May 4, 2026 05:45 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بنگال میں بی جے پی..

بنگال میں بی جے پی..

04 May 2026
1 min read

بنگال میں بی جے پی...

 (حافظ)افتخاراحمدقادری

 ہندوستانی جمہوریت اپنی وسعت و تنوع اور غیر متوقع مزاج کے باعث ہمیشہ سے دنیا کی توجہ کا مرکز رہی ہے مگر بعض اوقات یہی جمہوریت ایسے نتائج سامنے لاتی ہے جو نہ صرف سیاسی مبصرین بلکہ خود عوام کے لیے بھی حیران کن ہوتے ہیں۔ بنگال کا حالیہ انتخابی منظرنامہ اسی نوعیت کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا جہاں تمام تر قیاس آرائیوں، ایگزٹ پولز اور عمومی تاثر کے بر خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالآخر وہ کامیابی حاصل کر لی جسے ایک وقت میں صرف ایک خواب یا مبالغہ سمجھا جا رہا تھا۔ یہ کامیابی ایک انتخابی جیت نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی عمل، حکمت عملی، نفسیاتی جنگ اور سماجی تغیرات کا نتیجہ ہے جسے سمجھے بغیر اس نتیجے کی اصل حقیقت تک پہنچنا ممکن نہیں۔ بنگال کی سیاست تاریخی طور پر علاقائی شناخت، ثقافتی شعور اور نظریاتی وابستگیوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں آل انڈیا ترنمول کانگریس نے نہ صرف اقتدار کو مضبوطی سے تھامے رکھا بلکہ بنگالی تشخص کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے خود کو عوام کے دلوں میں جگہ دی۔

 اس کے مقابلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے قومی بیانیے، مضبوط قیادت اور تنظیمی ڈھانچے کو بنیاد بنا کر بنگال میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ بظاہر یہ مقابلہ علاقائیت اور قومیت کے درمیان تھا مگر درحقیقت اس کے پیچھے کئی پیچیدہ عوامل کار فرما تھے۔ بی جے پی کی کامیابی کا سب سے اہم پہلو اس کی غیر معمولی تنظیمی صلاحیت رہی۔ گزشتہ چند برسوں میں پارٹی نے بنگال کے ہر ضلع، ہر تحصیل اور تقریباً ہر بوتھ سطح تک اپنی موجودگی کو یقینی بنایا۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر علاقائی جماعتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ووٹر کو صرف متاثر کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے پولنگ بوتھ تک لے کر آنا بھی ضروری ہوتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں بی جے پی نے اپنی برتری ثابت کی۔ اس نے نہ صرف اپنے کارکنان کو متحرک رکھا بلکہ ایک ایسا نیٹورک قائم کیا جو ہر ووٹر تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کے برعکس ترنمول کانگریس کی مقبولیت کے باوجود اس کی تنظیمی گرفت کئی مقامات پر کمزور دکھائی دی جس کا فائدہ براہ راست بی جے پی کو پہنچا۔ اسی کے ساتھ ساتھ بیانیہ سازی کا عمل بھی اس جیت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ بی جے پی نے بنگال میں صرف انتخابی مہم نہیں چلائی بلکہ ایک ذہنی اور نفسیاتی فضا بھی قائم کی۔ اس نے خود کو ایک متبادل قوت کے طور پر پیش کیا جو نہ صرف تبدیلی لا سکتی ہے بلکہ ریاست کو قومی دھارے سے مزید مضبوطی سے جوڑ سکتی ہے۔ اس بیانیے کو تقویت دینے کے لیے قومی سطح کے رہنماؤں کی بھرپور شرکت، بڑے جلسے اور ڈیجیٹل میڈیا کا وسیع استعمال کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں ترنمول کانگریس کا بیانیہ زیادہ تر دفاعی نوعیت اختیار کرتا گیا جو ایک وقت کے بعد عوام کے ایک طبقے کو متاثر کرنے میں ناکام رہا۔ بنگال میں بی جے پی کی جیت کا ایک اہم سبب ووٹوں کی تقسیم بھی رہا۔ ہندوستان کا انتخابی نظام، جسے "فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ" کہا جاتا ہے خود ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو بعض اوقات اصل عوامی تناسب کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ 

جب مخالف ووٹ کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں تو ایک منظم جماعت نسبتاً کم ووٹ لے کر بھی کامیابی حاصل کر لیتی ہے۔ بنگال میں کئی حلقوں میں یہی صورتحال دیکھنے کو ملی جہاں اپوزیشن کا ووٹ متحد نہ رہ سکا اور اس تقسیم نے بی جے پی کے لیے راستہ ہموار کر دیا۔ اس کے علاوہ ووٹر کے رویے میں آنے والی تبدیلی بھی اس جیت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ بنگال کا ووٹر جو طویل عرصے تک نظریاتی سیاست سے جڑا رہا اب ترقی، روزگار اور حکمرانی کے عملی پہلوؤں کی طرف زیادہ مائل نظر آتا ہے۔ بی جے پی نے اس تبدیلی کو بخوبی محسوس کیا اور اپنی مہم کو اسی کے مطابق ڈھالا۔ اس نے مقامی مسائل کو قومی تناظر میں پیش کیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مرکز اور ریاست میں ہم آہنگی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اس حکمت عملی نے خاص طور پر نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے طبقے کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ خاموش ووٹر کا کردار بھی اس پورے عمل میں نہایت اہم رہا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ میڈیا میں نظر آتا ہے، نہ سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے مگر بیلٹ باکس میں اس کا فیصلہ سب کچھ بدل دیتا ہے۔ بنگال میں بھی یہی خاموش اکثریت بی جے پی کے حق میں جاتی دکھائی دی جس نے تمام تر اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ ایگزٹ پولز کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ بھی یہی رہی کہ وہ اس خاموش طبقے کی درست ترجمانی نہ کر سکے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس نتیجے کو سمجھنے میں اہم ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک مخصوص بیانیہ اتنی شدت سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہی حقیقت معلوم ہونے لگتا ہے جبکہ زمینی حالات اس سے مختلف ہوتے ہیں۔ 

بنگال میں بھی ایک طویل عرصے تک یہی تاثر دیا جاتا رہا کہ بی جے پی کو عوامی سطح پر وہ حمایت حاصل نہیں جو اسے جیت دلا سکے مگر نتائج نے اس تاثر کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہندوستان جیسے متنوع معاشرے میں رائے عامہ کو کسی ایک زاویے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ابتدائی رجحانات اور حتمی نتائج کے درمیان فرق بھی اس انتخاب کی ایک اہم خصوصیت رہا۔ گنتی کے ابتدائی مراحل میں جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اکثر مکمل حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی۔ جیسے جیسے ووٹوں کی گنتی آگے بڑھتی ہے، نتائج کا رخ بدلتا جاتا ہے اور یہی عمل بنگال میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں بی جے پی نے بتدریج اپنی برتری کو مستحکم کیا اور آخرکار کامیابی حاصل کر لی۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ بی جے پی کی یہ جیت محض ایک ریاستی کامیابی نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ اگر کوئی جماعت مسلسل محنت، مضبوط تنظیم، واضح بیانیہ اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے تو وہ کسی بھی مضبوط علاقائی قوت کو چیلنج کر سکتی ہے۔ بنگال جیسے سیاسی طور پر حساس اور پیچیدہ خطے میں یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستانی سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بنگال میں بی جے پی کی جیت کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی عوامل کے مجموعے کا حاصل ہے۔ یہ جیت تنظیمی طاقت، ووٹوں کی تقسیم، بیانیہ سازی، ووٹر کے بدلتے ہوئے رجحانات اور خاموش اکثریت کے فیصلے کا امتزاج ہے۔

 ہندوستانی جمہوریت کی یہی خوبصورتی ہے کہ یہاں ہر انتخاب ایک نئی کہانی سناتا ہے اور ہر نتیجہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سیاست صرف دکھائی دینے والی حقیقتوں کا نام نہیں بلکہ ان پوشیدہ عوامل کا مجموعہ ہے جو خاموشی سے تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔

 *کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش

 (مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں) iftikharahmadquadri@gmail.com

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383) weeklynepalurdutimes@gmail.com