____مولانا توصیف رضا کا قتل: ایک لمحہ فکریہ
غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی
روشن مستقبل دہلی
کل مولانا توصیف رضا مرحوم کی ایک ویڈیو نگاہ سے گزری، جس میں موصوف ماب لنچنگ کی مذمت میں رائے عامہ بیدار کرنے اور اپنی قیادت کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افسوس! کون جانتا تھا کہ چند دن پہلے جو شخص ماب لنچنگ جیسی برائی کے خلاف رائے عامہ بیدار کرنے کی کوشش کر رہا تھا، وہ خود اسی حادثہ کا شکار ہوجائے گا۔مگر ایسا حادثہ ہوا، اور مولانا توصیف رضا عرس تاج الشریعہ سے واپس گھر لوٹتے ہوئے کچھ شر پسندوں کی شدت کا نشانہ بنے اور ان کی لاش ریلوے آؤٹر پر پائی گئی۔ ___اکیلے اور مجبور مسلمان کو گھیر کر قتل کرنے کا موجودہ چلن فرقہ وارانہ سیاست کی مرہون منت ہے۔اس گھناؤنے کھیل میں سیاست کے ساتھ ساتھ صحافت اور سنیما بھی شامل ہے۔عام ہندوؤں کے دلوں میں نفرت اور شدت پھیلانے کا کام انہیں تین ذرائع سے ہو رہا ہے۔
ہم لوگ ایک کے بعد ایک جنازے اٹھتے دیکھتے ہیں۔وقتی طور پر آواز اٹھاتے ہیں۔چند دن خاموشی رہتی ہے پھر ملک کے کسی دوسرے حصے سے ایسی ہی خبر آجاتی ہے۔ 🔹آخر اسلامی وضع قطع اور مسلم نام کی بنیاد پر کب تک ہمارے نوجوانوں/بزرگوں کا قتل عام ہوتا رہے گا؟ 🔸مقتول کے اہل خانہ کی مالی مدد/مزاج پرسی/اخباری/سوشل میڈیائی ہمدردی سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ہمارے چند بول یا تھوڑی بہت رقم کسی کے دل کو ڈھارس بندھا سکتی ہے لیکن ان کا درد ختم نہیں کر سکتی۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس سلسلے میں پوری قوت کے ساتھ اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کریں۔حکومت/انتظامیہ پر شرپسندوں کے خلاف کاروائی کا دباؤ بنائیں۔
🔹صوبائی ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ میں مسلم وکلا ٹھیک ٹھاک تعداد میں پائے جاتے ہیں، لیکن ایسے حساس اور قومی امور پر بھی وہ لوگ از خود پی آئی ایل ( PIL) نہیں لگاتے، بل کہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی تنظیم آئے، فیس دے پھر وہ کیس دائر کرکے خود کو ہمدرد قوم ڈکلئر کرکے سوشل میڈیائی شہرت حاصل کریں۔ 🔸ہمارے پیران کرام جس قدر جلسے اور محفلیں کرتے ہیں اگر آدھے جلسوں میں بھی ایسے امور پر آواز اٹھا دیں تو انتظامیہ کے لیے ان کی آواز نظر انداز کرنا آسان نہ ہوگا۔ ہمیں اس بات کا بخوبی احساس یے کہ یہ بات لکھنے/کہنے کی طرح آسان نہیں ہے۔ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ایسے کتنے ہی معاملات خود حکومتوں کی ڈھکی/چھپی اور علانیہ شَہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔انتظامیہ میں ایسے کیسوں کو ترقی پانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ان سب کے باوجود ہمارے یہاں ان معاملات پر ویسی سنجیدگی ابھی تک نہیں دیکھی گئی جس کی ضرورت ہے۔اگر ہمارے لوگوں نے ابھی بھی معاملے کی حساسیت کو نہیں سمجھا اور اس کے خلاف قانونی/سیاسی/سماجی اقدامات نہیں کئے تو ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ اس جنونی بھیڑ سے کوئی بھی انسان محفوظ نہیں رہ سکے گا
۔ 15 ذوالقعدہ 1447ھ 3 اپریل 2026 بروز اتوار #Justice4TauseefMazhari
nepalurdutimes#
Tauseefraza#
