Jun 25, 2026 12:20 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مختصر سیرت مع بے مثال حکمرانی و عظیم شہادت

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مختصر سیرت مع بے مثال حکمرانی و عظیم شہادت

18 Jun 2026
1 min read

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مختصر سیرت مع بے مثال حکمرانی و عظیم شہادت

محمد بن عبد الرزاق پالن پوری

 

سناتا ہوں اب میں باتیں حسیں فاروق اعظم کی

نبی کے ساتھ روضے میں مکیں فاروق اعظم کی

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت ایسی درخشاں شاہراہ ہے جس پر چل کر انسان عدل سیکھتا ہے، تقویٰ کی خوشبو محسوس کرتا ہے، شجاعت کا مفہوم سمجھتا ہے، عاجزی کا ذوق پاتا ہے اور خدمتِ خلق کا حقیقی سبق حاصل کرتا ہے۔ آپ وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد فضائل بیان فرمائے ہیں اور جن کی زندگی اسلام کی قوت اور حق کی سربلندی کا روشن عنوان بن گئی۔ قبولِ اسلام سے پہلے اپنی جلالت اور سخت مزاجی کے لئے معروف تھے لیکن جب نورِ ایمان دل میں اترا تو یہی سختی باطل کے خلاف آہنی دیوار اور حق کے لئے غیر متزلزل استقامت میں بدل گئی اسی بے مثال حق گوئی کی بنا پر آپ کو ’فاروق‘ کا لقب ملا یعنی حق اور باطل کے درمیان واضح فرق کرنے والے۔۔۔۔

آپ کی سیرت کا ہر پہلو حیرت انگیز توازن کا آئینہ دار ہے۔ میدانِ جہاد میں شیر کی مانند بے خوف نظر آتے مگر یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے وقت نہایت نرم دل، دشمن کے سامنے پہاڑ کی طرح مضبوط مگر اللہ کے خوف سے راتوں کو آنسو بہانے والے، ایک طرف وسیع سلطنت کے فرمانروا تو دوسری طرف اپنے لباس پر پیوند لگانے میں عار محسوس نہ کرنے والے۔ آپ کی زندگی یہ اعلان کرتی ہے کہ عظمت کردار کی بلندی میں پوشیدہ ہے۔۔۔

علم و حکمت آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ قرآن و سنت کی گہری سمجھ، دور اندیشی، معاملہ فہمی، بروقت فیصلوں نے آپ کو امت کا قابلِ اعتماد رہنما بنا دیا۔ بہت سے مواقع پر آپ کی رائے بعد میں نازل ہونے والی وحی کے مطابق ثابت ہوئی جو آپ کی بصیرت اور اخلاص کی روشن دلیل ہے( ان شاءاللہ اس پر عمر فاروق اور موافقت قرآن کے عنوان سے مضمون لکھا جائے گا )۔ فیصلے کرتے وقت نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کرتے، نہ کسی منصب کا صرف اور صرف اللہ کی رضا اور انصاف کو معیار بناتے تھے۔۔

عبادت، زہد اور خشیتِ الٰہی آپ کی روح کا حصہ تھے۔ راتوں کی تنہائیوں میں رب کے حضور کھڑے ہو کر گریہ کرنا، دن میں روزہ رکھنا، دنیا کی چمک دمک سے بے رغبت رہنا اور ہر لمحہ آخرت کی جواب دہی کو یاد رکھنا آپ کی مستقل عادت تھی۔ اقتدار نے آپ کے دل میں ذرہ برابر تکبر پیدا نہیں کیا بلکہ ذمہ داری کا احساس مزید بڑھا دیا اسی لئے آپ خود کو رعایا کا خادم سمجھتے تھے نہ کہ حاکم۔۔۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اخلاق بھی بے مثال تھا۔ وہ کمزوروں کا سہارا، مظلوموں کی امید، مسافروں کے مددگار، بیواؤں کے محافظ، یتیموں کے سرپرست اور محتاجوں کے خیر خواہ تھے۔ آپ کی مجلس میں امیر و غریب، عرب و عجم، آزاد و غلام سب کو یکساں عزت ملتی تھی۔ آپ کا یقین تھا کہ انسان کی اصل قدر اس کے نسب و دولت سے نہیں ہوتی ہے بلکہ تقویٰ اور کردار سے ہوتی ہے۔۔۔۔

آپ کی سیرت کا ایک اور روشن باب علم دوستی اور مشاورت ہے۔ بڑے سے بڑا فیصلہ بھی اہلِ علم اور اصحابِ رائے سے مشورے کے بعد کرتے اور اگر اپنی رائے سے بہتر بات سامنے آتی تو اسے قبول کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کرتے۔ یہی انکساری ایک عظیم قائد کی حقیقی پہچان ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کے بے شمار تابناک پہلو ہیں جن میں ہر ایک اپنے اندر ایک مکمل درسگاہ کی حیثیت رکھتا ہے تاہم ان تمام اوصاف میں ان کی بے مثال حکمرانی کو ایک منفرد مقام حاصل ہے جس نے اسلامی

تاریخ ہی نہیں بلکہ عالمی تاریخ پر بھی گہرے نقوش چھوڑے ہے۔ ان کے نظامِ عدل، احساسِ ذمہ داری، رعایا پروری، سادگی اور جواب دہی کا ذکر کئے بغیر ان کی سیرت کا تذکرہ ادھورا رہ جاتا ہے اسی لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ اس روشن اور درخشاں پہلو پر الگ سے روشنی ڈالی جائے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ ایک حقیقی اسلامی حکمران اپنی رعایا کے ساتھ کس طرح کا تعلق رکھتا ہے اور اقتدار کو کس طرح عبادت اور امانت میں تبدیل کر دیتا ہے۔۔۔۔۔

 امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اقتدار تقویٰ کے ہاتھوں میں آ جائے تو سلطنتیں انصاف، رحم، دیانت اور خدمتِ خلق سے پہچانی جاتی ہیں۔ آپ نے خلافت کو بادشاہت کی بجائے امانت سمجھا اور تخت کو عیش و عشرت کا وسیلہ نہیں بننے دیا بلکہ اللہ کے سامنے جواب دہی کا میدان تصور کیا اسی لئے تاریخ کا ہر انصاف پسند قلم یہ ماننے پر مجبور ہے کہ دنیا نے بہت سے حکمران دیکھے ہے لیکن حضرت عمر فاروق جیسا حکمران صدیوں میں ایک ہی پیدا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی حکومت کی بنیاد عدل پر تھی۔ درباروں کی اونچی دیواروں اور پہرے داروں کے حصار کے بجائے آپ رات کی تاریکی میں گلیوں اور بازاروں کا رخ کرتے تھے، لوگوں کے گھروں کے دروازوں تک پہنچتے، بھوکوں کی بھوک محسوس کرتے، یتیموں کے آنسو پونچھتے اور بیواؤں کی ضروریات اپنے ہاتھوں سے پوری کرتے۔ آپ کے نزدیک حکمران وہ نہیں تھا جو رعایا سے دور محلوں میں بیٹھا رہے بلکہ وہ تھا جو اپنی قوم کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھ لے یہی وجہ ہے کہ آپ کے عدل کی مثالیں آج بھی دنیا کی سیاسی اور انتظامی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔

حضرت عمر کی شخصیت کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ تھا کہ ایک طرف ایران و روم جیسی عظیم سلطنتیں آپ کے نام سے لرزتی تھیں اور دوسری طرف آپ کے جسم پر پیوند لگا لباس ہوتا، کھانے میں سادگی ہوتی اور زندگی میں بے نفسی نمایاں ہوتی، بیت المال کو عوام کی امانت سمجھتے، اپنے اہل و عیال کے لئے بھی اس میں ناجائز تصرف گوارا نہ کرتے اور اس قدر احتیاط برتتے کہ اگر کسی جانور پر بھی ظلم ہوتا تو اس کی جواب دہی سے خوفزدہ ہو جاتے۔ آپ کا مشہور احساسِ ذمہ داری اس جملے میں سمٹ آتا ہے کہ 

اگر فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی بھوک یا غفلت سے مر جائے تو عمر کو ڈر ہے کہ اللہ اس سے سوال کرے گا۔۔۔۔۔۔

آپ کی نگاہ غلاموں، خادموں، مسافروں، غیر مسلم رعایا اور یہاں تک کہ جانوروں کے حقوق 

کی بھی غیر معمولی خیال رکھتی تھی۔ کسی محتاج کی مدد کرنا، کسی نابینا کی خدمت کرنا، کسی اجنبی عورت کے لئے اپنی زوجہ محترمہ کو مدد کے لئے بھیجنا اور خود چولہا جلا کر کھانا تیار کرنا آپ کے نزدیک حکمرانی سے کم تر کام نہیں تھے بلکہ یہی اصل خلافت تھی اسی عملی نمونے نے دنیا کو بتایا کہ اسلام میں اقتدار کا مفہوم خدمت ہے نہ کہ برتری۔۔۔۔۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عدل و انصاف کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ریاستی نظم و نسق، بیت المال، عدالتی نظام، مالیاتی انتظام، عوامی فلاح اور انتظامی اصلاحات میں ایسے اصول قائم کئے جن سے بعد کی کئی تہذیبوں نے بھی رہنمائی حاصل کی۔ ان کی حکمت عملی نے ایک وسیع اسلامی سلطنت کو نظم و ضبط کے ساتھ چلایا اور امت کو یہ سبق دیا کہ مضبوط ریاستیں دیانت دار قیادت سے قائم ہوتی ہیں۔۔

ان کی شہادت بھی ان کی زندگی ہی کی طرح اخلاص اور اللہ سے تعلق کا آئینہ دار تھی۔ وہ بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے تھے کہ انہیں اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں وفات ملے۔ قدرت نے اس دعا کو اس شان سے قبول کیا کہ نمازِ فجر کی امامت کے دوران ایک مجوسی غلام ابولؤلؤ نے خنجر سے حملہ کر دیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود حضرت عمر کی پہلی فکر اپنی جان نہیں تھی بلکہ نماز اور امت کا نظم تھا چنانچہ فوراً حضرت عبدالرحمن بن عوف کو آگے بڑھا کر نماز مکمل کرائی۔ چند روز بعد یکم محرم 24 ہجری کو آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا اور وہ سعادت بھی حاصل کی جس کی تمنا رکھتے تھے، یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہونے کا شرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی ایک ایسا روشن مینار ہے جو ہر دور کے حکمرانوں، قائدین، علماء، دانشوروں اور عام انسانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ حقیقی عظمت کو دولت اور جاہ و منصب میں تلاش نہ کرو بلکہ یہ عظمت تو انصاف، خوفِ خدا، خدمتِ خلق، عاجزی اور حق پر ثابت قدمی میں پوشیدہ ہے۔ اگر آج بھی دنیا امن و مساوات کی متلاشی ہے تو اسے تاریخ کے اوراق میں حضرت عمر فاروق کی سیرت کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے کیونکہ حضرت کی سیرت میں اقتدار کا وہ نمونہ ملتا ہے جس میں رعایا کی خوش حالی حکمران کی کامیابی کا معیار تھی اور اللہ کی رضا ہر فیصلے کا اصل مقصد تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ عدل کی چلتی پھرتی تصویر، تقویٰ کا زندہ نمونہ، شجاعت کا استعارہ، خدمتِ خلق کا روشن مینار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ایسا معجزہ تھے جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 رضی اللہ عنہ و رضی عنہ

 

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)