Sep 2, 2026 01:29 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
قرآنِ پاک کی عظمت اور علوینہ سیف کی مساعی

قرآنِ پاک کی عظمت اور علوینہ سیف کی مساعی

01 Sep 2026
1 min read

قرآنِ پاک کی عظمت اور علوینہ سیف کی مساعی

پریس ریلیز 

نیپال اردو ٹائمز  بستی بھارت

قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس اور بابرکت کتاب ہے جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور کامیابی کا سرچشمہ ہے۔ کسی مسلمان بچے کا کم عمری میں قرآنِ کریم پڑھنے کا آغاز کرنا نہ صرف اس بچے بلکہ اس کے والدین اور پورے خاندان کے لیے باعثِ سعادت اور قابلِ تحسین امر ہے۔ اسی مبارک سلسلے میں علوینہ سیف کی کم سنی میں قرآنِ کریم سے وابستگی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔

کم عمری میں قرآن سے تعلق

علوینہ سیف نے محض پانچ سال کی کمسن عمر میں قرآنِ کریم پڑھنے کا آغاز کیا۔ اس عمر میں بچے عموماً کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ مسلسل توجہ کے ساتھ پڑھائی کرنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآنِ پاک کی تعلیم کا آغاز کرنا اور اس کے لیے شوق و دلچسپی پیدا کرنا یقیناً والدین کی دینی تربیت، استاد کی خصوصی توجہ اور خود بچے کی محنت و لگن کا نتیجہ ہے۔

قرآنِ کریم سے ابتدائی عمر میں وابستگی بچے کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ نہ صرف اس کی زبان اور مطالعے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے بلکہ اس کے اندر نظم و ضبط، اخلاق، احترام اور دینی شعور بھی پیدا کرتی ہے۔

استاد کی محنت اور تربیتی کردار

علوینہ سیف کی اس کامیابی میں ان کے استاد حضرت مولانا سمیع اللہ صاحب کی 

محنت، شفقت اور بہترین تدریسی انداز کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ کم عمر بچوں کو قرآنِ کریم پڑھانا محض حروف اور الفاظ کی تعلیم دینے کا نام نہیں، بلکہ اس کے لیے صبر، حکمت، محبت اور بچے کی نفسیات کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مولانا سمیع اللہ صاحب نے محنت اور شفقت کے ساتھ علوینہ کی رہنمائی کی اور قرآنِ کریم کی تعلیم کے اس مبارک سفر میں ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ ایک اچھا استاد بچے کے اندر موجود صلاحیت کو پہچان کر اسے صحیح سمت فراہم کرتا ہے، اور یہی تربیت آگے چل کر بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہے۔

والدین کا اہم کردار

بچے کی دینی تعلیم میں والدین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ والدین اگر اپنے بچوں کو قرآنِ کریم سے جوڑنے کے لیے گھر میں سازگار ماحول پیدا کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور تعلیمِ قرآن کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں تو بچے کے لیے یہ سفر مزید آسان ہوجاتا ہے۔ علوینہ سیف کی کامیابی بھی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ گھر، استاد اور بچے کی مشترکہ کوشش سے کم عمری میں دینی تعلیم کی مضبوط بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ والدین کی دعائیں، استاد کی محنت اور بچے کی اپنی دلچسپی جب ایک جگہ جمع ہوجائیں تو نتائج یقیناً خوش آئند ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سمیع اللہ صاحب کی محنتوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں مزید بچوں کی دینی تربیت کی توفیق عطا فرمائے۔ والدین کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی دعاؤں کو علوینہ کے حق میں قبول فرمائے۔

اللہ تعالیٰ علوینہ سیف کو دین و دنیا میں کامیابی عطا فرمائے اور انہیں قرآنِ کریم کی سچی خادمہ بنائے۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)