Sep 20, 2026 02:45 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نیپال ـ رضا اکیڈمی کے امدادی وفد کا تیسرے روز بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

نیپال ـ رضا اکیڈمی کے امدادی وفد کا تیسرے روز بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

19 Sep 2026
1 min read

نیپال ـ رضا اکیڈمی کے امدادی وفد کا تیسرے روز بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

متاثرین میں ضروری سامان، نقدی اور کپڑوں کی تقسیم،  بٹار کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد لنگرِ رسول ﷺ کا وسیع اہتمام

نیپال اردو ٹائمز 

ممبئی/کاثھمنڈو (اخلاق احمد نظامی)

نیپال میں حالیہ شدید بارشوں اور دریائے تریشولی میں طغیانی کے باعث آنے والے خوفناک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ۔ متاثرہ علاقوں میں انسانی المیہ انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ اس نازک موقع پر ملت اسلامیہ کی خدمت میں پیش پیش رہنے والی عالمی شہرت یافتہ تنظیم رضا اکیڈمی ممبئی کے سربراہ، قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب قبلہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی امدادی وفد گزشتہ تین روز سے مسلسل نیپال کے سیلاب زدہ علاقوں میں موجود ہے اور زمینی سطح پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے۔

وفد نے اپنے دورے کے تیسرے روز بھی تریشولی، ڈونگے، بیدر پور نگر پالیکا، نوگھاٹ، گھمہ اور بٹار سمیت کئی شدید متاثرہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا، متاثرین سے ملاقات کی، ان کے دکھ درد میں شریک ہوا اور تباہی کا قریب سے زمینی جائزہ لیا۔

تیسرے روز کی امدادی مہم کے دوران رضا اکیڈمی کے وفد نے تریشولی کے مسلم اکثریتی علاقوں، ڈونگے، بیدر پور نگر پالیکا، نوگھاٹ اور گھمہ کے سینکڑوں بے گھر اور متاثرہ خاندانوں میں ضروری اشیائے خوردونوش، راشن کٹس، کپڑے، برتن، بستر اور دیگر بنیادی ضرورت کے سامان کے ساتھ ساتھ نقد رقم بھی تقسیم کی۔ امداد کی یہ تقسیم نہایت منظم انداز میں مستحقین تک پہنچائی گئی تاکہ کوئی بھی ضرورت مند محروم نہ رہے۔ اس کے علاوہ وفد نے بٹار کی مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں افراد کے لیے لنگرِ رسول ﷺ کا اہتمام کیا۔ 

جمعہ کے اجتماع کے بعد متاثرین نے ایک ساتھ بیٹھ کر لنگر تناول کیا اور رضا اکیڈمی کی اس کاوش کو سراہا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں اس طرح کا اجتماعی لنگر ان کے لیے حوصلے اور اتحاد کا پیغام ہے۔

اس موقع پر میڈیا اور متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے قائد ملت، بانی رضا اکیڈمی الحاج محمد سعید نوری صاحب قبلہ نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں جو خبریں اور تصاویر سامنے آ رہی ہیں، زمینی صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین، دردناک اور ہولناک ہے۔ یہاں آکر محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف سیلاب نہیں تھا بلکہ ایک قیامت تھی جو سب کچھ بہا کر لے گئی۔

انہوں نے کہا کہ تریشولی کے مسلم علاقے میں تباہی کا منظر ناقابل بیان ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک خوبصورت اور آباد مسجد اب صرف باقیات کی صورت میں رہ گئی ہے۔ مسجد کی عمارت مکمل طور پر شہید ہوچکی ہے، صرف اس کی بنیادیں اور کچھ ٹوٹی ہوئی دیواریں باقی ہیں۔ اسی طرح مسجد سے متصل دینی مدرسہ جو کبھی بچوں کی قرآت اور دینی تعلیم سے آباد تھا، وہ بھی سیلاب کی نذر ہوگیا ہے۔ اس کا تمام تعلیمی سامان، کتابیں اور فرنیچر ملبے تلے دب چکا ہے۔

حضرت نوری صاحب نے مزید بتایا کہ سب سے دلخراش منظر قبرستان کا ہے۔ سیلاب کا ملبہ پورے قبرستان کو ڈھانپ چکا ہے۔ جے سی بی مشینوں کے ذریعے قبرستان سے مٹی، پتھر اور ملبہ نکالنے کا کام جاری ہے۔ کئی قبریں مسمار ہوگئی ہیں۔ علاقے میں ملبے سے اٹھنے والی شدید اور ناقابل برداشت بدبو کی وجہ سے وبائی امراض اور بیماریوں کے پھیلنے

کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہوسکتے ہیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس کی ابھی تک حتمی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

وفد سے ملاقات کے دوران کئی سیلاب متاثرین نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ اس بڑے سانحے میں حکومتی امدادی اقدامات خاطر خواہ اور ناکافی رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے جو امداد پہنچی ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔ اس کے برعکس مختلف این جی اوز، مقامی اور بین الاقوامی رفاہی و فلاحی اداروں اور 

خاص طور پر مذہبی تنظیموں نے زیادہ فعال اور مؤثر کردار ادا کیا ہے اور متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔

وفد میں شامل جمعیت علمائے اہل سنت ممبئی کے نائب صدر حضرت علامہ اعجاز احمد کشمیری صاحب نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ نیپال میں سیلاب کی تباہی نے سونامی کا احساس دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہاں فلک بوس عمارتوں اور نہایت مضبوط و پختہ تعمیرات کو بھی مٹی کا ڈھیر بنے ہوئے دیکھا ہے۔ بڑی بڑی کنکریٹ کی عمارتیں ریت کی طرح بہہ گئی ہیں۔ اس سے سیلاب کی شدت اور پانی کے بہاؤ کی طاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتنا خوفناک رہا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ تمام متاثرین کی حفاظت فرمائے۔

رضا اکیڈمی مالیگاؤں کے صدر ڈاکٹر رئیس احمد رضوی نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے دردناک اور دلخراش مناظر دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں اور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دل خراش تصاویر کو دیکھنا بھی مشکل ہے، جن لوگوں پر یہ قیامت بیتی ہے ان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہوگی اس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ نیپال کے ان بے سہارا مسلمانوں اور دیگر متاثرین کی کھل کر مدد کریں۔

رضا اکیڈمی کے وفد نے اس موقع پر علماء نیپال فاؤنڈیشن کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ وفد 

کے اراکین نے کہا کہ فاؤنڈیشن کے ذمہ داران گزشتہ کئی روز سے مسلسل متاثرہ علاقوں میں موجود رہ کر اپنی جان جوکھم میں ڈال کر امدادی کام انجام دے رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن نے نہ صرف امدادی  سامان کی ترسیل میں مدد کی بلکہ دشوار گزار اور ملبے سے بھرے راستوں میں وفد کو متاثرین تک پہنچنے میں مکمل رہنمائی فراہم کی۔ فاؤنڈیشن کے روح رواں حضرت مولانا سید غلام حسین مظہری صاحب اور حضرت مولانا نور محمد مصباحی صاحب بھی شروع سے ہی امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں اور وفد کے ساتھ شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ ان کی مقامی سطح پر موجودگی اور تعلقات کی وجہ سے امداد صحیح حقداروں تک پہنچنا آسان ہوگیا ہے۔اس امدادی وفد میں قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب قبلہ کے علاوہ شہزادہ اکبر حضرت محمد سعید نوری مصطفیٰ رضا امن میاں، جمعیت علمائے اہل سنت ممبئی کے نائب صدر حضرت علامہ اعجاز احمد کشمیری، رضا اکیڈمی مالیگاؤں کے صدر ڈاکٹر رئیس احمد رضوی، حضرت قاری ثناء اللہ رضوی اور خادم القرآن عبد الرحمٰن ضیائی سمیت دیگر ذمہ داران شامل ہیں۔واضح رہے کہ رضا اکیڈمی کا یہ امدادی وفد آئندہ چند روز تک نیپال میں ہی قیام کرے گا اور مزید دور دراز کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے وہاں بھی امدادی سامان اور نقدی تقسیم کرے گا۔ وفد کی جانب سے مساجد اور مدارس کی بحالی کے لیے بھی ایک خصوصی منصوبہ بندی پر غور کیا جارہا ہے۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)