مفتی سید مسعود علی نوری ایک تعارف
مفتی غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی قاضی شہر رام نگر نینی تال
تاریخ میں ایسے کتنے ہی علما ومبلغین گزرے ہیں جو خدمات کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں تھے لیکن ان کی زندگیاں سادگی سے بھرپور اور شہرت و ناموری سے دور رہیں۔خود انہیں اس کا خیال تھا نہ حاجت، مقصد بس کام تھا، سو کام کرتے رہے اور ان کی خاموش تبلیغ سے دین و سنیت کا کام ہوتا رہا۔ایسے ہی ایک عالم دین حضرت مولانا مفتی سید مسعود علی نوری برکاتی بھی ہیں،جنہوں نے زندگی کا بیش تر حصہ تدریس اور تبلیغ دین میں گزارا۔جہاں رہے دین و سنیت کا کام کیا۔جہاں ٹھہرے تہذیب و تمدن کو سنوارا۔جہاں قیام کیا اس کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
تعارف
سید مسعود علی نوری برکاتی، صدر العلما ،امام النحو علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ کے بڑے داماد تھے۔ان کی پیدائش اتر پردیش کے مردم خیز خطے ریاست رامپور کے ایک قصبے نرپت نگر میں ہوئی۔آپ کے والد مولانا سید سخاوت علی نعیمی ایک سنجیدہ اور مخلص عالم دین تھے۔جامعہ نعیمیہ مرادآباد کے فارغ التحصیل تھے۔باپ عالم دین تھے تو والدہ محترمہ سیدہ روشنی بیگم بھی نیک اور خدا ترس خاتون تھیں۔نیک ماں باپ کی صحبت میں پروان چڑھے تو بچپن ہی سے علم کی طرف جھکاؤ اور رغبت فطری تھی۔والد گرامی سے ناظرہ قرآن تا حفظ قرآن تعلیم حاصل کی۔ان دنوں آپ کے والد بغرض امامت نرپت نگر سے متصل ایک چھوٹے سے گاؤں پیپل سانہ میں مقیم ہوگیے تھے۔حفظ قرآن کے بعد آگے کی تعلیم کے لیے شہر رامپور میں واقع جامع العلوم فرقانیہ میں تشریف لے گیے جہاں آپ نے مروجہ درس نظامی کی تکمیل کی اور سند و دستار سے نوازے گیے۔ان کے ہم سبق ساتھیوں میں محدث رامپور مفتی سید شاہد علی میاں علیہ الرحمہ (سابق قاضی شرع رامپور) بھی تھے۔جن سے تا حین حیات بڑے اچھے مراسم و تعلقات رہے۔
فراغت اور تدریسی زندگی کا آغاز
سال 1975 میں بھارت ایک اتھل پتھل بھرے دور سے گزر رہا تھا۔سیاسی ناچاقیوں اور رنجشوں کی بدولت اس سال ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں آیا تھا۔جو 25 جون 1975 سے 21 مارچ 1977 تک جاری رہا۔حکومتی سختی کا اثر ہر شعبہ زندگی پر تھا۔اسی ماحول میں سن 1976 میں آپ کی فراغت ہوئی۔فراغت کے بعد ہی کسی شناسا کے توسط سے صدرالعلما نے خط لکھ کر آپ کو میرٹھ بلایا۔اس طرح آپ کا پہلا تقرر اس وقت کے ایک معیاری ادارے جامعہ اسلامیہ عربیہ اندر کوٹ میرٹھ میں ہوا۔جہاں امام النحو علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی
جیسے نابغہ روزگار عالم دین اپنی بساط علم سجائے بیٹھے تھے۔اولاً آپ کو شعبہ حفظ و قرأت تفویض کیا گیا۔آپ نے اس شعبے میں جی جان سے محنت کی۔تقرری کے دو سال بعد ہی امام النحو علیہ الرحمہ کا وصال ہوگیا۔بعد وصال بھی سید صاحب ادارے سے وابستہ رہے اور شغف و لگن کے ساتھ اپنے شعبے میں محنت کرتے رہے۔آہستہ آہستہ آپ کو درس نظامی کی کتابیں بھی پیش کی گئیں۔آپ کی تدریسی مہارت کھلتی گئی اور درس نظامی کی کتابیں بڑھتی گئیں، یہاں تک کہ آپ نے تفسیر بیضاوی تک کی منتہی کتابوں کا درس بھی دیا۔
_ازدواجی زندگی
سید مسعود علی صاحب کا تقرر امام النحو کی زندگی ہی میں ہوا تھا۔حالانکہ امام النحو آپ کی تقرری کے دو سال بعد ہی واصل الی اللہ ہوگیے لیکن سید مسعود صاحب خلوص و محبت کے ساتھ تعلیم و تدریس میں منہمک رہے۔آپ کی عادات و اطوار سے متاثر ہوکر تقرری کے آٹھوے سال سن 1984 میں امام النحو علیہ الرحمہ
کے شہزادگان نے صدر العلما کی بڑی شہزادی سیدہ انعام فاطمہ سے آپ کا عقد کر دیا۔اس طرح سید مسعود علی صاحب کی شخصیت کو ایک بزرگ عالم ربانی سے نسبت کا شرف بھی حاصل ہوا، جو بلا شبہ ایک بڑا اعزاز ہے۔اس نکاح میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکتیں رکھیں، چار بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔فرزند اکبر، مولانا سید غلام محی الدین قادری
2۔فرزند اوسط مولانا سید فخر الدین قادری
3۔فرزند اوسط مولانا سید قطب الدین
4۔فرزند اصغر سید محمود علی
اللہ تعالیٰ نے دو بیٹیاں بھی عطا فرمائیں۔
ترک وطن اور رام نگر میں سکونت
کہا جاتا ہے کہ علما کا رزق زمین کے مختلف حصوں میں بکھرا ہوا ہے۔بغرض تدریس و تبلیغ یہاں وہاں جاتے رہتے ہیں اور جائے سکونت بدلتی رہتی ہے۔سید صاحب کے والد نرپت نگر سے قریبی گاؤں پیپل سانہ منتقل ہوئے تھے اور سید مسعود صاحب ازدواجی زندگی کے دو سال بعد نینی تال کے سیاحتی شہر رامنگر وارد ہوئے۔یہاں آپ نے جامع مسجد کی امامت و خطابت اور درس گاہ سنبھالی۔بعد میں آپ نے اہل خانہ کو بھی یہیں بلا لیا اس طرح نرپت نگر کے بعد رامنگر آپ کا مسکن قرار پایا۔یہیں پر آپ کی ساری اولادیں پروان چڑھیں۔آپ کی دو بہنیں بھی اسی شہر میں بیاہی گئی تھیں، اس طرح رام نگر آپ کا وطن ثانی بن گیا۔
تدریسی و تبلیغی زندگی
سید صاحب قبلہ مزاجی اعتبار درس و تدریس ہی کے دلدادہ تھے۔اس لیے پوری زندگی تعلیم و تعلم ہی میں گزری۔مدرسہ اسلامیہ عربیہ میرٹھ کے علاوہ آپ نے بریلی شریف کے معیاری ادارے دارالعلوم مظہر اسلام میں بھی کئی سال گزارے۔یہاں آپ نے مفتی محمد اعظم صاحب، مفتی دارالافتا مظہر اسلام بریلی شریف کے نائب اور ادارے کے نائب شیخ الحدیث کے طور پر خدمات انجام دیں۔کلیہ کنیزان فاطمہ ممبرا مہاراشٹر میں بطور شیخ الحدیث درس دیا۔ممبئی عظمی کے عظیم بزرگ فقیہ ماہم حضرت مخدوم علی ماہمی علیہ الرحمہ کے آستانہ پر واقع دارالعلوم مخدومیہ میں بھی ایک زمانے تک منتخب کتابوں کا درس دیا۔قرب وجوار کی مساجد میں امامت و خطابت کے ذریعے تبلیغ دین کا کام بھی انجام دیا۔جنت ارضی کشمیر کے مختلف خطوں میں حدیث و افتا کی خدمات سر انجام دیں۔اس کے
علاوہ شہر رام نگر، ہلدوانی اور رانی کھیت میں بطور شہر قاضی بھی عوام اہل سنت کی بھرپور خدمت فرمائی۔
بیعت و خلافت اور سلسلہ ارادت
سید صاحب، نے شہزادہ اعلی حضرت، مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا نوری برکاتی قدس سرہ العزیز کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا، اور مرشد گرامی کی نسبت کو اپنے نام کا جزو بنا کر سید مسعود علی نوری برکاتی کہلائے۔طبیعت میں شریعت کی پاس داری کا جذبہ پہلے ہی تھا۔پیر کامل کی صحبت نے اسے مزید تیز کیا اور زندگی اسی سانچے میں ڈھلتی گئی۔جانشین مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ حضرت مفتی اختر رضا ازہری قادری، شیخ الاسلام حضرت علامہ سید مدنی میاں کچھوچھوی اور شیخ ملت حضرت مولانا سید نعیم اشرف جائسی سے آپ کو شرف خلافت حاصل تھا۔آپ نے ملک کے مختلف خطوں میں بیعت و ارادت کا حلقہ بھی بنایا۔یوپی ، کرناٹک اور دیگر علاقوں میں آپ کے مریدین ہیں۔بیرون ملک ماریشش میں آپ کے مریدین کا خاصا بڑا حلقہ پایا جاتا ہے۔
ملک و بیرون ملک کے اسفار
مفتی سید مسعود صاحب کی پوری زندگی درس و تدریس
اور تبلیغ دین متین میں صرف ہوئی، اس حوالے سے ملک کے مختلف حصوں کے سفر ہوتے ہی رہے۔اتر پردیش سے کرناٹک، مہاراشٹر، اتراکھنڈ راجستھان اور ملک کے کئی صوبوں میں جانے کا اتفاق ہوتا رہا۔بیرون ممالک آپ نے عرب شریف، برطانیہ، ملیشیا اور ماریشش کے سفر کیے۔ماریشش میں آپ کا معتدد بار آنا جانا ہوا۔پہلی مرتبہ آپ کے فرزند اکبر مولانا سید غلام محی الدین کی دعوت پر وہاں پہنچے تھے۔بعدہ بیعت و ارادت کا سلسلہ جاری ہوا جس کے باعث متعدد مرتبہ
یہاں آنا جانا ہوا۔
ذوق تلاوت
سید صاحب ایک بہترین حافظ اور خوب صورت لب ولہجے میں تلاوت کرنے والے قاری بھی تھے۔تلاوت قرآن کا نہایت عمدہ ذوق پایا تھا۔اکثر خالی اوقات میں قرآن کریم کی تلاوت فرماتے رہتے۔اہل خانہ کو بھی قرآن کی تلاوت کا شوق دلاتے اور مسلسل اس کی
تاکید کرتے۔اہل خانہ کو قرآن کریم سے مربوط کرنے کے لیے آپ نے پارہ جاتی سیٹ خرید کر وقف علی الاولاد کیا تاکہ اہل خانہ کو رغبت ہو اور انہیں تلاوت قرآن کا ثواب بھی ملتا رہے۔
انتقال پر ملال
عرصہ دراز سے سید صاحب بیمار چلے آ رہے تھے۔بیماری کے باوجود بھی معمولات شب و روز میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔عمر کی 73 ویں بہار تھی، کمزوری مسلسل بڑھ رہی تھی جس کی وجہ سے مسجد کی حاضری متاثر تھی۔کئی سال قبل اہلیہ داغ مفارقت دے چکی تھیں اس لیے یک گونہ اکیلے پن کا احساس بھی تھا۔انسانی زندگی میں یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جب خوب چلنے والا مسافر بھی تھکن کا احساس کرنے لگتا ہے اور دل آرام کرنے کو چاہتا ہے۔سید صاحب نے ساری زندگی کام کیا، اب شاید آرام کا وقت آگیا تھا۔
نو ذوالقعدہ 1447 ھ مطابق ستائیساپریل 2026 بروز دو شنبہ صبح قریب نو بجے اللہ کے گھر سے بلاوا آیا اور اطاعت گزار بندے نے لبیک کہتے ہوئے رخت سفر باندھ لیا:
أنا للہ وانا الیہ راجعون
بعد عصر فقیر ان کا آخری دیدار کرنے پہنچا۔سر پر عمامہ باندھے، چہرے پر پُر سکون مسکراہٹ لیے، اس طرح لیٹے ہوئے تھے مانو کتنی لذت و سکون کی نیند آرہی ہو۔چہرے پر حد درجہ نور اور طمانیت کا آثار صاف ظاہر تھے۔بے اختیار دل سے یہی آواز نکلی:
نشان مرد مومن با تو گویم
چو مرگ آید تبسم بر لب او ست
"میں تجھے مرد مومن کی نشانی بتاتا ہوں۔
جب اسے موت آتی ہے تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے"
انتقال کے وقت آپ کے فرزند اکبر مولانا سید غلام محی الدین بنگلور اور فرزند اوسط مولانا سید فخرالدین ماریشش میں تھے،اس لیے تدفین اگلے دن بعد نماز مغرب ہوئی۔نماز جنازہ فرزند اکبر سید غلام محی الدین قادری صاحب نے پڑھائی۔نماز جنازہ میں علماے کرام
کی کثیر تعداد شامل تھی۔اہم شرکا میں نبیرہ حضور سرکار کلاں حضرت سید حسین نجم الثاقب اجملی صاحب، سجادہ نشین دائرہ شاہ اجمل الہ آباد، مولانا مجتبیٰ حسن اشرفی صاحب سنبھلی،
شہزادہ حضرت سید یزدانی میاں صاحب سید محمد کلیم اشرف سنبھل، مولانا سید محمد رضوانی سنبھل ، قاری رضاالحسن،حافظ نقش علی، مفتی محمد سلیم مصباحی، مفتی محمد اعظم اویسی، مفتی جنید القادری، مولانا امجد ،قاری محمد فاروق، قاری محمد رئیس، قاری محمد فرقان، حافظ محمد عرفان، حافظ محمد امتیاز وغیرہ شامل ہیں۔قبر میں فرزند اوسط مولانا سید فخر الدین اور جناب محمد ریحان برکاتی نے اتارا۔بعد تدفین دعا کرانے کی سعادت راقم الحروف کو حاصل ہوئی۔اس طرح ایک عالم ربانی ایک قابل رشک زندگی گزار کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگیا۔
موت اس کی ہے، کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
