جاپان اور آسٹریلیا نے شراکت داری کو مضبوط بنانے کا عہد کیا
کینبرا:(ایجنسیاں )
چین کے عالمی وسائل پر اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے تحت جاپان اور آسٹریلیا کے رہنماؤں نے پیر کے روز توانائی اور اہم معدنیات کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عہد کیا۔کیوڈو نیوز کے مطابق، یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور نایاب معدنیات (ریئر ارتھ) کے شعبے میں بیجنگ کی بالادستی عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بڑے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ جاپان کی وزیر اعظم سانے تاکائیچی اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کینبرا میں ملاقات کی، جہاں مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ وسائل کے علاوہ، دونوں رہنماؤں نے سائبر سکیورٹی اور قومی دفاع میں بھی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس سربراہی ملاقات کے نتیجے میں پانچ اہم دستاویزات سامنے آئیں، جن میں معاشی سلامتی سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ بھی شامل ہے۔ اس معاہدے کا مقصد توانائی، خوراک اور نایاب معدنیات کی "مضبوط سپلائی چینز" قائم کرنا ہے، جو سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ کیوڈو نیوز نے جغرافیائی سیاسی صورتحال کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ چین اس وقت دنیا کے تقریباً 70 فیصد نایاب معدنیات کی کان کنی کرتا ہے اور ان کی تقریباً 90 فیصد ریفائننگ پر قابض ہے۔ اگرچہ آسٹریلیا ان معدنیات کا ایک بڑا پیدا کنندہ ہے، لیکن جاپان اب بھی چینی درآمدات پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے،
جو ایک خطرناک صورتحال ہے۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب بیجنگ نے رواں سال کے آغاز میں دوہری استعمال
(dual-use) اشیاء پر سخت برآمدی پابندیاں عائد کر دیں۔ ان پابندیوں کو نومبر میں تاکائیچی کے اس بیان کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جاپان تائیوان پر حملے کی صورت میں امریکہ کی مدد کے لیے اپنی سیلف ڈیفنس فورسز تعینات کر سکتا ہے۔ توانائی کا تحفظ بھی اس اجلاس کے اہم نکات میں شامل رہا۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع، جو فروری کے آخر میں شروع ہوا، نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے اور قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ جاپان جیسے ملک کے لیے، جو بڑی حد تک درآمد شدہ تیل پر انحصار کرتا ہے، یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے۔ آسٹریلیا جاپان کو مائع قدرتی گیس (LNG) فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم اس تعلق میں باہمی کمزوریاں بھی موجود ہیں۔ کیوڈو نیوز کے مطابق، آسٹریلیا بھی ان ایشیائی ممالک سے پیٹرولیم درآمد کرتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل کو پراسیس کرتے ہیں، خاص طور پر گزشتہ دہائیوں میں کئی مقامی ریفائنریز بند ہونے کے بعد۔ دونوں امریکی اتحادیوں کے درمیان سکیورٹی تعلقات بھی تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں، خاص طور پر انڈو پیسیفک میں چین کی بحری سرگرمیوں پر مشترکہ خدشات کے باعث۔ 2023 میں نافذ ہونے والے باہمی رسائی کے معاہدے نے فوجی نقل و حرکت اور مشترکہ مشقوں کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔
مزید برآں، کیوڈو نیوز نے رپورٹ کیا کہ دونوں ممالک نے حال ہی میں آسٹریلوی بحریہ کو جاپان کے جدید موگامی کلاس جہازوں کے طرز پر تیار کردہ تین اسٹیلتھ فریگیٹس فراہم کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دی ہے۔ یہ دورہ وزیر اعظم تاکائیچی کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جنہوں نے اکتوبر میں عہدہ سنبھالا، اور یہ جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان دوستی کے بنیادی معاہدے کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر بھی ہو رہا ہے۔ ان کا پانچ روزہ سفارتی دورہ، جو جمعہ سے شروع ہوا، میں ویتنام کا دورہ بھی شامل تھا۔
iranusa#
iranisrail#
westbengal#
nepalurdutimes#
