے بلادِ شام کہا جاتا ہے) فتح ہوا، بشمول بیت المقدس۔

​مصر: افریقہ کا دروازہ کھلا اور پورا مصر اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔

​لیبیا: مصر کے ساتھ ساتھ شمالی افریقہ کے کچھ حصے بھی فتح ہوئے۔

​آرمینیا اور آذربائیجان: قفقاز کے پہاڑی سلسلے تک سلطنت پھیل گئی۔ (وکیپیڈیا) 

 

​سلطنت کتنی دور تک پھیلی ہوئی تھی؟

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے 10 سالہ دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت کی وسعت کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے:

​کل رقبہ: تقریباً 22 لاکھ مربع میل (موجودہ دور کے حساب سے کئی بڑے ممالک کے مجموعے سے بھی بڑا رقبہ)۔

​ جغرافیائی حدود:

 یہ سلطنت مغرب میں لیبیا کے ریگستانوں سے لے کر، مشرق میں دریائے سندھ اور وسطی ایشیا کی حدود تک، اور شمال میں آرمینیا سے لے کر جنوب میں یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔

​آپ کے دور میں تقریباً 1036 شہر فتح ہوئے اور ایک ایسا عادلانہ نظام قائم ہوا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

آپ نے دنیا کا پہلا منظم ڈاک کا نظام قائم کیا۔

بیت المال (پبلک ٹریژری) کا باقاعدہ محکمہ بنایا۔

راتوں کو گلیوں میں گشت کر کے رعایا کے احوال معلوم کرنے کی روایت قائم کی۔

ان کے علاوہ بہت سے فضائل و کمالات اور کارنامے ہیں جو کتب سیر میں بالتفصیل درج ہیں.

یکم محرم الحرام 1448ھ 

17/06/2026 بروز بدھ

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)