آج کل کے پردے کو بھی پردے کی ضرورت ہے:قسط اول
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر:
دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا،انڈیا
یہ جملہ شاید بظاہر عجیب محسوس ہو، مگر ذرا اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیے، پھر دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ ہم نے حجاب کو کیا سمجھا تھا اور اسے کیا بنا دیا ہے؟ جس پردے کا مقصد عورت کی عزت، عفت، حیا اور وقار کی حفاظت تھا، آج کہیں وہی پردہ جسم کی نمائش کا ذریعہ تو نہیں بن گیا؟ لباس موجود ہے، مگر لباس کی روح غائب ہے؛ نقاب موجود ہے، مگر نگاہوں میں حیا کم ہوتی جا رہی ہے؛ سر ڈھکا ہوا ہے، مگر لباس جسم کے خدوخال کو نمایاں کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے پردہ کیا، یا صرف پردے کی ایک شکل اختیار کر لی؟
ذرا اُس وقت کو یاد کیجیے جب ہماری مائیں اور نانیاں حیا کو اپنی زینت سمجھتی تھیں۔ گھر سے نکلتے وقت لباس سے پہلے حیا کا خیال ہوتا تھا، راستے سے گزرتے ہوئے نگاہوں میں جھجک ہوتی تھی، گفتگو میں وقار ہوتا تھا اور اپنی عزت کی حفاظت کو بوجھ نہیں بلکہ سعادت سمجھا جاتا تھا۔ آج ہم نے ترقی کے نام پر بہت کچھ حاصل کیا، مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ اس دوڑ میں اپنی حیا کا وہ خزانہ کھو بیٹھے جسے ہماری شریعت نے عورت کا حسن اور مسلمان معاشرے کی پاکیزگی قرار دیا تھا؟
افسوس! ہم دنیا کے لباس کے رجحانات جانتے ہیں، مگر اپنے رب کے احکام سے ناواقف ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کی ہر نئی فیشن ویڈیو دیکھ لیتے ہیں، مگر قرآن کی چند آیات پڑھنے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ پھر جب حجاب ہماری مرضی کے مطابق ڈھلتا ہے تو ہم اسے دین سمجھ لیتے ہیں، اور جب دین ہماری خواہش کے خلاف حکم دیتا ہے تو ہم اس سے نظریں چرا لیتے ہیں۔
آئیے! کسی کو طعنہ دینے کے لیے نہیں، بلکہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے اس موضوع کو سمجھیں؛ شاید ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں، اپنی حیا کو واپس لے آئیں، اور اس پردے کو پھر سے وہی پردہ بنا دیں جسے دیکھ کر دل کو اللہ یاد آئے، نہ کہ دنیا کی نمائش۔
*حجاب کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟*
حجاب محض سر پر ایک کپڑا رکھ لینے یا چہرے کے گرد نقاب لپیٹ لینے کا نام نہیں، بلکہ حجاب حیا، عفت، ستر اور وقار کا ایک مکمل اسلامی تصور ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان عورت اپنے جسم، زینت اور حسن کو غیر محرم نگاہوں سے محفوظ رکھے اور اپنے لباس و کردار کے ذریعے اپنی عزت و پاک دامنی کی حفاظت کرے۔
حجاب کا مطلب یہ نہیں کہ جسم ڈھکا ہوا نظر آئے، بلکہ اس بات کا بھی اہتمام ہو کہ لباس جسم کے خدوخال کو نمایاں نہ کرے۔ ایسا باریک لباس جو جسم دکھائے، یا ایسا چست لباس جو جسم کی ساخت واضح کردے، وہ پردے کے بنیادی مقصد کو پورا نہیں کرتا۔ اسی طرح حجاب کے ساتھ ایسی آرائش، خوشبو یا انداز اختیار کرنا بھی اس کی روح کے خلاف ہے جو نامحرموں کی توجہ اپنی طرف کھینچے۔
اسلام نے عورت کو پردے کا حکم اس لیے نہیں دیا کہ اسے قید کیا جائے، بلکہ اس کی عزت، شخصیت اور عفت کی حفاظت کی جائے۔ حجاب عورت کے لیے ذلت نہیں، عزت ہے؛ پابندی نہیں، اللہ کی اطاعت ہے؛ بوجھ نہیں، ایمان کی علامت ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے کبھی کبھی حجاب کو دین کے حکم کے بجائے فیشن بنا دیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف یہ نہ دیکھیں کہ ہم نے پردہ کیا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ ہمارا پردہ واقعی پردہ ہے یا نہیں۔
*قرآنِ کریم میں پردے کا حکم*
اسلام نے عورت کے پردے کو محض معاشرتی رسم یا کسی خاص زمانے کی روایت نہیں بنایا، بلکہ اسے قرآنِ کریم کی ہدایت قرار دیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی حکم کو اپنی کتاب میں بیان فرماتا ہے تو ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر عزت اور رہنمائی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔
اللہ تعالیٰ سورۂ نور میں پہلے مردوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پاک دامنی کی حفاظت کریں، پھر عورتوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے، اپنی عصمت کی حفاظت کرنے اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کرنے کی ہدایت فرماتے ہیں۔
یہاں غور کرنے کی بات ہے کہ قرآن نے پردے کی بنیاد صرف لباس پر نہیں رکھی؛ نگاہ بھی پردے کا حصہ ہے، دل کی پاکیزگی بھی، اور کردار کی حفاظت بھی۔ اگر لباس تو پردے والا ہو مگر نگاہ بے قابو ہو، گفتگو میں بے تکلفی ہو اور زینت کی نمائش مقصود ہو تو حجاب کی روح کہاں باقی رہتی ہے؟
اسی سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ عورتوں کو حکم فرماتے ہیں کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی حجاب محض سر ڈھانپنے تک محدود نہیں، بلکہلباس ایسا ہونا چاہیے جو بدن کے ان حصوں کو بھی مناسب طور پر ڈھانپے جنہیں چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔
پھر سورۂ احزاب میں ازواجِ مطہرات اور اہلِ ایمان کی عورتوں کو جلباب کے ذریعے اپنے آپ کو ڈھانپنے کی ہدایت دی گئی۔ قرآن اس حکم کے ساتھ عزت اور شناخت کا مفہوم بھی بیان کرتا ہے۔
لہٰذا اے مسلمان بیٹی! جب تم حجاب کرتی ہو تو یاد رکھو کہ تم صرف ایک لباس نہیں پہن رہیں؛ تم اپنے رب کے ایک حکم کی تعمیل کر رہی ہو۔ اس لیے حجاب کو فیشن کی چیز نہ بناؤ، اسے عبادت سمجھو۔ اور اگر کبھی نفس یا زمانے کا فیشن تمہیں شرعی حجاب سے دور کرنے لگے تو ایک لمحے کے لیے سوچو: دنیا کی نگاہوں کو خوش کرنے کے لیے ہم اپنے رب کی رضا کیوں کھو دیں؟
احادیثِ نبویہ ﷺ میں حجاب کی تعلیمات*
قرآنِ کریم نے حجاب کا حکم عطا فرمایا تو رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی امت کو اس کی عملی صورت بھی سمجھائی۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں حیا، ستر، پاکیزگی اور عورت کے وقار کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «الحياء شعبة من الإيمان» یعنی ’’حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘ اس لیے حیا محض معاشرتی خوبی نہیں بلکہ ایمان سے جڑی ہوئی صفت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے لباس اور زینت کے بارے میں بھی امت کو متنبہ فرمایا۔ صحیح مسلم کی مشہور حدیث میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو بظاہر لباس پہنے ہوئے ہوں گے مگر حقیقت میں ’’کاسیات عاریات‘‘ ہوں گے، یعنی لباس کے باوجود بے پردگی کی کیفیت میں ہوں گے۔ یہ تعبیر ہمیں جھنجھوڑ کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہر لباس پردہ نہیں ہوتا؛ لباس کا مقصد ستر اور حیا کی حفاظت بھی ہے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہوں کی حفاظت کی تعلیم دی۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے نگاہ پھیر لینے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی حیا صرف عورت کے لباس کا نام نہیں؛ مرد بھی اپنی نگاہ اور کردار کا ذمہ دار ہے۔
آج ہمیں اپنے معاشرے کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہم نے حجاب کو کبھی لباس تک محدود کر دیا،
کبھی اسے فیشن بنا دیا، اور کبھی مردوں کی ذمہ داری کو بھلا دیا۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں ایک مکمل پاکیزہ معاشرہ عطا کرتی ہیں، جہاں عورت اپنی عزت و عفت کی حفاظت کرے اور مرد اپنی نگاہوں کی۔ لہٰذا حجاب کو صرف ’’کپڑا‘‘ نہ سمجھیں؛ یہ ایمان کی حیا، کردار کی پاکیزگی اور اللہ کی اطاعت کا عملی اظہار ہے۔
*حجاب کی بنیادی شرائط کیا ہیں؟*
شرعی حجاب صرف یہ نہیں کہ عورت نے سر پر دوپٹہ رکھ لیا اور سمجھ لیا کہ پردہ مکمل ہوگیا۔ حجاب ایک ایسا لباس ہے جو ستر، حیا اور وقار کی حفاظت کرے۔ اس لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ لباس ان حصوں کو ڈھانپنے والا ہو جنہیں شریعت نے غیر محرم کے سامنے چھپانے کا حکم دیا ہے۔
دوسری اہم شرط یہ ہے کہ لباس باریک اور شفاف نہ ہو کہ جسم نظر آئے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ لباس اتنا چست نہ ہو کہ جسم کے خدوخال نمایاں ہوجائیں۔ کیونکہ کپڑے کا مقصد صرف جسم پر چپک جانا نہیں، بلکہ جسم کو پردے میں رکھنا ہے۔
اسی طرح لباس خود ایسی زینت اور نمائش کا ذریعہ نہ بنے جو نامحرموں کی توجہ اپنی طرف کھینچے۔ خوشبو لگا کر باہر نکلنا، ایسی آرائش کرنا جس سے اجنبی نگاہیں متوجہ ہوں، یا لباس کو فیشن اور نمائش کا ذریعہ بنانا حجاب کی روح کو کمزور کر دیتا ہے۔
حجاب صرف جسم کا نہیں، کردار کا بھی ہے؛ نگاہ کا بھی ہے، گفتگو کا بھی ہے اور چلنے پھرنے کے انداز کا بھی۔ لہٰذا ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: ’’کیا میرا لباس واقعی مجھے چھپا رہا ہے، یا صرف میرے جسم کو ایک خوبصورت انداز میں نمایاں کر رہا ہے؟‘‘ یہ سوال اگر دل سے پوچھ لیا جائے تو شاید ہمارے بہت سے ظاہری پردوں کی حقیقت ہمارے سامنے آجائے۔
*کیا صرف نقاب کافی ہے؟*
آج بعض اوقات حجاب کو صرف چہرے کے گرد لپٹے ہوئے کپڑے تک محدود کردیا گیا ہے۔ عورت نقاب پہن لیتی ہے، لیکن لباس اتنا تنگ ہوتا ہے کہ جسم کے خدوخال نمایاں ہوتے ہیں، یا برقع ایسا ہوتا ہے جو بدن کی ساخت کو چھپانے کے بجائے نمایاں کرتا ہے۔ یہاں ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نقاب حجاب کا ایک حصہ ہوسکتا ہے، مگر حجاب کا پورا تصور صرف نقاب نہیں۔
شرعی پردے کا مقصد بدن، زینت اور شخصیت کو غیر محرم کی نگاہ میں نمائش کا ذریعہ بننے سے بچانا ہے۔ اس لیے چہرہ ڈھانپنے کے ساتھ لباس کے دیگر شرعی تقاضوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہاں ایک اہم بات بھی سمجھنی چاہیے کہ چہرے کے پردے کے متعلق فقہاء کے درمیان تفصیلی فقہی بحث موجود ہے؛ اس لیے ہر مسئلے کو ایک ہی جملے میں بیان کرنا درست نہیں۔ لیکن اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ لباس ایسا نہ ہو جو فتنے، نمائش اور جسم کے نمایاں ہونے کا سبب بنے۔ ہمیں حجاب کے نام اور شکل سے زیادہ اس کی روح کو دیکھنا چاہیے۔ اگر نقاب چہرے پر ہے مگر لباس جسم کی ساخت بتا رہا ہے تو ہمیں اپنے پردے کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ حجاب کا حسن اس میں نہیں کہ لوگ کہیں ’’کتنا خوبصورت حجاب ہے‘‘؛ بلکہ اس میں ہے کہ اسے دیکھ کر دل کہے: یہ ایک باحیا مسلمان عورت ہے جو اپنے رب کے حکم کی حفاظت کر رہی ہے۔
تنگ اور جسم نما لباس: حجاب کے مقصد کے منافی کیوں؟
کبھی انسان ایک حقیقت کو سمجھنے کے لیے صرف ایک سوال اپنے دل سے پوچھ لے تو بہت کچھ واضح ہوجاتا ہے: اگر لباس جسم کے خدوخال سب کو دکھا رہا ہے تو پھر پردے کا مقصد کہاں پورا ہوا؟ آج ’’حجاب‘‘ اور ’’ابایا‘‘ کے نام پر ایسے لباس بھی عام ہوتے جارہے ہیں جو بظاہر پورے جسم کو ڈھانپتے ہیں، لیکن اتنے چست ہوتے ہیں کہ بدن کی ساخت نمایاں ہوجاتی ہے۔ شریعت نے لباس کا مقصد صرف یہ نہیں رکھا کہ جلد نظر نہ آئے، بلکہ لباس ستر اور حیا کی حفاظت کرے۔
اسی لیے حدیث میں ’’کاسیات عاریات‘‘ یعنی لباس پہننے کے باوجود بے پردگی کی کیفیت رکھنے والی عورتوں سے سخت تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ اس حدیث کا پیغام ہمارے لیے انتہائی سنجیدہ ہے: صرف کپڑا پہن لینا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ لباس کس طرح کا ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے۔
ذرا سوچیے! اگر ہماری دادیوں اور نانیوں نے پردے کو اپنی عزت سمجھا، تو ہم اسے نمائش کا ذریعہ کیوں بنائیں؟ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں لباس عطا کیا ہے تو کیا اس نعمت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم اسے اطاعت اور حیا کے لیے استعمال کریں؟ حجاب وہ نہیں جس سے جسم کی خوبصورتی مزید نمایاں ہوجائے؛ حجاب وہ ہے جس سے خوبصورتی پردے میں اور شخصیت وقار میں آجائے۔
حجاب صرف عورت کی ذمہ داری نہیں
حجاب کا ذکر آتے ہی ہماری گفتگو اکثر صرف عورتوں تک محدود ہوجاتی ہے، حالانکہ قرآنِ کریم نے پاکیزگی کی اس تعلیم کا آغاز مردوں سے کیا۔ سورۂ نور میں پہلے اہلِ ایمان مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی پاک دامنی کی حفاظت کرنے کا حکم دیا گیا، پھر عورتوں کو بھی یہی بنیادی ہدایت دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام عورت کو اکیلا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔ اگر عورت لباس میں حیا اختیار کرے لیکن مرد اپنی نگاہوں کو آزاد چھوڑ دے تو معاشرہ پاکیزہ کیسے ہوگا؟ آج بعض لوگ عورت کے لباس پر تو بہت گفتگو کرتے ہیں، مگر اپنی نگاہوں کا حساب لینا بھول جاتے ہیں۔ موبائل کی اسکرین پر نامحرم کی تصاویر دیکھتے ہیں، سوشل میڈیا پر بے پردگی کو تلاش کرتے ہیں، پھر دوسروں کو حیا کا درس دیتے ہیں۔ یہ بھی ایک خطرناک تضاد ہے۔ حیا دونوں کی ذمہ داری ہے۔ عورت اپنے لباس اور زینت کی حفاظت کرے، مرد اپنی نگاہ اور کردار کی حفاظت کرے۔ دونوں اپنی گفتگو اور معاملات میں شرعی حدود کا خیال رکھیں۔ اس لیے اس مضمون کا مقصد صرف خواتین کو مخاطب کرنا نہیں؛ ہم مردوں کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ شاید قیامت کے دن سوال صرف یہ نہ ہو کہ ’’تمہاری عورتیں کیسی تھیں؟‘‘ بلکہ یہ بھی پوچھا جائے کہ ’’تم نے اپنی نگاہوں کی حفاظت کتنی کی؟‘‘
حجاب کی شرعی اہمیت اور ترکِ حجاب
حجاب کوئی معمولی معاشرتی رسم نہیں جسے انسان اپنی پسند کے مطابق اختیار کرے یا چھوڑ دے۔ قرآنِ کریم میں مسلمان عورتوں کے لیے لباس، زینت اور پردے سے متعلق واضح ہدایات موجود ہیں۔ جب کوئی حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ثابت ہوجائے تو مسلمان کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ اسے محبت اور تسلیم کے ساتھ قبول کرے۔ لیکن یہاں ایک ضروری فرق سمجھنا چاہیے: کسی شرعی حکم کا فرض ہونا ایک بات ہے اور کسی معین شخص پر کفر یا کوئی انتہائی حکم لگانا دوسری بات۔ اگر کوئی مسلمان عورت حجاب کے حکم کو مانتی ہے مگر کمزوری، غفلت یا ماحول کی وجہ سے اس پر مکمل عمل نہیں کرپاتی تو اسے گناہ پر توبہ اور اصلاح کی طرف بلایا جائے، نہ کہ اسے دین سے خارج قرار دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ جس نے آج تک حجاب میں کوتاہی کی، اس کے لیے کل بھی توبہ کا راستہ موجود ہے۔ اے میری مسلمان بہن! اگر کبھی تم نے حجاب کو بوجھ سمجھا ہے تو ذرا سوچو: جس رب نے تمہیں زندگی، صحت، حسن اور عزت عطا کی، کیا اس کے ایک حکم کی تعمیل تمہارے لیے بہت بڑی قیمت ہے؟ دنیا کی فیشن بدلتی رہتی ہے، مگر اللہ کا حکم نہیں بدلتا۔ اس لیے لوگوں کی پسند سے زیادہ اپنے رب کی رضا کو اہمیت دو۔
بے پردگی کی وعیدیں اور احادیثِ تنبیہ
اسلام نے بے حیائی اور بے پردگی کے معاملے کو معمولی نہیں سمجھا۔ رسول اللہ ﷺ نے امت کو ایسے لباس اور طرزِ زندگی سے بھی خبردار فرمایا جس میں بظاہر لباس موجود ہو مگر حقیقت میں ستر اور حیا کا مقصد فوت ہوجائے۔ صحیح مسلم میں ’’کاسیات عاریات‘‘ کا ذکر اسی سلسلے میں ایک سخت تنبیہ ہے۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے دل پر انگلی رکھنی چاہیے۔ کیا ہمارا لباس واقعی حیا والا ہے؟ کیا ہماری زینت نمائش کا ذریعہ تو نہیں؟ کیا ہمارا سوشل میڈیا دوسروں کی نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ تو نہیں بن رہا؟ بے حیائی صرف کپڑے کی کمی کا نام نہیں؛ کبھی انسان مکمل لباس میں بھی بے حیائی کا مظاہرہ کرسکتا ہے، اگر لباس جسم کی ساخت نمایاں کرے یا اس کا مقصد نامحرموں کی توجہ حاصل کرنا ہو۔ قرآن ہمیں شیطان کے اس راستے سے بھی خبردار کرتا ہے جو انسان کو رفتہ رفتہ بے حیائی کی طرف لے جاتا ہے۔ لیکن وعید کا مقصد مایوس کرنا نہیں، جھنجھوڑنا ہے۔ اگر کوئی آج اپنی غلطی محسوس کرلے، اپنے رب کے سامنے جھک جائے اور حیا کی طرف واپس آجائے تو یہی اس کے لیے کامیابی کی ابتدا ہے۔ ہمیں دوسروں کو جہنم کی وعید سنانے سے پہلے اپنے دل کو جنت کے راستے پر لانا ہوگا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان گناہ پر اصرار کے بجائے توبہ کو اختیار کرے۔
فقہائے اسلام اور اکابر علماء کی تعلیمات
اسلامی فقہ نے عورت کے لباس اور ستر کے مسئلے کو نہایت سنجیدگی سے بیان کیا ہے۔ فقہائے کرام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ اصول واضح کیے کہ مسلمان کا لباس ستر اور حیا کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہونا چاہیے۔ فقہِ حنفی میں بھی عورت کے ستر، لباس، زینت اور نامحرموں کے سامنے آداب سے متعلق تفصیلی احکام موجود ہیں۔ ہمارے اکابر علماء نے بھی ہمیشہ حیا اور پردے کی اہمیت پر زور دیا۔ بالخصوص امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کی فقہی تصانیف اور فتاویٰ میں عورتوں کے پردے، لباس اور نامحرموں سے متعلق متعدد مسائل کی تفصیلات ملتی ہیں۔ ان کی تعلیمات کا بنیادی مزاج یہی ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کو شریعت کے تابع رکھے اور زمانے کے فیشن کو شریعت کا معیار نہ بنائے۔ یہاں ہمیں ایک اہم بات یاد رکھنی چاہیے: علماء کی کتابیں صرف دوسروں کے لیے اعتراضات تلاش کرنے کے لیے نہیں، اپنی اصلاح کے لیے ہیں۔ اگر ایک ماں فقہ پڑھ لے تو وہ اپنی بیٹی کو بہتر تربیت دے سکتی ہے؛ اگر ایک بیٹی شرعی احکام سمجھ لے تو وہ فیشن اور شریعت کے درمیان فرق کرسکتی ہے؛ اگر ایک باپ دینی ذمہ داری سمجھ لے تو گھر کا ماحول بدل سکتا ہے۔ لہٰذا حجاب کا مسئلہ صرف ’’کپڑا کون سا پہننا ہے‘‘ کا مسئلہ نہیں، بلکہ علم، ایمان، تربیت اور اطاعت کا مسئلہ ہے۔ اور جس معاشرے میں علم کم ہوجائے، وہاں رسم باقی رہ جاتی ہے، مگر حکم کی روح آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔ آج کے ’’فیشن ایبل حجاب‘‘ کا مسئلہ حجاب کی خوبصورتی اپنی جگہ، صفائی اور سلیقہ بھی اسلام کے خلاف نہیں؛ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں حجاب خود نمائش بن جائے۔ آج سوشل میڈیا نے لباس کو صرف ضرورت نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے نمائش، مقابلہ اور توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اسی ماحول میں کبھی ایسا ’’حجاب‘‘ بھی سامنے آتا ہے جس میں پردہ کم اور فیشن زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ مہنگا لباس حجاب کی خرابی نہیں، خوبصورت لباس بھی بذاتِ خود ممنوع نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ لباس شرعی حدود کے اندر ہے یا نہیں؟ کیا وہ جسم کو نمایاں کرتا ہے؟ کیا وہ نامحرموں کی توجہ کھینچتا ہے؟ کیا اس میں زینت کی نمائش مقصود ہے؟ ہمیں اس معاملے میں افراط و تفریط دونوں سے بچنا چاہیے۔ ہر خوبصورت لباس کو بے پردگی کہنا بھی درست نہیں اور ہر ’’حجاب‘‘ کے نام پر پہننے والی چیز کو شرعی حجاب سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ’’لوگ کیا پہن رہے ہیں‘‘ سے زیادہ یہ دیکھیں کہ اسلام کیا چاہتا ہے۔ حجاب اگر اللہ کی رضا کے لیے ہے تو اس میں سادگی، وقار اور حیا نمایاں ہونی چاہیے۔ اگر حجاب پہن کر بھی دل یہ چاہتا رہے کہ لوگ دیکھیں، تعریف کریں اور متوجہ ہوں، تو انسان کو اپنے ارادے اور اپنے لباس دونوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ حجاب کا اصل حسن یہ نہیں کہ وہ لوگوں کو ہماری طرف متوجہ کرے؛ اصل حسن یہ ہے کہ وہ ہمیں اللہ کی طرف متوجہ کردے۔ مسئلے کی اصل جڑ: دینی تعلیم سے دوری آج ہمارے معاشرے میں حجاب کے مسائل پر گفتگو بہت ہے، مگر حجاب کا علم کم ہے۔ ہم لباس کے نئے نئے ڈیزائن جانتے ہیں، مگر قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ سوشل میڈیا پر گھنٹوں وقت گزرتا ہے، لیکن دین سیکھنے کے لیے چند منٹ بھی مشکل محسوس ہوتے ہیں۔ یہی جہالت آہستہ آہستہ زندگی کے دوسرے حصوں میں بھی داخل ہوجاتی ہے۔ جب انسان کو معلوم ہی نہ ہو کہ اللہ نے کیا حکم دیا ہے تو وہ اپنی خواہش، دوستوں، فیشن اور معاشرے کو اپنا معیار بنا لیتا ہے۔ اس لیے اصلاح کا آغاز صرف خواتین کے لباس سے نہیں بلکہ گھروں کی دینی تربیت سے ہونا چاہیے۔ ماں بیٹی کو حجاب سمجھائے، باپ بیٹے کو نگاہ کی حفاظت سکھائے، گھر میں قرآن کی تلاوت اور دینی گفتگو کا ماحول ہو، اور علماء نوجوانوں کو محبت، حکمت اور دلیل کے ساتھ احکام سمجھائیں۔ ہم اپنی اولاد کو دنیا کا ہنر سکھانے کے لیے بہترین ادارے تلاش کرتے ہیں؛ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ انہیں اپنے رب کے احکام سکھانے کے لیے بھی وقت دینا ہے؟ اگر آج ہم نے اپنی اولاد کو دین نہیں سکھایا تو کل صرف یہ شکایت کافی نہیں ہوگی کہ ’’زمانہ خراب ہوگیا ہے۔‘‘ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم نے انہیں زمانے کے مقابلے کے لیے کیا دیا تھا؟ علم آئے گا تو حجاب رسم نہیں رہے گا؛ عبادت بن جائے گا۔
اصلاح کا راستہ:
حجاب کو بوجھ نہیں، عزت بنائیے
حجاب کی اصلاح صرف ڈانٹنے، طعنہ دینے یا کسی کی تذلیل کرنے سے نہیں ہوگی۔ کسی بیٹی کو یہ کہہ دینا کہ ’’تمہیں دین کا کچھ معلوم نہیں‘‘ اسے دین کے قریب نہیں لاتا؛ بلکہ محبت، حکمت اور اچھا نمونہ اسے دین کی طرف کھینچتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہماری مائیں اپنی بیٹیوں کو حجاب کی حکمت سمجھائیں، صرف اس کا حکم نہ سنائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ حجاب عورت کی قدر گھٹانے کے لیے نہیں بلکہ اس کے وقار کی حفاظت کے لیے ہے۔ اسی طرح باپ اپنے بیٹوں کو نگاہ کی حفاظت، پاکیزگی اور عورتوں کے احترام کی تعلیم دیں۔ علماء اور دینی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ جدید دور کے مسائل کو سمجھتے ہوئے نوجوان نسل کی رہنمائی کریں۔ آج کی بیٹی کے سامنے صرف ایک برقع نہیں، بلکہ سوشل میڈیا، فیشن، اشتہارات اور ہزاروں نظریات موجود ہیں۔ اسے صرف ’’یہ مت کرو‘‘ کہنے کے بجائے ’’کیوں مت کرو‘‘ بھی سمجھانا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے عمل سے مثال بننا ہوگا۔ اے مسلمان بہن! حجاب کو اپنی آزادی کا دشمن نہ سمجھو؛ اسے اپنے رب کی اطاعت کا خوبصورت نشان سمجھو۔ لوگ تمہارے لباس پر تبصرہ کریں گے، فیشن بدلتے رہیں گے، زمانہ آگے بڑھتا رہے گا؛ لیکن ایک دن ایسا بھی آئے گا جب نہ فیشن ہوگا، نہ دنیا کی تعریف، نہ لوگوں کی نگاہیں صرف اللہ کی رضا یا ناراضی ہوگی۔ اس دن کے لیے آج کا ایک شرعی قدم شاید ہماری سب سے بڑی کامیابی بن جائے۔
اختتامیہ:
پردہ صرف کپڑے کا نام نہیں؛ یہ ایک تہذیب، ایک احساس، ایک کردار اور ایک عہد ہے۔ یہ عہد کہ میری نگاہ پاک رہے گی، میرا لباس حیا والا ہوگا، میری گفتگو باوقار ہوگی، میری زینت نمائش نہیں بنے گی اور میری زندگی اپنے رب کی رضا کے تابع ہوگی۔ آج ہمیں دوسروں کے پردے پر تبصرہ کرنے سے پہلے اپنے پردے کا جائزہ لینا چاہیے۔ عورت اپنے لباس کو دیکھے، مرد اپنی نگاہ کو دیکھے، والدین اپنی تربیت کو دیکھیں اور معاشرہ اپنی مجموعی سمت کو دیکھے۔ شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہوگئی ہے کہ ہم نے حجاب کو صرف عورت کے سر پر تلاش کیا، حالانکہ اس کا ایک حصہ آنکھوں میں، دل میں، زبان میں اور کردار میں بھی ہونا چاہیے۔ اگر آج کسی بہن کا حجاب شرعی تقاضوں کے مطابق نہیں تو اسے نفرت نہیں، محبت سے سمجھائیے۔ اگر کسی بھائی کی نگاہ بے قابو ہے تو اسے بھی آئینہ دکھائیے۔ اگر ہمارے گھروں میں دینی تربیت کم ہے تو شکایت سے پہلے اپنے گھر سے آغاز کیجیے۔ اور اگر آپ خود اب تک اس معاملے میں غفلت کرتے رہے ہیں تو مایوس نہ ہوں۔ اللہ کی طرف واپسی کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ آج ایک فیصلہ کیجیے: میں فیشن سے پہلے شریعت دیکھوں گا، لوگوں کی پسند سے پہلے اللہ کی رضا دیکھوں گا، اور ظاہری پردے کے ساتھ اپنے دل اور کردار کا پردہ بھی قائم رکھوں گا۔ کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ دنیا ہمیں باحیا کہے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ قیامت کے دن ہمارا رب ہمیں باحیا اور فرمانبردار بندوں میں شمار فرمائے۔
