Feb 16, 2026 06:15 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
آمد ماہ رمضان: تزکیۂ نفس اور قرب الٰہی کا پیغام

آمد ماہ رمضان: تزکیۂ نفس اور قرب الٰہی کا پیغام

05 Feb 2026
1 min read

آمد ماہ رمضان: تزکیۂ نفس اور قرب الٰہی کا پیغام

از : محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

اسلامی شریعت کی اساس جن پانچ ارکان پر استوار ہے، اُن میں ’’صومِ رمضان‘‘ مقامِ قربِ الٰہی تک رسائی کا نہایت لطیف، دقیق اور اسرار آفریں وسیلہ ہے۔ رمضان المبارک اپنی بے پایاں رحمتوں، لامحدود برکتوں اور انوارِ الٰہیہ کے بے کنار سمندر کو اپنے دامن میں سمیٹے جب اہلِ ایمان پر سایہ فگن ہوتا ہے تو کائنات کے ذرّے ذرّے میں نورانی ہلچل پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ ماہِ مقدس ایمان و احتساب، تقویٰ و طہارت، صبر و رضا، بندگی و اطاعت اور قربِ الٰہی و شعورِ عبودیت کا ایسا درخشاں موسم ہے جس کی برکتوں سے ہر صاحبِ دل لبریز ہوجاتا ہے۔

یہ وہ مقدس مہینہ ہے جب درِ رحمت کشادہ کردیا جاتا ہے اور اللہ رب العزت اپنے بندوں کی طرف بے پناہ شفقت و محبت کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں۔ احادیثِ طیّبہ میں ارشاد ہے کہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے۔ اس ماہ کے ایّام و لیالی میں خیر و برکت کی مسلسل بارش ہوتی ہے؛ کوئی سائل خالی نہیں لوٹتا، کوئی امیدوار محروم نہیں ہوتا، کوئی گریہ کناں ناکام نہیں جاتا۔

جو خوش نصیب اس ماہِ مبارک کی آمد کے سال بھر سے آرزو رکھتے ہیں، ان کے لئے یہ مہینہ روحانی بہار لے کر آتا ہے، اور جو شخص اس سمندرِ رحمت میں بھی اپنا دامن تر نہ کرے، توبہ و انابت کی دولت حاصل نہ کرے اور نورانی اوقات کو غفلت کی نذر کر دے، اس سے بڑھ کر محروم اور کون ہوگا؟

ایک حقیقی مؤمن کے لئے لازم ہے کہ اس ماہ کی عظمت کو سمجھتے ہوئے اپنے اوقات کو قیمتی بنائے۔ روزہ، تراویح، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، دعا و استغفار یہ سب اعمال اس مہینے کو روحانی کائنات کا مرکز و محور بنا دیتے ہیں۔ جتنی کثرت سے نورانی اعمال بجا لائے جائیں گے، اتنی ہی دل میں لطافت، روح میں رفعت، قلب میں استنارت اور نفس میں پاکیزگی پیدا ہوتی جائے گی۔ اسی کے ساتھ یہ مہینہ گناہوں کے ترک کا بھی سخت مطالبہ کرتا ہے۔ جھوٹ، غیبت، بدگوئی، بہتان تراشی، حرام خوری، بدنظری اور دیگر معاصی سے بچنے میں رمضان سب سے زیادہ مددگار ہے، کیونکہ روزہ نفس کو کمزور اور روح کو طاقت ور کرتا ہے۔

جیساکہ خالق ارض و سماء کا ارشاد ہے

"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ"(البقرۃ)

اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔ روزے کا مقصد آیت کے آخر میں بتایا گیا کہ روزے کا مقصد تقویٰ و پرہیزگاری کا حصول ہے۔ روزے میں چونکہ نفس پر سختی کی جاتی ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں سے بھی روک دیا جاتا ہے تو اس سے اپنی خواہشات پر قابو پانے کی مشق ہوتی ہے جس سے ضبط ِنفس اور حرام سے بچنے پر قوت حاصل ہوتی ہے اور یہی ضبط ِ نفس اور خواہشات پر قابو وہ بنیادی چیز ہے جس کے ذریعے آدمی گناہوں سے رکتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے:"وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰى" (نازعات)

اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے"قال عبد الله: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم شبابا لا نجد شيئا، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يا معشر الشباب، من استطاع الباءة فليتزوج، فإنه اغض للبصر، واحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء".

رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اے جوانو! تم میں جوکوئی نکاح کی استطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے کہ یہ اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے سے نگاہ کو روکنے والا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس میں نکاح کی استطاعت نہیں وہ روزے رکھے کہ روزہ قاطعِ شہوت ہے۔ (بخاری شریف: کتاب النکاح، باب من لم یستطع البائۃ فلیصم الحدیث: ٥٠٦٦)اگر انسان ذرا سی ہمت اور ارادی قوت سے کام لے تو ان چند دنوں میں گناہوں سے چھٹکارا پانا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔رمضان میں جہاں معاصی سے اجتناب ضروری ہے، وہیں لہو و لعب، فضول مشاغل اور بے فائدہ مصروفیات سے کنارہ کشی بھی ناگزیر ہے۔ افسوس کہ بہت سے لوگ اس مقدس مہینے کو کھیل کود، تماشہ بینی، موبائل و انٹرنیٹ کی لغویات، فلم و ڈرامہ اور دیگر لایعنی مشغلوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ اپنی روحانی قسمت کے سودا کے مترادف ہے۔ رمضان دنیوی تفریحات کا نہیں بلکہ باطنی تزکیہ، اصلاحِ نفس اور تقویتِ ایمان کا مہینہ ہے۔

اس مہینے کی برکتیں ان ہی دلوں میں اترتی ہیں جو کینہ، حسد، بغض، عداوت اور بدگمانی سے پاک ہوں۔ حدیث میں آیا ہے کہ رمضان کی راتوں میں سب لوگوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، سوائے اُن دو افراد کے جن کے درمیان باہمی رنجش ہو۔ لہٰذا اس ماہ کا تقاضا ہے کہ دلوں کو صاف کیا جائے، معافی اور درگزر کو اپنایا جائے اور باہمی محبت و اخوت کو فروغ دیا جائے۔ جس دل میں نفرت کا دھواں بھرا ہو، اس پر رمضان کی تجلیات پوری طرح منعکس نہیں ہوتیں۔رمضان کا ظاہری و باطنی احترام نہایت ضروری ہے۔ جو لوگ اس بابرکت مہینے میں روزہ داروں کے سامنے کھاتے پیتے ہیں، یا بازاروں میں کھانے پینے کی چیزوں کی کھلی نمائش کرتے ہیں، اسی طرح ہوٹلوں، ریستورانوں، سینما گھروں اور تھیٹروں کا بلا روک ٹوک کھلا رہنا بھی ماہِ رمضان کے تقدس کے سراسر منافی ہے۔

اللہ نے جنہیں وسعت دی ہے، اُن کے لئے لازم ہے کہ وہ فقراء و مساکین، یتیموں اور بیواؤں کی خصوصی خبرگیری کریں۔ افسوس کہ ہمارے معاشروں میں رمضان کے آتے ہی ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں، حالاں کہ یہ نرم خوئی، سخاوت اور آسانیاں پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔ جو تاجر اس ماہ میں نرمی اور رعایت کا رویہ اختیار کرے گا، وہ صدقۂ جاریہ کمائے گا اور رب کی رحمت کو اپنی تجارت کا ضامن پائے گا۔

رمضان کا ایک ایک لمحہ ہزاروں مہینوں پر بھاری ہے۔ اس میں نیکیوں کے ثواب کے پیمانے بے حد بڑھا دیے جاتے ہیں۔ ہر شام افطار کے وقت فرشتے بندگانِ خدا کے لئے خوش خبریاں لے کر آتے ہیں۔ روزہ دار کے منہ کی بو تک اللہ کے نزدیک مشک و عنبر سے زیادہ محبوب ہے۔

اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے تاکہ انسان نیکی کی طرف آسانی سے مائل ہو سکے۔ اسی مہینے میں شبِ قدر ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے—جو اس ایک رات کو پا لے، گویا عمر بھر کی عبادت پا لیتا ہے۔۔۔

خدائے متعال ہمیں رمضان کے حقیقی فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے، ہماری لغزشیں معاف فرمائے، ہمارے دل پاک و صاف فرمائے اور ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383