Sep 20, 2026 02:44 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مصنوعی ذہانت، انسانی کمزوریاں اور ڈیجیٹل دور میں نئی منیپولیشن

مصنوعی ذہانت، انسانی کمزوریاں اور ڈیجیٹل دور میں نئی منیپولیشن

19 Sep 2026
1 min read

مصنوعی ذہانت، انسانی کمزوریاں اور ڈیجیٹل دور میں نئی منیپولیشن

تحریر: اشفا اشرف،

رکن، مہیلا امداد کمیٹی، لوک بھون، بہار

 

مصنوعی ذہانت، بالخصوص چیٹ بوٹس اور ذاتی نوعیت کے ڈیجیٹل معاونین، ہماری روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ہم ان سے معلومات حاصل کرتے ہیں، مشورے لیتے ہیں، اپنے مسائل بیان کرتے ہیں اور بعض اوقات ایسی ذاتی معلومات بھی شیئر کر دیتے ہیں جن کا اظہار عام حالات میں کسی دوسرے انسان کے سامنے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی سہولت مصنوعی ذہانت کو غیر معمولی طاقت فراہم کرتی ہے۔ تاہم، اس طاقت کے ساتھ ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر مصنوعی ذہانت ہماری کمزوریوں کو سمجھنے لگے تو کیا اسے ان کمزوریوں کو ہمارے خلاف استعمال کرنے سے روکا جانا چاہیے؟

یہ سوال محض ٹیکنالوجی تک محدود نہیں، بلکہ انسانی آزادی، رازداری، صارف کے حقوق اور اخلاقی ذمہ داری سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب مصنوعی ذہانت صارف کے الفاظ سے اس کی نفسیاتی کیفیت، ترجیحات، خوف، عدم تحفظ اور معاشی حالات کے بارے میں اندازے لگانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

فرض کیجیے کہ ایک شخص کسی چیٹ بوٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ اسے ملازمت کے انٹرویو کے باعث شدید پریشانی ہے، وہ اپنی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں عدم اعتماد کا شکار ہے اور مالی دباؤ سے بھی گزر رہا ہے۔ اس شخص نے کہیں بھی کسی مصنوعات کی خریداری کا ارادہ ظاہر نہیں کیا؛ اس نے صرف اپنے جذبات اور حالات بیان کیے ہیں۔ لیکن اگر نظام ان معلومات کو محفوظ کرکے یہ نتیجہ اخذ کرے کہ یہ شخص اپنی ظاہری شخصیت کے بارے میں حساس ہے اور مالی مشکلات کے باوجود اپنی ظاہری شکل بہتر بنانے کے لیے خرچ کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے، تو معاملہ محض ’’ذاتی نوعیت کی سہولت‘‘ تک محدود نہیں رہتا۔

اب یہی شخص کچھ دن بعد پوچھتا ہے: ’’کسی اہم میٹنگ سے پہلے خود کو پرسکون رکھنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟‘‘

ایک ذمہ دار مصنوعی ذہانت اسے سانس کی مشقیں، مناسب نیند، تیاری، مثبت سوچ اور ذہنی دباؤ کم کرنے کے چند عملی طریقے بتائے گی۔ لیکن اگر وہ اسی جواب میں دانتوں کو سفید کرنے والی مصنوعات، جلد کی دیکھ بھال کے سامان یا کسی مخصوص تجارتی سروس کی سفارش اس بنیاد پر شامل کرے کہ اسے پہلے سے معلوم ہے کہ صارف اپنی ظاہری شکل کے بارے میں عدم تحفظ کا شکار ہے، تو یہ ایک بالکل مختلف صورتِ حال ہوگی۔

یہاں سفارش صارف کے موجودہ سوال سے نہیں بلکہ اس کی ذاتی کمزوری سے پیدا ہوئی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پرسنلائزیشن اور منیپولیشن کے درمیان فرق واضح ہونا چاہیے۔

پرسنلائزیشن کا بنیادی مقصد صارف کو زیادہ مفید اور متعلقہ معلومات فراہم کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص مسلسل کتابوں کے بارے میں پوچھتا ہے تو اسے اسی موضوع سے متعلق مزید کتابیں تجویز کرنا ایک عام اور قابلِ فہم عمل ہے۔ لیکن اگر کوئی نظام یہ جان لے کہ ایک شخص اپنی عمر، جسمانی شکل، مالی مشکلات یا سماجی حیثیت کے بارے میں غیر مطمئن ہے، اور پھر انہی جذبات کو خریداری کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرے، تو یہ محض سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ انسانی نفسیات سے فائدہ اٹھانا ہے۔

یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: ہر وہ چیز جو مصنوعی ذہانت جانتی ہے، اسے صارف کے خلاف استعمال کرنے کا حق اسے حاصل نہیں ہوجاتا۔

انسانی گفتگو میں بھی ہم اس فرق کو سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی دوست سے اپنی پریشانی بیان کرے تو دوست کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اس اعتماد کا احترام کرے۔ اگر وہ دوست اسی کمزوری کو بعد میں اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے تو ہم اسے دھوکا یا استحصال کہیں گے۔ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں یہ مسئلہ اس لیے زیادہ پیچیدہ ہے کہ مشین بیک وقت لاکھوں صارفین کے ساتھ گفتگو کرنے، ان کے رویوں میں پیٹرن تلاش کرنے اور انتہائی باریک سطح پر سفارشات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں ’’ڈارک پیٹرنز‘‘، یعنی ایسے ڈیزائن اور طریقۂ کار، پہلے ہی زیرِ بحث ہیں جو صارف کو اس کے شعوری ارادے کے برخلاف کسی فیصلے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ تاہم، مصنوعی ذہانت اس مسئلے کو ایک نئی سطح پر لے جا سکتی ہے۔ روایتی ڈارک پیٹرنز اکثر تمام صارفین کے لیے یکساں ہوتے ہیں، جبکہ AI پر مبنی نظام ہر فرد کے لیے مختلف حکمتِ عملی اختیار کرسکتا ہے۔

مثلاً ایک شخص کو یہ باور کرایا جاسکتا ہے کہ وہ دوسروں سے پیچھے رہ گیا ہے، دوسرے کو اس کے ظاہری حلیے کے بارے میں احساسِ کمتری میں مبتلا کیا جاسکتا ہے، تیسرے کو مالی نقصان کا خوف دلایا جاسکتا ہے اور چوتھے کو تنہائی کے احساس سے متاثر کیا جاسکتا ہے۔ اگر نظام ان جذبات کو پہچان کر تجارتی مفاد کے لیے استعمال کرے تو منیپولیشن انتہائی شخصی اور پوشیدہ شکل اختیار کرلیتی ہے۔

سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ صارف کو شاید معلوم ہی نہ ہو کہ اس کے ساتھ ایسا کیا کیا جارہا ہے۔ اسے بظاہر ایک دوستانہ، مددگار اور ہمدرد جواب مل رہا ہوگا، لیکن اس جواب کے پیچھے موجود سفارش دراصل اس کے جذباتی پروفائل سے اخذ کی گئی ہوسکتی ہے۔ یوں مصنوعی ذہانت ایک معاون اور مارکیٹنگ ایجنٹ کے درمیان موجود حد کو دھندلا سکتی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ AI کے ذریعے انسانی کمزوریوں کی شناخت اور ان کے تجارتی استعمال کے درمیان واضح قانونی اور اخلاقی حد مقرر کی جائے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ صارف نے اپنی معلومات خود فراہم کی ہیں۔ رضاکارانہ طور پر کسی بات کا بتا دینا اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ ہر بعد کے فیصلے میں اس معلومات کو اس کے خلاف استعمال کیا جائے۔

ممکنہ ضابطوں میں یہ اصول شامل کیا جاسکتا ہے کہ حساس نفسیاتی یا ذاتی معلومات کو تجارتی ہدف بندی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ AI نظام پر یہ پابندی ہونی چاہیے کہ وہ صارف کی اضطرابی کیفیت، ظاہری شکل کے بارے میں عدم تحفظ، تنہائی، مالی پریشانی یا دیگر حساس حالات کو کسی مصنوع یا سروس کی فروخت کی بنیاد نہ بنائے۔ اسی طرح صارف کو یہ جاننے کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے کہ کسی سفارش کی بنیاد اس کا موجودہ سوال ہے یا اس کی سابقہ گفتگو سے اخذ کردہ ذاتی معلومات۔

شفافیت بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر کوئی سفارش تجارتی مفاد سے متاثر ہے تو اسے واضح طور پر ظاہر کیا جانا چاہیے۔ صارف کو یہ اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی گفتگو کو اشتہاری یا تجارتی پروفائلنگ کے لیے استعمال کرنے سے منع کرسکے۔

تاہم، قانون سازی صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں۔ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی ’’اخلاقی ڈیزائن‘‘ کے اصول اپنانا ہوں گے۔ انہیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم کسی صارف کو بہتر فیصلہ کرنے میں مدد دے رہے ہیں یا اس کے جذبات کو استعمال کرکے اسے کسی خاص فیصلے کی طرف دھکیل رہے ہیں؟

یہ فرق بظاہر معمولی معلوم ہوسکتا ہے، لیکن آنے والے برسوں میں یہی فرق مصنوعی ذہانت کے قابلِ اعتماد یا خطرناک ہونے کا تعین کرسکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی اصل طاقت اس کے پاس موجود معلومات کی مقدار میں نہیں بلکہ ان معلومات سے انسانی رویے کے بارے میں نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ اگر یہ طاقت ذمہ داری، شفافیت اور انسانی آزادی کے اصولوں کے تابع رہے تو AI انسانوں کے لیے ایک غیر معمولی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر یہی طاقت صارف کی پوشیدہ کمزوریوں کو تجارتی فائدے کے لیے استعمال کرنے لگے تو یہ ڈیجیٹل استحصال کی ایک نئی شکل پیدا کرسکتی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ منیپولیشن کی بروقت شناخت کی جائے اور اسے باقاعدہ طور پر ریگولیٹ کیا جائے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار تیز ہے، جبکہ قانون سازی اور اخلاقی ضابطے عموماً اس کے بعد تشکیل پاتے ہیں۔ اگر ہم نے اس مرحلے پر واضح حدود قائم نہ کیں تو ممکن ہے کہ مستقبل میں صارف اور مشین کے درمیان اعتماد کی وہ لکیر باقی نہ رہے جس پر ایک صحت مند ڈیجیٹل معاشرہ قائم ہوسکتا ہے۔

یہ موقع ہمارے پاس آج موجود ہے۔ تاہم، ٹیکنالوجی جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، ضروری نہیں کہ یہ موقع ہمیشہ برقرار رہے۔ AI کے مستقبل کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مشینیں ہمارے بارے میں کتنا جانیں گی؛ اصل سوال یہ ہے کہ انہیں ہمارے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ کیا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)