Feb 16, 2026 04:40 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
کیا سچ   میں عورتیں  کھیتی ہیں؟:از قلم : محمد ثاقب رضا علیمی ماتریدی

کیا سچ میں عورتیں کھیتی ہیں؟:از قلم : محمد ثاقب رضا علیمی ماتریدی

05 Feb 2026
1 min read

کیا سچ   میں عورتیں کھیتی ہیں؟

از قلم : محمد ثاقب رضا علیمی ماتریدی

اس پر فتن دور میں ملحدین اور کچھ فیمینسٹ اسلامی خواتین کواپنے دام فریب میں پھنسا کر ان کو   دین سے بیزار کرنے کے لئے اسلام پر طرح طرح سے اعتراض کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں ،اسی میں  سے ان کا ایک اعتراض قرآن مقدس کی اس آیت پر بھی ہے"  نِسَاَؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ و  َقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ"۔ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، پس تم اپنی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ اور اپنے لیے (نیک اعمال) پیش کرو، اور اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ تم اس سے ملاقات کرنے والے ہو، اور( اے نبی آپ) ایمان والوں کو خوش خبری دےدیں ۔ [سورہ بقرہ: ٢٢٣]

چونکہ اس آیت کریمہ میں عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے  اس لئے وہ اس آیت کو لے کر قسم قسم کے اعتراضات اور باطل دعوے کرتے ہیں۔

جیسے کہ  اسلام نے عورتوں کو کھیتی کہ کر ان کی توہین کی ہے ، نيز اسی آیت میں جنسی آزادی کی اجازت عامہ دے کر فحاشی کو عام کیا گیا ہے۔اور اسلام نے محض ان کو تولیدی مشین   اور خواہشات نفس کی تکمیل کا ذریعہ  قرار دےدیا   ہے  ۔

ہم ان تمام اعتراضات  کو ایک ایک کرکے بیان کرنے کی کوشش کریں گے  لیکن اس سے پہلے ہمارے لئے ضروری ہے ہم  لفظ حرث کی لغوی تعریف جان لیں ۔

لفظ حرث کی لغوی تحقیق : یہ باب نصر  ینصر سے آیا ہے  ،جس کا  مادہ  ح ،ر،ث   ہے ،اس کا معنی ہوتا ہے  زمین میں بیج بونا ، اسے کاشت کے لئے تیار کرنا،اور وہ زمین جسے جوتا جائے اسے بھی حرث کہ دیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا " أَنِ اغْدُوا عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ" اگر تم پکے ارادے والے ہو تو اپنی کھیتی کی طرف صبح کو چلو۔"[القلم: ٢٢] ]مفردات  الراغب الاصفھانی (

کیا اسلام نے عورتوں  کو کھیتی کہ کرکے  ان کی توہین کی ہے؟ 

چونکہ عربی ادب میں تشبیہ کا استعمال فصاحت و بلاغت کا اعلی معیار سمجھاجاتاہے ،قران کریم نے بھی اسی اسلوب کو اختیار فرمایا ہے ،جہاں  مختلف حقائق کو تشبیہوں کے حسین پیرایے میں پیش کیا گیا ہے اگر اس میں غور کیا جائےتو  معنی کی نزاکتیں اور بلاغت کی گہرائیاں دل و دماغ کو مسحورکردیں ۔  چنانچہ اللہ تعالی  ارشاد فرماتا ہے : "مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ، وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ "جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کرتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اسے اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں، مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے  [الشورى: 20]اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے اچھے اعمال کو کھیتی سے تشبیہ دے کر اس کے وسیع مفہوم کو بیان کیا ہے۔ اسی طرح  عورت کو بھی کھیتی سے تشبیہ دیا گیا ہے لیکن یہ تشبیہ  حقیقی نہیں بلکہ علامتی  ہے اور  اس میں دور دور تک توہین کا شائبہ بھی نہیں ہے بلکہ اس کا  مقصد  اس کے وسیع تر مفہوم کو بیان کرنا ہے جو نسل انسانی کی بقاءاور ترقی میں ایک ستون کی مانند ہے،  اور وجہ  تشبیہ یہ ہے کہ جسے کھیت  میں بیج بویا جاتا ہے اور اس  میں لگایا جاتا ہے اس کی نگہداشت کی جاتی ہے تب جاکر اس سے  فصل یا پھل حاصل ہوتا ہے اسی طرح  عورت کے رحم میں مرد کا نطفہ جاتا ہے، اور پھر  رحم کے نگہداشت ،پرورش اور حفاظت کے بعد بچے کی ولادت ہوتی ہے  ، فرض کریں آپ کسان ہیں  لیکن آپ کھیتی   کی طرف توجہ نہیں دیتے ، اس کو جانوروں سے نہیں بچاتے ،اپنی راتوں کا چین و سکون اس پر قربان نہیں  کرتے ، اسے ٹائم سے پانی نہیں دیتے  ، اس وقت آپ کی کھیتی آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گی بلکہ سوکھ جائے گی  خراب ہوجائے گی ، اسی کھیتی کی طرح آپ کی بیوی آپ کی  توجہ  چاہتی ہے ،  وہ چاہتی ہے کہ آپ ہر بات بھول کر اس کے نخرے اٹھائیں ، اس کی ضروریات کو پوری کریں ، اسے پیسے دیں، اسے ہر بد نظر سے بچائیں ،اس  سے محبت کریں اور اس کو سنبھال کر رکھیں ، جب آپ ان چیزوں کا خیال رکھیں گے  تو یقینا وہ ایسی ہری بھری رہے گی اور  خوشبودار رہےگی کہ آپ کا دل اس سے درخشاں کی مانند کھل اٹھے گا اور اگر ان چیزوں کا خیال  نہیں رکھتے تو وہ ایسے مرجھائے گی جس سے آپ کا   دل ودماغ سب مرجھا جائے گا ۔ اور یہی انسانی فطرت ہے جس  کو اللہ تعالی نے قران کے لفظ  (حرث)  میں بیان کردیا ہے   ۔ 

معلوم ہوا کہ یہ تشبیہ ان کی توہین نہیں بلکہ حیا کی انتہائی درجہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی توقیر ہے ۔اگر محض تشبیہ باعث سے ذلت ہے تو  اس طرح  سے اللہ رب العالمین نے مرد کو بھی تشبیہ  دی ہے چنانچہ اللہ تعالی ارشاد  فرماتا ہے:  هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ یعنی عورتیں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اس آیت مبارکہ میں مرد کو بھی تشبیہ دی گئی ہے تو کیا اب یہ کہا جائےگا کہ اس میں مرد کی ذلت ہے ؟ ہرگز نہیں ، بلکہ  یہاں پر تشبیہ دے کر ایک وسیع مفہوم کو بیان کیا گیا ہے  جس میں توہین کا شائبہ بھی نہیں ہے  ۔ ہاں اگر کسی ایسی چیز سے تشبیہ دی گئی ہوتی جو حقیقت میں باعث ذلت ہو تی تو وہاں پر  یہ  اعتراض بجا ہوتا ۔ لہذا  یہ اعتراض قابل قبول نہیں ۔

کیا  " فأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ   " جنسی آزادی کی اجازت عامہ ہے ؟ 

بعض دشمنانِ اسلام، جو دینِ حق کی شبیہ کو مسخ کرنے کے درپے ہیں، یہ لغو اور بے بنیاد الزام عائد کرتے ہیں کہ اسلام نے مرد کو عورت کے ساتھ ہمبستری کی مطلق اجازت دے رکھی ہے، خواہ  وہ فطری محل میں ہو یا خلافِ فطرت مقام میں۔ اور اوپر ذکردہ آیت سے  دلیل پکڑتے ہیں

جبکہ حقیقت  یہ ہے کہ  یہ صرف ایک  الزام اور   کج فہمی ہے ۔ کیوں کہ  اس  آیت کے  کونٹکس اور شان نزول   سے  ہی اس دعوی کی کمزوری اظہر من الشمس ہوجاتی ہے چنانچہ "حضرت  ابن المکندر کا بیان ہے کہ میں نے  صحابہ رسول حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہود کہا کرتے تھے کہ جو آدمی پیچھے کی جانب سے عورت کے ساتھ جماع کرتا ہے، تو اس سے پیدا ہونے والا بچہ بھینگا ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:  کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں اس لیے تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ"] بخاری شریف ٤٢٥٤)

اس شان نزول سے  یہ بات روز روشن کی طرح عیاں  ہوگئی  کہ اس آیت میں جنسی آزادی کی اجازت عامہ نہیں دی گئی ہے کیوں کہ اس آیت میں یہودیوں کے اس قول کا رد کیا گیا ہے  کہ پیچھے سے آگے کے مقام میں آنے سے لڑکا بھینگا پیدا  ہوتا ہے  ،اور اس کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح تم اپنے کھیت میں چہار جانب سے آسکتے ہو اسی طرح تم اپنے بیوی کے پاس بھی جس طرف سے چاہو آسکتے ہو کوئی حرج نہیں ہے لیکن  پہنچنا صرف آگے کے ہی مقام میں ہو، چاہے  طریقہ  کوئی بھی ہو ۔

اور اس حقیقت  پر بہت سی احادیث مبارکہ   شاہد ہیں ہم یہاں پر چند احادیث مبارکہ کا ذکر رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ الزام بے بنیاد اور لغو ہے ۔

عَنْ خُزَیْمَة بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِصلیٰ الله علیه وسلم إِنَّ اﷲَ لَا یَسْتَحْیِي مِن الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهنَّ

حضرت خزیمہ رضیٰ اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔  عورتوں سے ان کے پیچھے کی جگہ میں جماع نہ کرو۔]ابن ماجہ، حدیث ١٩٢٤[

عَنْ أَبِي هرَیْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِصلیٰ الله عیه وسلم مَلْعُونٌ مَنْ أَتَی امْرَأَتَه فِي دُبُرِها۔

حضرت ابوہریرہ رضیٰ اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ عیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی کے پاخانے کے مقام میں صحبت کرنے والا ملعون ہے۔]مسند احمد بن حنبل،ج ٢  ، ص ٤٤٤،  رقم: ٩٧٣١[

عَنْ أَبِي هرَیْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِصلیٰ الله علیه وسلم إِنَّ الَّذِي یَأْتِي امْرَأَتَه فِي دُبُرِها لَا یَنْظُرُ اﷲُ إِلَیْه۔’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی کے پاس اس کی دبر میں جائے، ﷲ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا۔ [ مسند احمد بن حنبل ، رقم :٧٦٧٠]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِصلیٰ الله علیه وسلم لَا یَنْظُرُ اﷲُ إِلَی رَجُلٍ أَتَی رَجُلًا أَوِ امْرَأَة فِي الدُّبُرِ۔] ترمذی شریف، رقم: ١١٦٥]

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ا س شخص کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھتا جو کسی مرد یا عورت سے غیر فطری عمل کرے۔

ان تمام روایا ت سے  یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام میں عورتوں کے ساتھ غیر  فطری  عمل کرنا حرام ہے ،لہذا  اس  آیت سے  جنسی آزادی کی اجازت عامہ پر دلیل پکڑنا  سرے سے ہی باطل ہے ۔

کیا عورت محض تولیدی مشین اور خواہشات کے پورا کرنے کا ذریعہ ہے ؟ 

اوپر مذکورہ آیت کو لے کر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسلام میں عورت محض تولیدی مشین ہے  عورت کی منشا کے بغیر اس کو بستر پر آنے اور   بچہ پیدا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور دلیل میں حضرت ابو ہریرہ  کی روایت کردہ اس حدیث کو پیش کرتے ہیں ۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم  إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے (ناراضگی کی وجہ سے) انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5193] 

آئے ہم دونوں الزام کو ایک ایک کرکے دیکھتے ہیں ۔ چناچہ اگر حقیقت میں تعصب کے عینک کو اتار کر اسلام کا اچھے سے مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ محض یہ ایک بے بنیاد الزام ہے جو اسلام سے بغض و حسد کی بنا پرلگایا گیا ہے ،کیوں اسلام نے مرد وعورت کو یہ اجازت دی ہے کہ اگر وہ کسی مجبوری کے تحت  اولاد پیداکرنے کے خواہاں نہیں ہیں تو  مرد ہمبستری کے وقت عزل  کرے وہ کسی بھی طرح کے عقاب وعتاب کا مستحق نہیں ہوگا ۔ اور اس بات کی  روشن دلیل حدیث نبوی اور اقوال صحابہ ہیں۔چنانچہ کچھ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ  "مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا " تم عزل کر سکتے ہو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن جن روحوں کی قیامت تک کے لیے پیدائش مقدر ہو چکی ہے وہ تو ضرور پیدا ہو کر رہیں گی ۔  ]بخاري شریف: ٢٥٤٢، كتاب العتق: باب من ملك من العرب[

اوراسی طرح حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ "كنا نعزل على عهد رسول الله والقرآن ينزل"

ہم عہد رسالت میں عزل کرتے تھے اور قرآن اس وقت نازل ہو رہا تھا۔اس سے یہ  بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ اگر عزل کرنا جائز نہ ہوتا تو  اللہ رب العالمین کی جانب سے کوئی نہ کوئی حکم ضرور نازل ہوتا ، نیز صحابہ کو اس سے منع بھی کیا جاتا ۔]بخاری: ٥٢٠٩ ، كتاب النكاح: باب العزل(

اور اگر کوئی مجبوری نہیں ہے تو ہر بنی آدم کی یہ دلی آرزو ہوتی ہے کہ اس کے گھر میں خوشی کی لہریں دوڑیں اور وہ بھی صاحب اولاد ہو اور  چونکہ اسلا م دین فطرت ہےاس لیے اس کی تعلیمات بھی فطرت کے موافق ہیں   یہی وجہ ہے کہ اسلام نے  اپنے پیروں کاروں کو یہ اجازت دی ہے کہ چاہے وہ ایک لڑکا پیدا کریں یا کئی اولادیں پیدا کریں ان پر کوئی جبر و تشدد نہیں البتہ رسول کریم ﷺ نے کثرت اولاد کی طرف ابھارا ہے تاکہ لوگ  سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط ہوں لیکن  امر وجوبی نہیں دیا۔بلکہ اسلام میں تو یہ ہے کہ اگر عورت نہیں چاہتی ہے کہ مرد عزل کرے تو اس کے لئے مکروہ  ہے کہ وہ شخص  عزل کرے مگر  عورت  کی اجازت سے ۔لہذا یہ کہنا کہ اسلام میں عورتیں محض تولیدی مشین ہیں یہ ایک بے بنیاد الزام ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

اور رہی بات حدیث مصطفے ﷺ کی تو یہ حدیث بلکل صحیح ہے لیکن اس  کے پیچھے کچھ حکمتیں ہیں جسے شاید ایک معترض تعصب کی  وجہ سے سمجھنے سے قاصر ہو ۔آئے ہم دیکھتے ہیں کہ کیا یہ حکم مطلق ہے یا کسی مخصوص حالت کی بات ہو رہی ہے ، تو ہمیں قرآن مقدس کے  مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم مطلق نہیں بلکہ ایک خاص حالت ہے،  اور وہ  یہ ہے کہ جب بیوی کے پاس کوئی  بھی عذر شرعی نہ ہو ،تندرست ہو اور پھر شوہر  اس حالت میں اس کو اپنے بستر پر بلائے  اور وہ انکار کردے تو چونکہ نکاح کے عظیم مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان اپنی جنسی خواہشات کو بھی پوری کرے اور گناہوں سے محفوظ رہےلیکن اس کے انکار کے سبب ایک مقصد  کی تکمیل نہیں ہوئی  ،  تو اب ایسی عورت کے لئے  یہ وعید آئی ہے   کہ فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ کیوں کہ اگر شوہر کی خواہش شباب پر ہے اور برداشت نہ کرکے اگر کسی غیر محرم سے زنا کرکے اپنی خواہش پوری کرلی تو یہ  چیز اس باغیرت  عورت کو ناپسند ہوگی  اور معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا کہ ان کے درمیان شدید اختلاف برپاہوگا اور مسئلہ طلاق تک پہنچ جائے گا جوکہ عورت کی زندگی کا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوگا  اور زنا کے ذریعہ خواہش کو پوراکرنے والا مرد بھی اللہ تعالی کے نزدیک حرام کا مرتکب اور عذاب کا مستحق ہوگا ، ان تمام مشکلات سے نجات  اور ان کے رشتے کی حفاظت کے لئے اسلام نے  یہ قوانین وضع کیا کہ بیوی اپنے شوہر کے مکمل حقوق کی بجا آوری کرے اور مرد بیوی کے حقوق کو پورا کرے  اب اگر اس میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری صحیح سے آدا  نہیں کر تے تو ان کی گرفت ہوگی  اسی قانون کے پیش نظر چونکہ  مرد کا حق یہ ہے کہ بیوی اس کی جنسی خواہش کو پوری کرے  لیکن اب اگر  وہ اپنی ذمہ داری کو بغیر کسی عذر شرعی کے پورا نہیں کرتی تو   اس کو اس کی ذمہ داری یاد دلانے کے  لئے یہ کہا گیا کہ فرشتے اس پر لعنت بھیجتے  ہیں  ، تاکہ وہ ایسی غلطی نہ کرے اور  ان   کے درمیان الفت و محبت برقرار رہے  ۔ 

اور   یہی حق ایک بیوی کا اس کے شوہر پر ہے اگر  بیوی اس چیز کا مطالبہ کرے تو مرد پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کی خواہش کو پورا کرے کیوں کہ اللہ تعالی قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے  :"ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف  " اور ان عورتوں کے لئے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کا ان   پر ہے ۔اس آیت  کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے بیوی کے لئے ویسے ہی تیار  ہوں اور زینت اختیار کروں جیسا کہ میں  اپنے لئے پسند کرتا ہوں کہ وہ  میرے لئے زینت اختیار  کرے ۔ اس کے بعد آپ نے اسی آیت کو ذکر کیا اور فرمایا کہ ان کا بھی مجھ پر ایسا ہی حق ہے جیسا کہ میرا ان پر ہے ۔ ]تفسیر طبری  ، بقرہ ،آیت :٢٢٨[

 لہذا یہ کہنا کہ  عورتیں اسلام میں محض خواہشات نفس کی تکمیل کا ذریعہ ہیں یہ ایک بے سرو پا الزام ہے ۔ بلکہ یہ حدیث  تو فیملی سسٹم کی حفاظت کر رہی ہے ۔

اب آئے دیکھتے ہیں کہ کیا عورت مطلق انکار ہی نہیں کرسکتی ہے ؟  تو ایسا نہیں ہے بلکہ اسلامی قوانین کے مطابق اگر عورت کو کوئی ایسی مجبوری درپیش ہوگئی جس کی وجہ سے  وہ جماع کی متحمل نہیں ہے تو وہ انکار کرسکتی ہے ۔ جیساکہ وہ بیمار ہو ، فرض روزہ سے ہو ، حیض  ونفاس کی حالت میں ہو یا شوہر کا غیر فطری مطالبہ ہو جسے وہ پورا کرنے پر قادر نہیں ، یہ وہ صورتیں ہیں جس میں انکار کرنے پر کوئی وعید نہیں ہے ۔بلکہ بعض اوقات  تو مرد پر عورت کی مجبوری کہ وجہ سے جماع حرام ہوجاتا ہے ۔جیساکہ اگر وہ حالت حیض  و نفاس میں ہو ، کیوں کہ اس حالت میں عورت کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے ۔ اس حالت میں جماع کرنے سے   کے قرآن مقدس نے سختی سے منع کیا ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

" وَیَسۡـ َٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِیضِ   قُلۡ هُوَ أَذى فَٱعۡتَزِلُوا۟ ٱلنِّسَاۤءَ فِی ٱلۡمَحِیضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ یَطۡهُرۡنَ فَإِذَا تَطَهَّرۡنَ فَأۡتُوهُنَّ مِنۡ حَیۡثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ یُحِبُّ ٱلتَّوَّ ٰ⁠بِینَ وَیُحِبُّ ٱلۡمُتَطَهِّرِینَ"

اور (اے محبوب )تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں میں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں  اور ستھروں کو پسند کرتا ہے۔" [بقرہ ٢٢٢]

اس آیت میں صراحت  کے ساتھ جماع کرنے سے منع کیا گیا ہے ، ایک مومن شخص کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کی اس آیت پر عمل کرے ورنہ عذاب کا مستحق ہوگا ۔ 

اب اگر  عورت کے پاس  کوئی مجبوری ہے تو وہ انکار کرسکتی ہے اس پر کوئی لعنت نہیں کی جائے گی لہذا یہ کہنا کہ اسلام میں عورت  صرف جنسی خواہش پوری کرنے کے لئے ہے یہ ایک باطل دعوی ہے جو محض اسلامی شبیہ کو خراب کرنے کے لئے  کیا گیا ہے ۔

معلوم ہوا کہ  اسلام نے نہ تو  عورتوں کو کھیتی سے تشبیہ دے کر ان کی توہین کی ہے  ، بلکہ حیا کے  انتہائی درجہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرد وعورت کے درمیان موجود  تمام حقوق اور تمام مسائل  کو نیز عورتوں کی نفسی نزاکتوں کو  ایک ہی لفظ (حرث) کے ذریعہ بیان کردیا ہے۔اور یہی    تو قرانی بلاغت ہے ۔اور نہ ہی اسلام نے  کسی غیر فطری عمل کو فروغ  دیا بلکہ انسانی اخلاق کو سنوارنے اور فطرت سلیمہ پر عمل پیراں ہونے کے لئے ہدایت دی اور اسی طرح  اس نے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ، اور معاشرہ کے ہر فرد کو اس کے حقوق دیئے ، مرد وعورت کے درمیان الفت و محبت کی بیج بوئی  اور مرد کو تنبیہ کی کہ وہ کسی بھی  طرح کا ظلم اپنی بیوی پر نہیں کرسکتااس پر اس کی استطاعت  سے زیادہ بوجھ نہیں ڈال سکتا بلکہ اس نازک گلاب سی بیوی کو گوہر کی مانند تمام  تر بد نظروں  سے محفوظ رکھے تاکہ اس کے دل کا چین وسکون برقرار رہے ۔ اب قارئین   خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ دعوے سچ ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں ۔

اللہ تعالی ہمیں دین متین پر ہر اٹھنے والے سوال کا جواب دینے کی توفیق عطا فرمائے

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383