Apr 19, 2026 07:34 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بالیندر شاہ کی موجودہ سرکار ، قومی سالمیت اور ملکی خود مختاری کی طرف بڑھتے قدم

بالیندر شاہ کی موجودہ سرکار ، قومی سالمیت اور ملکی خود مختاری کی طرف بڑھتے قدم

16 Apr 2026
1 min read

بالیندر شاہ کی موجودہ سرکار ، قومی سالمیت اور ملکی خود مختاری کی طرف بڑھتے قدم

ڈاکٹر ثاقب ہارونی

کاٹھمانڈو نیپال

نیپالی سیاست میں اس عظیم ڈرامائی تبدیلی کا یقین خود ربی لمیچھانے  اور بالیندر شاہ کو بھی نہیں تھاعوام الناس کا مقصد صرف کرپشن فری صاف ستھری قیادت کا انتخاب تھا لیکن اس بات کا اندازہ کسی کو بھی نہیں تھا کہ عوام سیاسی لیڈروں اس قدر بدظن ہے 

لگ بھگ دو دہائیوں سے عوام الناس سنڈیکیٹ سسٹم بھاگ بنڈا  کی سیاست سے تنگ آچکی تھی کہیں نہ کہیں نیپال کی سیاست پر اشرافیہ کے علاوہ کسی کا پکڑ باقی نہیں رہا تھا موجودہ دستور میں ایک شاندار دستور ہونے کے باوجود جس طرح سے اہل سیاست نے دستور و آئین کی دھجیاں اڑائیں وہ عوام الناس کو ناقابل قبول تھا 

دستوری طور پر نیپال ایک متناسب اشتمالی جمہوریہ ہونے کے باوجود  اشرافیہ نے ان دستوری و آئینی شقوں کو اپنے مفاد میں بے تحاشا استعمال کیا اپنی بیوی ، سالی ، گرل فرینڈ کو اشتمالیت کے لئے اہل سمجھا اور جس کیلئے اشتمالیت لایا گیا تھا وہ مقصد مفقود ہوکر رہ گیا تھا تناسب کیلئے کلسٹر کا قیام بھی عصبیت سے

عکاس تھا کلسٹر کا قیام برادری کے برعکس ذات پات کی بنیاد پر کیا مثال کے طور پر نیپال میں ۱ ہندو ، ۲ بدھسٹ ، ۳ کراتی ، ۴ مسلم ، اور ۵  کرسچین برادریاں ہیں  برادریوں کی بنیاد پر اشتمالیت اور متناسب ( رزرویشن ) کو ذات بات کے طور پر کیا یعنی مسلم ایک قوم ایک برادری ہے یہاں پر مسلمانوں کو پانچواں کلسٹر نہ مان کر ایک ذات مانا گیا اس بھی بس نہ ہوکر مسلمانوں کو مدھیشی ، پہاڑی ، مرد عورت میں بانٹ کر ہر طرح سے استحصال کرنے کی کوشش کی اور گزشتہ سرکاریں جو سیکولرزم کے نعرے لگارہی تھیں مسلمانوں کے حقوق کو لے کر کمیونلزم پر اتر آئیں 

ایسے کراتی عیسائی بدھسٹ ہر طبقہ ایک عجیب سی کشمکش کا شکار تھا جو اس الیکشن میں اس کا شور سننے کو ملا اور عوام الناس ایسی تمام پارٹیوں کو  زوردار تھپڑ رسید کیا اور کہا

کہ یہ نیپال صرف اشرافیہ کا نہیں بلکہ عام نیپالیوں کا ہے زین جی آندولن بھی مذکورہ بالا تعفن زدہ آلودہ ماحول کا پیداوار تھا 

اس تعفن زدہ آلودہ کرپشن کے ماحول سے ملک کو باہر نکالنے اور چپل چھاپ تاناشاہوں سے ملک کی آزادی کو لے کر عوام نے ربی لمیچھانے اور بالیندر شاہ کی قیادتوں کو نیپال کا زمام اقتدار سونپنے کا کام کیا ہے  سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا تھا کہ بالیندر کی حکومت امریکہ کی رجیم چینج کا حصہ ہے اس لئے امریکی مفادات کی احیاء میں ایم سی سی  کے ساتھ میں اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کیلئے ایس پی پی کو بھی قبول کرلے گی جس کے تحت نیپال میں امریکہ عسکری طور پر اپنے پاؤں پسارنے کیلئے اہل ہوجائے گا اور نیپال میں امریکی عسکری موجودگی نیپال کی چین کے ساتھ بھارت سے بھی رشتوں کو متاثر کردے گی مگر بالیندر شاہ کی سرکارنے ایس پی پی کو نہ قبول کرکے نیپال کو یوکرین بننے سے روکنے کا  تاریخی فیصلہ لیا ہے اور جس عزم و ہمت اور فہم و فراست کا مظاہرہ کیا ہے عالمی سیاسی تجزیہ کار انگشت بدنداں ہیں 

ایسے کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن ، تعلیمی ، معاشی و اقتصادی ریفارمنگ کے فیصلوں نے نیپالی عوام کے من کو موہنے کا کام کیا ہے 

بالیندر شاہ کے موجودہ اقدام اور فیصلے ملک کی خود مختاری اور قومی سالمیت کے حق میں مفید اور تاریخی  ثابت ہوتے ہوئے نظر آرہے 

میں ان تمام عالمی اور تیزی سے بدلتے ملکی حالات کے پیش نظر میں کشمکش اور انتشار کا شکار بھی تھا مگر ایک شاعر کے اک شعر مجھ سے کچھ یوں مخاطب ہوا 

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا 

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا.

)مضمون نگار نیپال میں اردو ادب کے مشہور و معروف شاعر ہیں ،اردو ادب کے حوالے سے نہایت ہی مخلص ہیں )

غزل

ڈاکٹر ثاقب ہارونی کاٹھمانڈو نیپال

مریض عشق ہوں میرا علاج بھی کردے 

حمیلِ ناز و ادا تخت و تاج بھی کردے 

دل و دماغ پہ ہرپل  سوار ہو کے رہے 

ہو اضطراب تلوُّن مزاج بھی کردے 

یہ میری آنکھ اجالوں سے ہے فقط مانوس 

شبِ سیاہ میں روشن سراج بھی کردے 

خلوص پیار وفاؤں کے اب رجسٹر میں 

ہمارے نام کا تو اندراج بھی کردے 

کبھی کبھار تو کانٹوں سے میں الجھ جاؤں 

لہولہان  کبھی  یہ  سماج بھی کردے 

میں تیری نظم میں اک شوخ استعارہ ہوں 

غزل کی طرح حسیں امتزاج بھی کردے 

یوں کل کے نام پہ گزرانِ زندگی ہے محال

تو میرے نام شب و روز آج بھی کردے 

یہ شوق اور تعلق وفا خلوص میاں

دلوں میں پیدا بہت اختلاج بھی کردے

فقیرِ عشق ہوں ثاقب  ادا کہاں سے کروں

کبھی معاف جنوں کا خراج بھی کردے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383