اسلامی سالِ نو 1448ھ کی دلی مبارکباد
تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے ہیں، جس نے حضرت آدم علیہ السلام کو ابوالبشر بنایا، ان سے نسلِ انسانی کا آغاز فرمایا اور اس خاکدانِ گیتی کو انسانوں سے آباد کیا۔ اس کائنات کی تمام رعنائیاں، اس کی بہاریں، اس کی رونقیں اور اس کی ہر نعمت درحقیقت تاجدارِ کائنات، رحمۃٌ للعالمین حضور نبی اکرم ﷺ کے نورِ اقدس کے طفیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے نور کو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی پہلے اپنے نور سے پیدا فرمایا، اور اسی نورِ محمدی ﷺ کے صدقے آج بھی دنیا ہدایت، رحمت، محبت اور انسانیت کی روشنی سے منور ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
"اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔" (الأنبیاء: 107)
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک زندگی اور موت، آمد و رفت، عروج و زوال، دن اور رات، چاند اور سورج، ستارے اور کہکشائیں اپنے مقررہ نظام کے مطابق گردش کر رہے ہیں۔ وقت کا یہ کارواں کبھی نہیں رکا، بلکہ ہر گزرتا لمحہ انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔
لیل و نہار کی گردش، ماہ و سال کی تبدیلی اور زمانے کے بدلتے ہوئے مناظر ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر ندامت کریں اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ
کریم ﷺ کی اطاعت کے سانچے میں ڈھالیں۔
آج ہم اسلامی سال 1448 ہجری میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہجری سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے، نہ کہ جنوری سے۔ یہ عظیم اسلامی تقویم حضور سیدِ عالم ﷺ کی تاریخی ہجرت کی یادگار ہے، جس نے اسلام کی دعوت کو نئی قوت، نئی وسعت اور نئی زندگی عطا کی۔ ہجرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دین کی سربلندی، ایمان کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر طرح کی قربانی پیش کرنا ہی اہلِ ایمان کا شیوہ ہے۔
محرم الحرام ان چار عظمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والا قرار دیا ہے۔ یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس کی دسویں تاریخ کو میدانِ کربلا میں محافظ اسلام، نواسۂ رسول ﷺ، جگر گوشۂ بتول، سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں نے دینِ اسلام کی بقا، حق کی سربلندی اور باطل کی سرکوبی کے لیے اپنی جانوں کا بے مثال نذرانہ پیش کیا۔
واقعۂ کربلا تاریخِ انسانیت کا ایسا عظیم اور بے مثال باب ہے جس کی نظیر نہ اس سے پہلے ملتی ہے اور نہ قیامت تک مل سکتی ہے۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق، صداقت، صبر، وفا، ایثار، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا ابدی پیغام دیتی رہے گی۔ یہ قربانی اعلان کرتی ہے کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، انجام کار شکست اسی کا مقدر ہے، جبکہ حق ہمیشہ سربلند رہتا ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
بھول جائیں گے سب کچھ، کربلا نہ بھولیں گے
جو حسین پر گزری ہے، وہ جفا نہ بھولیں گے
اور ایک دوسرے شاعر نے حقیقتِ کربلا کو یوں بیان کیا:
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حقیقت یہ ہے کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی عظیم نسبت رکھنے والی ہستی۔ اب جو بھی آئے گا، وہ نبی کریم ﷺ کا وارثِ علم ہوگا یا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نقشِ قدم پر چلنے والا غلامِ حسین ہوگا۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی ہر آنے والی نسل کو یہ پیغام دیتی رہے گی کہ اسلام تھا، اسلام ہے اور اسلام ہمیشہ رہے گا۔
اسلام تیری نبض نہ ڈوبے گی حشر تک
تیری رگوں میں خوں ہے رواں چار یار کا
اسلامی سالِ نو صرف مبارکباد دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ خود احتسابی، تجدیدِ ایمان،اصلاحِ نفس اور نئے عزم کے ساتھ زندگی گزارنے کا پیغام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ گزرے ہوئے سال کا محاسبہ کریں کہ ہم نے کیا کھویا، کیا پایا، کہاں نیکیاں کمائیں اور کہاں کوتاہیاں رہ گئیں۔ پھر نئے سال کا آغاز سچی توبہ، نمازوں کی پابندی، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، حسنِ اخلاق، والدین کی خدمت، صلہ رحمی، حقوق العباد کی ادائیگی اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کے مضبوط ارادے کے ساتھ کریں۔
آئیے! اس مبارک موقع پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں کہ وہ اسلامی سال 1448 ہجری کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے امن، سلامتی، اتحاد، خیر و برکت، دین پر استقامت، باہمی محبت اور اخوت کا سال بنائے، ہمیں شہدائے کربلا کے نقشِ قدم پر چلنے، دینِ اسلام کی صحیح خدمت کرنے، حق پر ثابت قدم رہنے اور باطل سے نفرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
🌹 اسلامی سالِ نو 1448ھ آپ، آپ کے اہلِ خانہ اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے خیر، برکت، امن، سلامتی اور کامیابی کا پیامبر ثابت ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس نئے سال میں اپنی رضا، اپنے محبوب ﷺ کی محبت اور دینِ متین کی خدمت نصیب فرمائے۔ آمین۔ 🌹
طالبِ دعا:
قاری رئیس احمد خان
چرہ محمد پور، فیض آباد
ضلع ایودھیا، اتر پردیش
