ملی اداروں اور تنظیموں کا تعاون کیوں ضروری ہے؟
ڈاکٹر سلیم انصاری
جھاپا نیپال
کسی بھی معاشرے کی ترقی اور مضبوطی کے لیے مضبوط افراد کے ساتھ مضبوط اداروں اور تنظیموں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ کوئی بھی قوم صرف انفرادی صلاحیتوں کے ذریعے دیرپا ترقی نہیں کر سکتی، بلکہ اس کے لیے ایسے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جو تعلیم، تربیت، سماجی خدمت، رفاہ، تحقیق، نوجوانوں کی رہنمائی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں۔ اسی لیے ہمیں اپنے معاشرے میں قائم ملی، تعلیمی، دینی، سماجی اور رفاہی اداروں کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور ان کے ساتھ اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کرنا چاہیے۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ادارہ مکمل نہیں ہوتا۔ ہر ادارے میں کسی نہ کسی شکل میں کمی، کمزوری یا انتظامی خامی ہو سکتی ہے۔ کہیں منصوبہ بندی کمزور ہو سکتی ہے، کہیں وسائل کی کمی ہو سکتی ہے، کہیں انتظامی معاملات میں بہتری کی ضرورت ہو سکتی ہے، کہیں جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے اور کہیں افراد کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کسی ادارے سے یہ توقع رکھنا کہ اس میں کوئی کمی نہیں ہوگی، ایک غیر حقیقی توقع ہے۔ ادارے انسان چلاتے ہیں اور انسان خطا سے پاک نہیں ہوتے۔ اس لیے ہر ادارے میں اصلاح اور بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
لیکن کسی ادارے کی خامیوں کو دیکھ کر اس کے ہر اچھے کام کو نظر انداز کر دینا بھی مناسب رویہ نہیں ہے۔ ہمیں یہ فرق سمجھنا چاہیے کہ کسی ادارے میں اصلاح کی ضرورت ہونا اور اس ادارے کے ہر کام کو غلط سمجھنا دو الگ باتیں ہیں۔ اگر کسی ادارے میں کئی اچھے کام ہو رہے ہوں اور بعض معاملات میں کمزوری ہو تو ہمیں اس کمزوری کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن اس بنیاد پر ادارے کے تمام مثبت کاموں سے خود کو الگ کر لینا دانش مندی نہیں۔ ہمیں اداروں کو کمزور کرنے کے بجائے ان کی اصلاح اور مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی ملی یا سماجی ادارے سے باضابطہ طور پر جڑنا، اس کی رکنیت لینا یا اس کے عہدے دار بننا ہر شخص کے لیے ضروری نہیں ہے۔ ہر شخص کی اپنی مصروفیات، اپنی ترجیحات اور اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ کوئی شخص کسی ادارے کا رکن یا عہدیدار بنے بغیر بھی اس کے اچھے کاموں میں تعاون کر سکتا ہے۔ اگر کوئی ادارہ تعلیم، رفاہ، غریبوں کی مدد، یتیموں کی کفالت، نوجوانوں کی تربیت، خواتین کی تعلیم، سماجی اصلاح یا کسی دوسرے مفید شعبے میں کام کر رہا ہے تو ہم اس کے ساتھ مالی، اخلاقی، علمی یا عملی تعاون کر سکتے ہیں، چاہے ہم اس ادارے کے باقاعدہ رکن نہ ہوں۔
درحقیقت ہمیں وابستگی اور تعاون کے درمیان فرق سمجھنا چاہیے۔ وابستگی کا مطلب کسی ادارے کے نظام کا باقاعدہ حصہ بننا ہے، جبکہ تعاون کا مطلب کسی اچھے اور مفید کام میں اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالنا ہے۔ ہر شخص کے لیے باقاعدہ وابستگی ممکن نہیں، لیکن خیر کے کام میں تعاون تقریباً ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق کر سکتا ہے۔ کوئی مالی تعاون کر سکتا ہے، کوئی وقت دے سکتا ہے، کوئی اپنی مہارت پیش کر سکتا ہے، کوئی کسی مستحق کو ادارے تک پہنچا سکتا ہے، کوئی ادارے کے مثبت کام کو لوگوں تک پہنچا سکتا ہے اور کوئی کسی منصوبے کے لیے مشورہ یا فنی مدد فراہم کر سکتا ہے۔
قرآن کریم ہمیں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی تعلیم دیتا ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى۔ اس تعلیم کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں خیر اور بھلائی کا کام ہو، وہاں انسان اپنی استطاعت کے مطابق اس کا ساتھ دے۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہم اس ادارے کے ہر فرد، ہر فیصلے یا ہر طریقۂ کار سے متفق ہوں۔ ہم کسی ادارے کے بعض معاملات سے اختلاف رکھتے ہوئے بھی اس کے اچھے اور خیر کے کاموں میں تعاون کر سکتے ہیں۔
لیکن یہ ذمہ داری صرف افراد کی نہیں، اداروں کی بھی ہے۔ جس طرح
افراد کو اداروں سے اوپر اٹھ کر خیر کے کاموں میں تعاون کرنا چاہیے، اسی طرح اداروں کو بھی اپنے ادارہ جاتی دائرے، گروہی وابستگی اور محدود حلقۂ اثر سے اوپر اٹھ کر کام کرنا چاہیے۔ کسی ادارے کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ صرف وہی لوگ ہمارے اپنے ہیں جو ہماری تنظیم، ہمارے گروپ یا ہماری مجلس سے وابستہ ہیں۔ معاشرے میں جو بھی شخص مفید، باصلاحیت، مخلص اور خدمت کا جذبہ رکھنے والا ہے، اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے اور اس کی صلاحیت سے استفادہ کرنا چاہیے۔
صلاحیت کسی ایک ادارے کی ملکیت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص تعلیم کے میدان میں ماہر ہے، کوئی تحقیق میں مہارت رکھتا ہے، کوئی میڈیا اور ابلاغ کو سمجھتا ہے، کوئی ٹیکنالوجی کا ماہر ہے، کوئی انتظامی صلاحیت رکھتا ہے، کوئی قانونی امور جانتا ہے، کوئی معاشی منصوبہ بندی کر سکتا ہے اور کوئی نوجوانوں کو منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو ایسے افراد کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہمارے ادارے کے رکن نہیں ہیں۔ اگر ان کی صلاحیت خیر کے کسی کام میں استعمال ہو سکتی ہے تو انہیں ساتھ جوڑنا چاہیے۔
اداروں کو یہ سوچ پیدا کرنی چاہیے کہ ہر باصلاحیت اور مفید شخص ہمارے لیے ایک ممکنہ اثاثہ ہے، حریف نہیں۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے ادارے سے وابستہ ہے لیکن اس کی صلاحیت کسی مشترکہ ملی یا سماجی مقصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے تو اس سے بھی تعاون اور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر قابل شخص ہمارے ادارے کا رکن بنے۔ کبھی صرف اس کی علمی رائے کافی ہوتی ہے، کبھی اس کا ایک مشورہ کسی منصوبے کو بہتر بنا سکتا ہے، کبھی اس کی مہارت کسی کام کو نئی سمت دے سکتی ہے اور کبھی اس کا تجربہ پوری نسل کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ہمیں اداروں میں "اپنے لوگ" اور "باہر کے لوگ" کی تقسیم کو کم کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص خیر کے کام میں مدد کر سکتا ہے تو اس کا خیر کے کام میں خیر مقدم ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی خاص گروہ، تنظیم، مسلک، ادارے یا حلقے سے وابستہ ہو۔ اجتماعی کام کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ کون شخص کس خیر کے کام میں کیا مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسی طرح کسی ادارے کو صرف اس خوف سے کسی باصلاحیت شخص کو آگے آنے سے نہیں روکنا چاہیے کہ کہیں وہ مستقبل میں زیادہ نمایاں نہ ہو جائے۔ ادارے افراد کو دبانے سے مضبوط نہیں ہوتے، بلکہ صلاحیتوں کو سامنے لانے سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر ایک شخص ادارے سے بہتر کام کر سکتا ہے تو اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ادارے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی دور اندیشی ہے۔ ایک اچھا ادارہ وہ ہے جو اپنے بعد بھی باصلاحیت افراد کی ایک مضبوط نسل تیار کرے۔
بدقسمتی سے ہمارے اجتماعی ماحول میں کبھی کبھی شخصی پسند و ناپسند، گروہی وابستگی اور باہمی اختلافات صلاحیتوں پر غالب آ جاتے ہیں۔ کسی شخص کو اس لیے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے حلقے سے تعلق نہیں رکھتا، کسی کو اس لیے موقع نہیں دیا جاتا کہ اس کی رائے مختلف ہے، اور کسی کی صلاحیت اس لیے استعمال نہیں کی جاتی کہ وہ کسی دوسرے ادارے کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے۔ یہ رویہ اجتماعی نقصان کا سبب
بنتا ہے۔ ہمیں اس ذہنیت سے اوپر اٹھنا ہوگا۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قوم کا ہر قابل شخص پوری قوم کا اثاثہ ہے۔ کسی ایک ادارے، تنظیم یا گروہ کا نہیں۔ اگر کسی نوجوان میں غیر معمولی صلاحیت ہے تو اس کی صلاحیت سے پورا معاشرہ فائدہ اٹھائے۔ اگر کوئی عالم اچھا محقق ہے تو اسے تحقیق کے میدان میں موقع ملے۔ اگر کوئی استاد بہترین تعلیمی صلاحیت رکھتا ہے تو اس سے استفادہ کیا جائے۔ اگر کوئی نوجوان ڈیجیٹل میڈیا سمجھتا ہے تو اسے مثبت دعوت، تعلیم اور سماجی خدمت کے کام میں استعمال کیا جائے۔ اگر کوئی ماہر بیرونِ ملک یا کسی دوسرے شعبے میں تجربہ رکھتا ہے تو اس تجربے کو اپنے معاشرے کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔
اسی طرح افراد کو بھی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے وقت یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ادارہ مکمل طور پر ہماری مرضی کے مطابق ہو۔ اگر ادارے میں خیر کا پہلو موجود ہے تو اس خیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ اختلاف ہو تو اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ کسی ادارے کی کمزوری ہمیں اس کے تمام اچھے کاموں سے دور نہ کرے اور کسی ادارے کی خوبی ہمیں اس کی ہر خامی کو نظر انداز کرنے پر مجبور نہ کرے۔
ہمیں ایک ایسا اجتماعی ماحول بنانا ہوگا جہاں افراد اداروں کا تعاون کریں اور ادارے افراد کی صلاحیتوں کا احترام اور اعتراف کریں۔ افراد اداروں سے اوپر اٹھ کر خیر کو دیکھیں اور ادارے بھی اپنے مفاد اور محدود دائرے سے اوپر اٹھ کر ملت اور معاشرے کے مفاد کو دیکھیں۔ یہی رویہ اجتماعی طاقت پیدا کرتا ہے۔
اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے صرف پیسہ ہی ضروری نہیں ہوتا۔ کسی ادارے کو تعاون دینے کے بہت سے طریقے ہیں۔ کوئی شخص مالی تعاون کر سکتا ہے، کوئی اپنی علمی صلاحیت دے سکتا ہے، کوئی تدریس میں مدد کر سکتا ہے، کوئی ترجمہ اور تحریر کا کام کر سکتا ہے، کوئی قانونی رہنمائی دے سکتا ہے، کوئی میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ادارے کے مثبت کاموں کو لوگوں تک پہنچا سکتا ہے، کوئی انتظامی صلاحیت استعمال کر سکتا ہے اور کوئی صرف اپنا وقت دے کر رضاکارانہ خدمت انجام دے سکتا ہے۔ اسی طرح ادارے بھی اپنے دروازے مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے کھلے رکھیں اور ان کی مہارتوں سے مناسب طریقے سے فائدہ اٹھائیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ تنقید اور تعاون ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ ایک ادارے سے تعاون کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر خامی پر خاموش رہا جائے۔ اگر کہیں اصلاح کی ضرورت ہے تو اصلاح کی بات ضرور ہونی چاہیے، لیکن انداز اصلاحی اور خیرخواہانہ ہونا چاہیے۔ تنقید کا مقصد ادارے کو گرانا نہیں بلکہ بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ اسی طرح ادارے کو بھی تعمیری تنقید کرنے والے شخص کو دشمن سمجھنے کے بجائے اس کی بات پر غور کرنا چاہیے۔
ہمیں اداروں کے درمیان بھی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ ایک ادارہ تعلیم کے میدان میں بہتر کام کر سکتا ہے، دوسرا رفاہی خدمات میں، تیسرا نوجوانوں کے میدان میں اور چوتھا تحقیق یا میڈیا کے میدان میں۔ اگر یہ ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے
فائدہ اٹھائیں اور جہاں ممکن ہو مشترکہ منصوبوں پر کام کریں تو محدود وسائل کے باوجود بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ہر ادارے کا دوسرے ادارے سے مقابلہ کرنا ضروری نہیں؛ بعض اوقات تعاون مقابلے سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔
ہمیں سوشل میڈیا کے دور میں بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ اگر کوئی ملی یا سماجی ادارہ اچھا کام کر رہا ہے تو اس کے مثبت کام کو دوسروں تک پہنچانا بھی تعاون کی ایک شکل ہے۔ آج ایک شخص اپنے موبائل فون کے ذریعے کسی اچھے منصوبے کو ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم غیر ضروری الزام تراشی، افواہوں اور شخصی حملوں سے بچیں۔ اگر کسی ادارے کے بارے میں کوئی شکایت ہو تو پہلے حقیقت معلوم کی جائے اور پھر ذمہ دارانہ انداز میں بات کی جائے۔
اصل ضرورت ہمیں اپنے اندر ادارہ سازی اور اجتماعی سوچ پیدا کرنے کی ہے۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہر کام کوئی دوسرا شخص کرے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ میں اس کام میں اپنا کیا حصہ ڈال سکتا ہوں۔ اسی طرح اداروں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ میرے ادارے کے باہر کون کون سے باصلاحیت لوگ موجود ہیں جن کی صلاحیت سے اجتماعی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
آخر میں ہمیں ایک متوازن اور وسیع القلب اجتماعی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ نہ اندھی حمایت، نہ اندھی مخالفت؛ نہ ہر خامی کو نظر انداز کرنا، نہ ہر خامی کی وجہ سے پورے ادارے کو مسترد کرنا؛ نہ افراد کو اداروں سے بالاتر سمجھنا، نہ اداروں کو افراد کی صلاحیتوں سے بے نیاز سمجھنا۔ جہاں خیر ہے وہاں تعاون، جہاں کمی ہے وہاں اصلاح، جہاں اختلاف ہے وہاں حکمت، جہاں صلاحیت ہے وہاں اس سے استفادہ، اور جہاں ضرورت ہے وہاں اپنی استطاعت کے مطابق عملی خدمت—یہی ایک صحت مند اجتماعی رویہ ہے۔
کوئی ادارہ کامل نہیں ہوتا، لیکن ہر اچھے ادارے کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کسی ادارے سے باضابطہ طور پر جڑنا ہر شخص کے لیے ضروری نہیں، لیکن اس کے خیر کے کاموں میں تعاون کرنا ضرور ممکن ہے۔ اسی طرح کسی ادارے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہر باصلاحیت شخص اس کا باقاعدہ رکن ہو۔ ضروری یہ ہے کہ ادارہ اپنی وسعتِ نظر کے ساتھ ہر مفید اور اہل شخص کی صلاحیت کو قوم و معاشرے کے لیے استعمال کرے اور اسے اپنا اثاثہ سمجھے۔
ہمیں اداروں کو توڑنے والی نہیں، ادارے بنانے والی سوچ چاہیے۔ ہمیں افراد کو تقسیم کرنے والی نہیں، صلاحیتوں کو جوڑنے والی قیادت چاہیے۔ ہمیں اپنے ادارے سے اوپر اٹھ کر ملت کو دیکھنا ہوگا، اور اپنی ذات و گروہ سے اوپر اٹھ کر خیر کو دیکھنا ہوگا۔
اگر ہم یہ مزاج پیدا کر لیں کہ فرد ادارے کے اچھے کام میں تعاون کرے، ادارہ فرد کی صلاحیت کا احترام کرے، ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور سب مل کر خیر کے کام کو آگے بڑھائیں تو ہمارے اجتماعی مسائل کا حل بھی آسان ہوگا اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی تیار ہوگی۔
ملی ادارے ہمارے اجتماعی اثاثے ہیں۔ ان کی اصلاح بھی ہماری ذمہ داری ہے اور ان کے خیر کے کاموں میں تعاون بھی۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر ادارے کے رکن بنیں؛ ضروری یہ ہے کہ جہاں خیر کا کام ہو، وہاں ہم خیر کے کام میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ اور ضروری نہیں کہ ہر باصلاحیت شخص ہمارے ادارے کا حصہ بنے؛ ضروری یہ ہے کہ ہم اس کی صلاحیت کو قوم و معاشرے کا اثاثہ سمجھ کر اس سے استفادہ کریں۔وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى
