*کشمیر کی خوبصورتی، موسمِ گرما اور جون کی دلکش رعنائیاں*
✍🏻 ابوالخالد محمد اظہرالدین علیمی
پرنسپل دارالعلوم حسینیہ نظامیہ رضا
نگر بھٹنڈی نالا جموں
قدرتِ الٰہی نے اس کائنات میں بے شمار ایسے مقامات پیدا فرمائے ہیں جو اپنے حسن و جمال، دلکشی و رعنائی اور دل فریبی و سحر انگیزی کے باعث دنیا بھر کے انسانوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، مگر ان تمام حسین خطوں میں اگر کسی سرزمین کو جنتِ ارضی، فردوسِ بریں اور قدرت کی مصوری کا شاہکار کہا جائے تو وہ بلا شبہ کشمیر ہے۔ برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں، شفاف جھیلوں، رواں دواں آبشاروں، معطر باغات، لہلہاتے مرغزاروں اور دل نواز فضاؤں سے آراستہ یہ خطہ صدیوں سے سیاحوں، شاعروں، ادیبوں اور اہلِ ذوق کے دلوں کی دھڑکن بنا ہوا ہے۔ یہاں کا ہر منظر حسن کا ایک نیا باب، فطرت کا ایک نیا شاہکار اور قدرت کی صناعی کا ایک نیا نمونہ پیش کرتا ہے۔
کشمیر کو اللہ تعالیٰ نے ایسی بے مثال خوبصورتی عطا فرمائی ہے کہ یہاں کا ہر گوشہ دل موہ لینے والی دلکشی، مسحور کن کشش اور روح پرور لطافت کا آئینہ دار نظر آتا ہے۔ فلک بوس پہاڑ آسمان سے ہم کلام دکھائی دیتے ہیں، برف سے ڈھکی چوٹیاں چاندی کے تاجوں کی مانند چمکتی ہیں، سرسبز میدان زمرد کے فرش کا گمان دلاتے ہیں، جبکہ جھیلوں کا شفاف پانی آئینے کی طرح اردگرد کے مناظر کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔
خصوصاً جون کا مہینہ کشمیر میں حسن و جمال کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ جب ہندوستان اور برصغیر کے بیشتر علاقے شدید گرمی، حبس اور تپش کی لپیٹ میں ہوتے ہیں، تب کشمیر کی فضائیں خنکی، تازگی، شگفتگی اور فرحت کا پیغام لے کر آتی ہیں۔ جون میں موسم نہایت معتدل، خوشگوار اور دلکش ہوتا ہے۔ نہ سردی کی سختی باقی رہتی ہے اور نہ گرمی کی شدت محسوس ہوتی ہے، بلکہ فضا میں ایک ایسی لطافت اور نرمی ہوتی ہے جو ہر آنے والے کے دل کو مسرور اور روح کو شاداب کر دیتی ہے۔
جون کی صبحیں کشمیر میں خاص طور پر دلکش ہوتی ہیں۔ جب سورج کی پہلی سنہری کرن برف پوش چوٹیوں پر پڑتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مصور نے سفید کینوس پر سنہری رنگ بکھیر دیا ہو۔ شبنم کے قطرے پھولوں اور پتوں پر موتیوں کی مانند جگمگاتے ہیں۔ نرم و ملائم ہوائیں پھولوں کی خوشبو اپنے دامن میں سمیٹے ہر سو بکھیرتی پھرتی ہیں۔ پرندوں کی دلنشیں چہچہاہٹ اور چشموں کی مترنم آوازیں فطرت کے ایک خوبصورت نغمے کا سماں پیدا کر دیتی ہیں۔
کشمیر کی خوبصورتی کا ذکر ڈل جھیل کے بغیر نامکمل ہے۔ سری نگر کے قلب میں واقع یہ جھیل قدرت کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ جون کے مہینے میں اس کے پانی نہایت شفاف، پرسکون اور دلکش دکھائی دیتے ہیں۔ جھیل میں تیرتے ہوئے رنگ برنگے شکارے، پانی پر جھلملاتی سورج کی کرنیں اور اردگرد کے سرسبز مناظر دیکھنے والوں کو مبہوت کر دیتے ہیں۔ شام کے وقت جب سورج مغرب کی جانب جھکنے لگتا
ہے تو اس کی سنہری شعاعیں جھیل کے پانی پر بکھر کر ایک ایسا منظر پیش کرتی ہیں جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
حسین اور دلکش ہوتی ہیں۔ آسمان پر بکھرے ڈل جھیل کے کنارے واقع نشیات باغ، شالیمار باغ اور چشمۂ شاہی بھی اپنی دلکشی اور خوبصورتی میں بے مثال ہیں۔ ان باغات میں جون کے مہینے میں رنگا رنگ پھول اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کھلتے ہیں۔ سرخ، زرد، سفید، گلابی اور بنفشی رنگوں کے پھول زمین پر بکھرے ہوئے رنگوں کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو ہر دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
گلمرگ کشمیر کا ایک ایسا تفریحی مقام ہے جو دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی اور دلکشی کے لیے مشہور ہے۔ گلمرگ کے معنی ہی "پھولوں کا میدان" ہیں۔ جون کے مہینے میں یہاں کے وسیع و عریض سبزہ زار رنگ برنگے پھولوں سے بھر جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین نے رنگوں کی چادر اوڑھ لی ہو۔ ٹھنڈی اور خوشگوار ہوائیں، سرسبز میدان، بلند پہاڑ اور نیلا آسمان مل کر ایک ایسا دلکش منظر تخلیق کرتے ہیں جو سیاحوں کے ذہنوں پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے۔
گلمرگ کی چراگاہیں اپنی شادابی، سرسبزی اور تازگی کے باعث بے حد دلکش معلوم ہوتی ہیں۔ گھوڑوں کے ریوڑ، چرواہوں کے گیت، پھولوں کی خوشبو اور فطرت کی خاموشی ایک ایسی روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے جس سے انسان دنیاوی ہنگاموں اور مصروفیات کو بھول جاتا ہے۔
پہلگام بھی کشمیر کے حسین ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اسے وادیوں کی دلہن کہا جاتا ہے۔ جون میں یہاں کے سرسبز میدان، بل کھاتی ندیاں، گھنے جنگلات اور بلند پہاڑ حسن و جمال کی نئی داستانیں سناتے ہیں۔ دریائے لیدر کا شفاف پانی جب پتھروں سے ٹکراتا ہے تو ایک دلنشیں نغمہ پیدا ہوتا ہے جو سیاحوں کے دلوں کو سکون اور راحت بخشتا ہے۔
پہلگام کی فضا میں ایک عجیب سی پاکیزگی اور طہارت محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کی خاموش وادیاں، سرگوشیاں کرتی ہوائیں اور فطرت کی حسین جلوہ گری انسان کے اندر سکون اور اطمینان پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والے سیاح بار بار اس جنت نظیر مقام کا رخ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
سونمرگ یعنی "سنہری وادی" بھی اپنی بے مثال خوبصورتی کے باعث دنیا بھر میں معروف ہے۔ جون کے مہینے میں جب سورج
کی شعاعیں برفانی چوٹیوں پر پڑتی ہیں تو وہ سونے کی مانند چمکنے لگتی ہیں اور اسی نسبت سے اس مقام کا نام سونمرگ رکھا گیا ہے۔ یہاں کے برفانی گلیشیئر، سرسبز میدان، شفاف ندی نالے اور فلک بوس پہاڑ فطرت کے حسن کا ایسا مرقع پیش کرتے ہیں جو ہر آنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔کشمیر کے باغات اپنی خوشبو، لطافت اور رنگا رنگی کے اعتبار سے بھی منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ جون کے مہینے میں سیب، ناشپاتی، آلوبخارا، چیری اور خوبانی کے درخت پھلوں سے لدے ہوئے نظر آتے ہیں۔ باغات میں کھلے ہوئے پھول اور درختوں پر لہلہاتے پھل قدرت کی فیاضی اور رحمت کی گواہی دیتے ہیں۔
کشمیر کی آبشاریں بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔ بلند پہاڑوں سے گرتا ہوا پانی جب سفید دودھ کی مانند جھاگ بناتا ہے تو اس کا منظر نہایت دلکش معلوم ہوتا ہے۔ آبشاروں کے قریب ٹھنڈی ہوائیں اور پانی کی مدھر آواز دل و دماغ کو تازگی اور سکون عطا کرتی ہے۔
جون کے مہینے میں کشمیر کی راتیں بھی نہایت
ہوئے ستارے، چاندنی کی نرم روشنی اور ٹھنڈی ہوائیں رات کے حسن کو دوبالا کر دیتی ہیں۔ جھیلوں میں چاند کا عکس اور پہاڑوں کی خاموشی ایک ایسا روح پرور منظر پیش کرتی ہے جسے دیکھ کر انسان قدرتِ الٰہی کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
کشمیر صرف قدرتی حسن ہی کا گہوارہ نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت، محبت، خلوص اور مہمان نوازی کا بھی مرکز ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی سادگی، شرافت، خوش اخلاقی اور مہمان نوازی کے باعث مشہور ہیں۔ سیاح جب یہاں آتے ہیں تو نہ صرف قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں کے حسنِ سلوک سے بھی بے حد متاثر ہوتے ہیں۔
شاعروں اور ادیبوں نے کشمیر کی خوبصورتی کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ کسی نے اسے زمین کا جنت قرار دیا، کسی نے اسے فطرت کا شاہکار کہا، کسی نے اسے حسن کا دیس کہا اور کسی نے اسے قدرت کی مصوری کا زندہ نمونہ قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کی خوبصورتی کو الفاظ کے محدود دائرے میں قید کرنا ممکن نہیں۔ یہاں کا ہر منظر، ہر وادی، ہر جھیل، ہر باغ اور ہر پہاڑ اپنے اندر ایک الگ داستانِ حسن رکھتا ہے۔
مختصر یہ کہ کشمیر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک بے مثال نعمت ہے۔ جون کے مہینے میں اس کی خوبصورتی اپنے شباب، رعنائی اپنے عروج، شادابی اپنی انتہا اور دلکشی اپنی معراج پر ہوتی ہے۔ یہاں کی فضائیں سکون بخش، مناظر دل فریب، وادیاں روح پرور، جھیلیں سحر انگیز اور پہاڑ عظمت و جلال کا مظہر نظر آتے ہیں۔ کشمیر کا سفر محض ایک سیاحت نہیں بلکہ حسنِ فطرت، عظمتِ قدرت اور جمالِ کائنات کے مشاہدے کا ایک یادگار تجربہ ہے۔ بلاشبہ یہ خطہ اپنی دلکشی، رعنائی، شگفتگی، لطافت، شادابی اور حسن و جمال کے باعث دنیا بھر کے حسین ترین مقامات میں ممتاز مقام رکھتا ہے اور ہر دیکھنے والے کے دل سے یہی صدا بلند ہوتی ہے:
*اگر فردوس بر روئے زمیں است*
*ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است۔*
