وہ مدارس ہی ہیں جو ملکی کرپشن اور بدانتظامی کا خاتمہ کر سکتے ہیں
اسدالرحمان بیگ
؎ہمارے معاشرے میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ مدارس صرف امام، خطیب یا مدرس تیار کرنے کے لیے ہیں، جبکہ ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ، سائنس دان، جج، بیوروکریٹ اور سیاست دان دوسرے تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہیں۔ یہ سوچ نہ صرف محدود ہے بلکہ امت کی اس علمی روایت کے بھی خلاف ہے جس نے ایک ہی شخصیت میں دینی بصیرت اور دنیاوی مہارت کو جمع کیا تھا۔
مدارس صدیوں سے قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر اور اخلاقیات کی تعلیم کے مراکز رہے ہیں۔ ان اداروں کی ایک نمایاں خصوصیت نظم و ضبط، صبر، سخت محنت ،سادگی، وقت کی پابندی، اخلاقی تربیت اور استاد و شاگرد کے مضبوط تعلقات ہیں۔ یہی وہ صفات ہیں جو کسی بھی معاشرے میں دیانت دار اور ذمہ دار قیادت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اگر مدارس اپنے روایتی دینی نصاب کے ساتھ جدید سائنس، کمپیوٹر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، طب، قانون، معاشیات،بین الاقوامی تعلقات، انتظامی علوم اور سول سروس کی تعلیم بھی فراہم کریں تو وہ صرف علماء نہیں بلکہ ایسے باکردار ڈاکٹر، انجینئر، جج، پائلٹ، سائنس دان، سیاست دان اور سی ایس ایس افسر پیدا کر سکتے ہیں ایسے طالب علم ، علم کے ساتھ کردار اور امانت داری کی دولت بھی رکھتے ہیں۔
مدارس کی اخلاقی تربیت، نظم و ضبط اور دینی ماحول ایسے افراد کی تیاری میں مددگار ہو سکتے ہیں جو عوامی ذمہ داریوں کو زیادہ دیانت داری سے انجام دیں۔ انھیں اگر دینی تعلیم کے ساتھ جدید پیشہ ورانہ تعلیم بھی دی جائے تو ایسے افراد ملک میں شفافیت، انصاف اور بدعنوانی کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے مدارس ہی کے کچھ حلقوں میں یہ سوچ پنپ رہی ہے کہ مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کا دائرۂ کار صرف مسجد، مدرسہ یا فتویٰ نویسی تک محدود ہونا چاہیے۔ یہ تصور اسلام کے وسیع تعلیمی دائرہ کار اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیمات اور قرآن کے اصولوں کے خلاف ہے ایسا سوچ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو محدود کرنے والا اور ان کی حوصلہ شکنی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر ایک طالب علم قرآن و سنت کا عالم ہونے کے ساتھ ساتھ جدید سائنس، قانون، ٹیکنالوجی اور انتظامی امور میں بھی مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی ملنی چاہیے۔
اسلام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے صرف عبادات ہی نہیں بلکہ حکومت، عدل، تجارت، طب، فلکیات، ریاضی اور سائنس کے میدانوں میں بھی دنیا کی رہنمائی کی۔ اسلامی نظامِ حکمرانی کا تصور بھی یہی ہے کہ ریاست کے عدالتی، انتظامی، سیاسی اور معاشی معاملات ایسے افراد کے ہاتھ میں ہوں جو علم، تقویٰ، دیانت اور اہلیت کا امتزاج ہوں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ مدارس اپنی عظیم دینی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ترین کمپیوٹر لیبز، ٹیکنالوجی سینٹرز، سائنسی تحقیق، انگریزی زبان، ریاضی، معاشیات، قانون اور پیشہ ورانہ تعلیم کو بھی اپنے نصاب کا حصہ بنائیں۔ اسی طرح دینی سطح پر بھی ایسے ہدایات کو عام بنالی جاے کہ مدارس کے طلبہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا اظہارِ کرنے پر زور دیں۔
جب ایک ہی ادارے سے قرآن کا حافظ، حدیث کا عالم، جدید ٹیکنالوجی کا ماہر، ڈاکٹر، انجینئر، جج، پائلٹ، بیوروکریٹ اور سیاست دان تیار ہوگا تو علم اور کردار کا ایسا امتزاج وجود میں آئے گا جو ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مدارس کو محدود نہیں بلکہ قومی تعمیر کے مرکز کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دینی علوم کے ساتھ جدید علوم کو بھی اپنا لیں تو وہ نہ صرف اپنے اسلاف کی جامع علمی روایت کو زندہ کریں گے بلکہ ایک ایسی قیادت بھی تیار کریں گے جو انصاف، امانت، خدمتِ خلق اور اعلیٰ اخلاق کی بنیاد پر ملک کو ترقی اور استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچا سکے۔
