Sep 13, 2026 09:49 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
آزمائش کے بعد تعمیر نو کا سفر !عبدالجبار علیمی نیپالی

آزمائش کے بعد تعمیر نو کا سفر !عبدالجبار علیمی نیپالی

10 Sep 2026
1 min read

Editorial

آزمائش کے بعد تعمیر نو کا سفر !

ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔۔

عبدالجبار علیمی نیپالی 

نیپال ایک بار پھر ایک سخت آزمائش سے گزر رہا ہے۔ حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے ملک کے مختلف علاقوں میں زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ بہت سے خاندان اپنے گھروں سے محروم ہوئے، سڑکیں اور پل متاثر ہوئے اور ہزاروں لوگوں کو خوراک، صاف پانی، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کی ضرورت پیش آئی۔

ایسے وقت میں سب سے بڑی ضرورت سیاست، اختلاف اور ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر انسانیت اور قومی ذمہ داری کو ترجیح دینا ہے۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ حکومت، سیکیورٹی ادارے، سماجی تنظیمیں، امدادی ادارے اور دوست ممالک متاثرین کی مدد کے لیے آگے آ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، ادویات اور عارضی رہائش کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بحالی بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔تعاون کا سلسلہ چہار جانب سے جاری ہے، اور حکومت کے شائع کردہ بینک اسکینر میں جس طرح ملکی پیمانے پر تعاون کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح بیرون ممالک سے بھی تعاون کا سلسلہ ابھی جاری ہی ہے پڑوسی ممالک میں ہندوستان بنگلا دیش پاکستان ، عرب امارات ، قطر بحرین سعودیہ ، اور یورپ ممالک نے بھر پور پیغام انسانیت دیتے ہوئے ایسے وقت میں ملک کے ساتھ تعاون کرکے نہ صرف ہمارے ملک کو تعمیر نو میں ہاتھ بٹایا ہے بلکہ ہمیں ایک عزم اور حوصلہ دیا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں ہم ساتھ ہیں ۔

لیکن حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ صرف اعلانات کافی نہیں ہوتے۔ متاثرہ عوام کو فوری اور عملی مدد کی ضرورت ہے۔ امداد وہاں پہنچنی چاہیے جہاں واقعی ضرورت ہے۔ اس کے لیے شفافیت، دیانت داری اور منظم نظام انتہائی ضروری ہے۔

سیلاب اور قدرتی آفات کے وقت امداد کو سیاست اور تشہیر کا ذریعہ بنانا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ یہ وقت ایک دوسرے پر الزام لگانے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا ہے۔ ہر سیاسی جماعت، سماجی تنظیم، مذہبی ادارے اور عام شہری کو اپنی استطاعت کے مطابق متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قدرتی آفات صرف حکومت کا امتحان نہیں ہوتیں بلکہ پورے معاشرے کا امتحان ہوتی ہیں۔ ایک ذمہ دار قوم وہی ہوتی ہے جو مشکل وقت میں کمزور اور متاثرہ لوگوں کو تنہا نہ چھوڑے۔

آج نیپال کو اتحاد، صبر اور امید کی ضرورت ہے۔ ہمیں مایوسی کے بجائے تعمیر و ترقی کی طرف دیکھنا ہوگا۔ تباہ شدہ بستیاں دوبارہ آباد ہوں گی، سڑکیں اور پل دوبارہ بنیں گے اور زندگی پھر سے معمول کی طرف آئے گی، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں۔

نیپال کے حالیہ حالات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مصیبت کے وقت انسانیت سب سے بڑی پہچان ہے۔ سرحدیں، زبانیں، جماعتیں اور نظریات اپنی جگہ، مگر جب انسان مصیبت میں ہو تو سب سے پہلے انسانیت کا ہاتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

نیپال اردو ٹائمز حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ امدادی کاموں میں مزید تیزی، شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی تمام سیاسی و سماجی قوتوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس قومی آزمائش میں اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر متاثرین کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھیں۔

آج ہمیں آپس میں لڑنےکی نہیں بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے  کی ضرورت ہے ، تمام سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام تراشی سے ہٹ کر ملک کو کس طرح سنبھالا جائے نقصانات کو کس طرح سے برداشت کیا جائے اس جانب غور کریں ۔

حکومت کو اس وقت ہم سب کی دعائیں اور تعاون کی ضرورت ہے ۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)