Apr 2, 2026 02:22 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کا اہلیتی امتحان اور ابنائے علیمیہ جموں وکشمیر کی خصوصی نشست !

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کا اہلیتی امتحان اور ابنائے علیمیہ جموں وکشمیر کی خصوصی نشست !

01 Apr 2026
1 min read

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کا اہلیتی امتحان اور ابنائے علیمیہ جموں وکشمیر کی خصوصی نشست !

پریس ریلیز

نیپال اردو ٹائمز

ایک رپورٹ )

رپورٹ نگار: جاوید اقبال علیمی ریسرچ اسکالر شعبہ اردو IGNOU نئی دہلی۔ 

۳۰ مارچ ٢٠٢٦ء/١٠ شوال المکرم ١٤٤٧ھ۔

۲۸مارچ ٢٠٢٦ء /۸ شوال المکرم ١٤٤٧ھ بروز سنیچر دارالعلوم اسلامیہ قادریہ بفلیاز، ضلع پونچھ، تحصیل سرنکوٹ میں دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کا اہلیتی امتحان  برائے طلبائے جموں کشمیر منعقد ہوا ،جس میں  جموں وکشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے تقریبا سو طلبہ شریک ہوئے ۔اہلیتی امتحان کی نگرانی کے لیے دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کے صدر المدرسین،استاذ الاساتذہ حضرت علامہ امید علی صدیقی صاحب قبلہ ،محقق عصر حضرت علامہ مفتی نظام الدین علیمی مصباحی صاحب قبلہ مفتی وشیخ الحدیث دارالعلوم علیمیہ اور حضرت علامہ مفتی کمال احمد علیمی صاحب  قبلہ استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بنفس نفیس موجود رہے

جبکہ جموں وکشمیر کے بعض علیمی برادران نے نظم امتحان کو مؤثر بنانے کے لیے اپنے اساتذہ کا تعاون کیا ۔ یہ امتحان اپنے مقررہ وقت یعنی صبح سات بجے سے شروع ہوکر دس بجے بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا ۔

متعینہ وقت کےمطابق گیارہ بجے تلاوت قرآن کریم سے تنظیم ابنائے علیمیہ جموں وکشمیر کی خصوصی نشست کا آغاز ہوا ۔ تلاوت قرآن کا شرف مولانا مختار احمد علیمی کو حاصل ہوا،مولانا حافظ ظہور احمد علیمی نے 

نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا ،مولانا حافظ نصیر احمد علیمی مہتمم دارالعلوم اسلامیہ قادریہ بفلیاز نے استقبالیہ پیش کیا جبکہ ان کے اعلان پر مختلف علیمی برادران نے اپنے اساتذہ کو گلدستے اور شال پیش کرکے انہیں خوش آمدید کہا ۔ اس موقع پر مولانا مختار احمد علیمی اور مولانا ظہور احمد علیمی صاحبان نے دارالعلوم علیمیہ کے سابق پرنسپل حضرت علامہ فروغ احمد اعظمی صاحب قبلہ کا لکھا ہوا مشہور ترانہ علیمیہ " اے علیمی چمن ،اے علیمی چمن "بھی پیش کیا ۔

بعد ازاں تقریبا ایک درجن علیمی برادران نے دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کے تعلیمی نظم وضبط اور تنظیم ابنائے علیمیہ کے بارے میں اپنے تاثرات اور قلبی واردات کا اظہار کیا جن میں تنظیم ابنائے علیمیہ کو مزید مؤثر بنانے اور عصر حاضر کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے مادر علمی سے متعلق اساتذہ کرام کے سامنے مختلف تجاویز پیش کیں جنہیں حضرت علامہ مفتی کمال احمد علیمی صاحب قبلہ کے حکم پر مولانا راشد علیمی نے یوں نوٹ کیا : 

" تنظیم ابناے علیمیہ میں شریک،خطبا کی پیش کردہ تجاویز و معروضات:

اظہارخیال:  حضرت مولانا بشارت علیمی صاحب 

 تجاویز: 

(١)      اس تحریک کو عالمی سطح پر مضبوط کرنے کے لیے مزید کد و کاوش

(۲)  جو ہماری خواتین فتنہ ارتداد کا شکار ہورہی ہیں اس پر بندھ باندھنا۔

اظہارخیال : حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر آصف علیمی صاحب 

تجاویز: 

(١)    مسائل فقہیہ جدیدہ پر سیمینارز(نوپید مسائل)

(٢)  معمولات اہل سنت پر تحقیقی کام قرآن و سنت کی روشنی میں۔

(٣)  عقائد اہل سنت پر بغیر ذاتی تجزیہ کے مستقل و تحقیقی،آسان و شائستہ انداز میں کتب۔

(٤)   پرائمری کو ہائر سکینڈری اسکول تک پہنچایا جائے۔ضروری بنیادی اسلامی تعلیم جزوی طور پراظہارخیال: حضرت  مولاناعبدالرشیدعلیمی صاحب 

تجویز:

(۱)    ہر صوبہ میں کم سے کم ایک ادارے کا دار العلوم علیمیہ سے الحاق اور اس کے امتحانات علیمیہ ہی کے زیر انتظام ہوں۔

ناظم: 

مولانا ڈاکٹر جاوید اقبال علیمی راجوری

تجاویز:

(۱)   تخصص فی الحدیث کے شعبے کا آغاز

(۲)   مدارس اہل سنت جموں وکشمیر کا علیمیہ کے ساتھ الحاق

(۳)    دار العلوم اسلامیہ قادریہ بفلیاز میں علیمیہ کے نصاب کا نفاذ "

اظہارخیال کرنے والے دیگر حضرات میں حضرت مولانا جاوید احمد علیمی مصباحی صاحب بارہمولا کشمیر، حضرت مولانا سید ریاض حسین علیمی صاحب، حضرت مولانا سید امتیاز حسین شاہ صاحب، حضرت مولانا ولایت حسین مصباحی اور مولانا عبد الرحمن علیمی کے نام شامل ہیں ۔علیمی برادران کے تاثرات و اظہار خیالات کا سلسلہ اذان ظہر تک چلا ۔اس سلسلے کی نظامت کے فرائض مولانا عبد الرزاق علیمی صاحب نے ادا کیے ۔

نماز ظہر کے بعد ابنائے علیمیہ کی اس خصوصی نشست کے دوسرے حصے کا آغاز عزیزم عبد 

الماجد نے نعت پاک سے کیا ۔بعد اذاں محقق عصر حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین علیمی مصباحی صاحب قبلہ نے ناصحانہ کلمات ارشاد فرمائے ، صاحب قرطاس وقلم ،تنظیم ابنائے علیمیہ ہند کے روح رواں حضرت علامہ مفتی کمال احمد علیمی صاحب قبلہ نے تنظیم ابنائے علیمیہ کی " ترقیاتی رپورٹ " پیش کرتے ہوئے تنظیم کی دینی ،علمی اور سماجی خدمات سے متعارف کرایا،صدر المدرسین دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی حضرت علامہ امید علی صدیقی صاحب قبلہ نے اپنے صدارتی کلمات میں ابنائے علیمیہ کی قوت فکر وعمل کو سراہا اور ان کی پیش کردہ تجاویز پر سنجیدہ غور وفکر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔راقم سطور نے دارالعلوم اسلامیہ قادریہ بفلیازکے منتظمین، اساتذہ علیمیہ جمدا شاہی اور جملہ علیمی برادران وحاضرین کو ہدیہ تشکر پیش کیا ۔نشست کے اس حصے کی نظامت کے فرائض بھی راقم ہی نے انجام دیے ۔آخر میں صلاۃ و سلام اور محقق عصر حضرت علامہ مفتی نظام الدین علیمی مصباحی شیخ الحدیث ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کی خصوصی دعا پر تقریبا تین بجے ابنائے علیمیہ کی یہ خصوصی نشست اپنے حسن وکمال کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

تنظیم ابنائے علیمیہ جموں وکشمیر کی یہ خصوصی نشست اپنی نوعیت کی علمی وروحانی اور تاریخی نشست ثابت ہوئی جس کی کامیابی پر پورے ملک سے اہل علم اور محبین علیمیہ کی طرف سے ابنائے علیمیہ جموں وکشمیر اور اساتذہ علیمیہ کو مبارک بادیاں موصول ہورہی ہیں ۔

 

 

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383