*عظمت محرم،اہل بیت اور پیغام کربلا*
محمد علی شیر قادری نظامی
سکونت:روضہ شریف، مہوتری نیپال
اللہ رب العزت نے زمان و مکان کی تخلیق کے ساتھ بعض اوقات اور بعض مقامات کو خصوصی فضیلت، برکت اور تقدس عطا فرمایا ہے۔سال کے بارہ مہینوں میں چندمہینےایسے ہیں جنہیں شریعتِ مطہرہ میں غیر معمولی عظمت اور حرمت حاصل ہے۔ انہی مبارک مہینوں میں محرم الحرام بھی شامل ہے، جو اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خصوصی احترام اور تقدس کا حامل ہے۔ اس مہینے کی آمد دراصل ایک نئے سال کا آغاز ہی نہیں بلکہ ایمان،احتساب، قربانی، وفاداری اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر طرح کی آزمائش کو قبول کرنے کے عزم کی تجدید کا پیغام بھی ہے۔قرآنِ کریم نے جن چار مہینوں کو حرمت والا قرار دیا ہے ان میں محرم الحرام نمایاں مقام رکھتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مہینے کو "شہر اللہ" یعنی اللہ کا مہینہ فرمایا۔ یہ نسبت ہی اس مہینے کی عظمت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے، کیونکہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرما دے اس کا شرف اور بڑھ جاتا ہے۔ اس مہینے میں عبادات، ذکر و اذکار، توبہ و استغفار اور نفلی روزوں کی خصوصی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ خصوصاً دسویں محرم یعنی یومِ عاشورہ ایسا دن ہے جس سے انبیائے کرام علیہم السلام کی تاریخ، امتوں کے عروج و زوال اور اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔روایات میں مذکور ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی ، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد کنارۂ نجات پر پہنچی، حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے محفوظ رکھے گئے، حضرت یوسف علیہ السلام کوقید سے رہائی نصیب ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے ظلم و استبداد سے نجات ملی۔ ان تمام واقعات پر غور کیا جائے تو ایک حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وفادار بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آزمائشیں آتی ہیں، مشکلات بڑھتی ہیں، ظاہری اسباب ختم ہوتے دکھائی دیتے ہیں مگر آخرکار نصرتِ الٰہی حق والوں ہی کے حصے میں آتی ہے۔اسی نسبت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یومِ عاشورہ کے روزے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ یہ روزہ دراصل بندۂ مومن کو صبر، شکر اور اطاعتِ الٰہی کی یاد دلاتا ہے۔ اہلِ ایمان اس دن کو صرف ایک تاریخی واقعے کے طور پر نہیں بلکہ اپنے رب کے ساتھ تعلق کی تجدید اور روحانی پاکیزگی کے موقع کے طور پر مناتے ہیں۔محرم الحرام کا ذکر آتے ہی دلوں میں اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت کی خوشبو مہکنے لگتی ہے۔ وہ اہلِ بیت جن کے بارے میں قرآنِ کریم نے طہارت و پاکیزگی کی گواہی دی، جن سے محبت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت قرار دیا گیا اور جن کی عظمت و شان قیامت تک امتِ مسلمہ کے لیے سرمایۂ افتخار رہے گی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شجاعت، حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی حلم و بردباری اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی اسلام کے درخشاں ابواب ہیں۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ محبوب نواسے ہیں جنہیں آغوشِ نبوت میں تربیت ملی، جن کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے، انہیں
اپنے کندھوں پر بٹھاتے اور ان کے حق میں دعائیں فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کہ "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں" امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ یہ صرف نسبی تعلق کا اظہار نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کا مشن دراصل محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کا تسلسل ہے۔جب اسلامی تاریخ کا وہ نازک مرحلہ آیا جس میں دین کی اصل روح اور اسلامی اقدار کو خطرات لاحق ہوگئے تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے حق و صداقت کا عَلَم بلند کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ ایک مومن کا سر کٹ سکتا ہے مگر حق کے سامنے جھک نہیں سکتا۔ کربلا کا میدان بظاہر ایک صحرا تھا مگر حقیقت میں وہ حق و باطل کے درمیان ایک ایسا معرکہ تھا جس نے قیامت تک آنے والی نسلوں کو حریت، عزت اور استقامت کا درس دے دیا۔جب دریائے فرات کنارے موجود تھا مگر اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خیموں پر پانی بند کر دیا گیا، جب معصوم بچوں کی پیاس آسمان سے فریاد کر رہی تھی، جب چند نفوسِ قدسیہ ہزاروں کے لشکر کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے، تب بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کے چہرے پر صبر، یقین اور رضا کی روشنی نمایاں تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ مقصد صرف اپنی جان بچانا نہیں بلکہ دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرنا ہے۔ اسی لیے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اہلِ خانہ، نوجوان بیٹوں، بھتیجوں اور جانثار ساتھیوں کو راہِ حق میں قربان کر دیا مگر باطل کے سامنے سمجھوتہ نہ کیا۔اہلِ تصوف فرماتے ہیں کہ کربلا دراصل عشقِ الٰہی کی معراج ہے۔ یہاں انسان اپنے رب کی رضا کے لیے اپنی خواہشات، اپنے مفادات اوریہاں تک کہ اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے ثابت کیا کہ جب بندہ اللہ کی محبت میں فنا ہو جاتا ہے تو پھر اس کے نزدیک دنیا کی کوئی طاقت، کوئی لالچ اور کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا محض ایک جنگ کا نام نہیں بلکہ روحانیت، وفاداری، اخلاص، رضا اور عشق کی ایک زندہ تفسیر ہے۔آج بھی جب محرم الحرام آتا ہے تو کربلا کی سرزمین سے ایک صدا بلند ہوتی ہے کہ حق کا ساتھ دو، ظلم کے خلاف کھڑے ہو جاؤ، اپنے ضمیر کا سودا مت کرو، دین کو دنیا پر مقدم رکھو اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصد بنا لو۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کا پیغام کسی ایک فرقے، قوم یا خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور تمام انسانیت کے لیے ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ عزت اطاعتِ الٰہی میں ہے، کامیابی صبر و استقامت میں ہے اور بقا صرف حق کے ساتھ وابستگی میں ہے۔محرم الحرام کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ہم اس کے روحانی پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ ہم اپنے اندر صبر، تقویٰ، اخلاص، وفاداری اور حق پسندی پیدا کریں۔ ہم اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت کو اپنے ایمان کا حصہ بنائیں اور ان کی تعلیمات کو اپنے کردار میں جگہ دیں۔ اگر امتِ مسلمہ کربلا کے پیغام کو سمجھ لے تو باہمی نفرتیں ختم ہو سکتی ہیں، اتحاد و اخوت مضبوط ہو سکتی ہے اور دینِ اسلام کی حقیقی روح دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں محرم الحرام کی برکتوں سے فیض یاب فرمائے، اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائے، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں حق، صداقت، صبر اور استقامت کی راہوں پر ثابت قدم رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔
محمد علی شیر قادری نظامی
سکونت:روضہ شریف، مہوتری نیپال
