جب سرحدیں مٹ گئیں، تب صرف انسانیت باقی رہی نیپال سیلاب میں بھارت نے پھر نبھایا پڑوسی دھرم
(قاری) اخلاق احمد نظامی مقام و پوسٹ گلرہا ،
مہنداول ضلع سنت کبیر نگر یوپی
انسان کو اشرف المخلوقات اسی لیے کہا گیا ہے کہ اس کے دل میں دوسرے انسان کے لیے درد ہے۔ جب ایک انسان دوسرے انسان کے کام آتا ہے تو وہ دراصل اپنی انسانیت کا ثبوت دیتا ہے۔ تمام مذاہب، تمام گرنتھ اور تمام عظیم ہستیوں نے ایک ہی پیغام دیا ہے کہ مخلوق کی خدمت ہی خالق کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ اسلام میں کہا گیا ہے کہ "مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو اس کے کنبہ کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو"۔ ہندو دھرم میں "نر سیوا ہی نارائن سیوا ہے" یعنی انسان کی خدمت ہی بھگوان کی خدمت ہے۔ یہی بھارت کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کا نچوڑ ہے۔ آج جب ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کر چکے ہیں، لیکن ایک سیلاب، ایک زلزلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب کتنے کمزور ہیں اور ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ ایسے وقت میں ذات، دھرم، زبان اور سرحد کی دیواریں گر جاتی ہیں اور صرف ایک رشتہ باقی رہتا ہے - وہ انسانیت کا رشتہ۔ اور ہمارا ملک ہندوستان اسی رشتے کو سب سے پہلے نبھاتا ہے۔ ہمارا ملک ہندوستان ہمیشہ سے واسوُدھیوَ کُٹُمبکم یعنی پوری دنیا ایک کنبہ ہے، کے اصول پر یقین رکھتا آیا ہے۔ جب بھی دنیا میں کہیں بھی قدرتی آفت آتی ہے، چاہے وہ زلزلہ ہو، سونامی ہو، سیلاب ہو یا کوئی وبا، بھارت سب سے پہلے اپنا ہاتھ مدد کے لیے بڑھاتا ہے۔ یہی ہماری تہذیب ہے، یہی ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
نیپال میں 26 اگست 2026 کو آئے تباہ کن سیلاب نے ایک بار پھر اس رشتے کو آزمایا اور بھارت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پڑوسی دھرم سے بڑا کوئی دھرم نہیں۔ نیپال کے بھوٹے کوشی اور ترشولی ندیوں میں اچانک آئے فلیش فلڈ نے نوواکوٹ، چلیما اور لانگ تانگ کے علاقوں میں بھاری تباہی مچائی۔ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے ٹنل میں درجنوں مزدوروں کے پھنسے ہونے کی خبر آتے ہی ہندوستان کی حکومت نے فوری ایکشن لیا۔ حکومت ہند نے اب تک چار خصوصی فضائی پروازوں کے ذریعے 68.5 ٹن سے زیادہ امدادی سامان نیپال پہنچایا ہے جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ رفتار کا آپریشن ہے۔
پہلی پرواز 26 اگست کو بھارتی فضائیہ کے C-130J ہرکولیس طیارے نے 10 ٹن فوری امداد پہنچائی جس میں عارضی شیلٹر، کمبل، ہائیجین کٹس، سولر لیمپ اور ادویات شامل تھیں۔ دوسری پرواز 27 اگست کو C-17 گلوب ماسٹر نے سب سے بڑی کھیپ یعنی 37.5 ٹن سامان پہنچایا۔ اس میں 28.5 ٹن خیمے، کمبل، کچن سیٹ، ڈی واٹرنگ پمپ، جنریٹر، 8 ٹن ضروری ادویات اور 1 ٹن خوراک شامل تھی۔ تیسری پرواز 28 اگست کو بھیجی جس میں 10 ٹن سامان کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل بھیجے گئے۔ پورٹیبل جنریٹر، ڈگنیٹی کٹس، فوڈ پیکٹ، پانی صاف کرنے کی گولیاں اور ادویات شامل ہیں چوتھی پرواز- 30 اگست کو 11 ٹن کی تازہ کھیپ کاٹھمنڈو میں اتری جس میں کمبل، سلیپنگ بیگ، ترپال، پلاسٹک شیٹس اور ہائیجین کٹس شامل ہیں۔ اس بار کی امداد کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ بھارت نے صرف سامان نہیں، بلکہ مہارت بھیجی ہے
۔ 1.سرنگ ریسکیو ماہرین کی ٹیم سیلاب کی وجہ سے ترشولی علاقے کے ہائیڈرو پاور ٹنل میں مزدور پھنس گئے تھے۔ اس کے لیے بھارت نے اپنی فوج کے خصوصی 11 رکنی تکنیکی دستے کو بھیجا جس میں ڈاکٹر، پیرا میڈیکس اور ٹنل انجینئرز شامل ہیں۔ 2 فارنسک اور ڈی این اے ماہرین کی ٹیم نیپال حکومت نے خود بین الاقوامی برادری سے ڈی این اے شناخت کے لیے مدد مانگی تھی۔ بھارت نے فوری طور پر فارنسک ماہرین کی ٹیم بھیجی۔ 3.پل اور رابطے کی بحالی بھارت نے 230 فٹ لمبے سنگل لین ماڈیولر اسٹیل برج کا سامان 16 ٹرکوں میں بھر کر سڑک کے راستے نیپال بھیجا ہے۔
اس کے علاوہ 7 مزید بیلی برج کے آلات بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ زمین پر نیپال آرمی، آرمڈ پولیس فورس اور نیپال پولیس کی 82 رکنی مشترکہ ٹیم اور بھارتی ماہرین کندھے سے کندھا ملا کر کام کر رہے ہیں۔ یہی یکجہتی اصل طاقت ہے۔ نیپال صرف پڑوسی نہیں، ہمارا چھوٹا بھائی ہے۔ ہماری کھلی سرحدیں ہیں، ہمارے خاندان آپس میں جڑے ہیں۔ بھارت کی یہ 68.5 ٹن امداد دراصل 140 کروڑ ہندوستانیوں کے دل کا وزن ہے۔ یہ پیغام ہے کہ چاہے آندھی کتنی ہی تیز ہو، ہندوستان اپنے پڑوسی کا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔
