ایک طالب علم نے یک نششت میں قرآن پاک سنانے کی سعادت حاصل کی
نصراللہ امجدی جامعہ مخدومیہ ام حبیبہ گرلس کالج چنروٹا کپلوستو نیپال
نیپال اردو ٹائمز ( پریس ریلیز)
ہند و نیپال کے سرحدی علاقے کی آن و بان و شان جس کی وجود مسعود سے ایک عالم روشن و تابناک ہے وہاں کے فارغین علما فضلا ہر چہار جانب علوم قرآن کی روشنی بکھیر رہے ہیں اچھے درسگاہوں کی زینت بنے ہویے ہیں
جہاں ایک طرف یہاں سے فارغین علما فضلا خطبا دین و اسلام کی ترویج و اشاعت میں مصروف عمل ہیں وہیں کثیر تعداد میں حفاظ و قرا کی جماعت درس و تدریس قرآن پاک کو حفظ کرانے اور صحیح درست مخارج کے ساتھ پڑھنے پڑھانے میں مصروف عمل ہیں کئی حفاظ کرام اچھی درسگاہوں کی زیب و زینت بنے ہویے ہیں
یہ جامعہ بابایے ملت حضرت علامہ مفتی عتیق الرحمن صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ کا قائم کردہ جامعہ ہے جس میں شہزاد اعلیٰ حضرت ہم شبیہ غوث اعظم مفتی اعظم محمد مصطفی رضا خان قادری برکاتی کا خصوصی فیضان جاری و ساری ہے آج بحمد اللہ جامعہ میں اچھی تعداد میں طالبان علوم نبویہ علوم قرآن و حدیث با صلاحیت اساتذہ کی زیر نگرانی حاصل کر رہے ہیں مقصود احمد نظامی اساتذہ جامعہ ہذا نے اللہ کے مقدس کتاب قرآن مجید کی آخری چند سورتیں پڑھوا کر دونوں بچوں کا قرآنِ کریم کا ختم کروایا۔ جب قراء صاحبان نے بچوں سے اختتامی سورتوں کی تلاوت کروائی تو ماحول نور و سرور سے معمور ہو گیا۔ حاضرین پر ایک روحانی کیفیت طاری ہو گئی، اور دلوں میں ایمان کی حرارت جاگ اٹھی۔ وہیں جامعہ کے نہایت موقر محنتی جفا کش حافظ و عالم و قاری سینکڑوں حفاظ و قرا کے استاد و مربی نہایت خلیق و ملنسار جن کی محنتیں مشقتیں جامعہ کے لیے قابل فخر ہیں
جن کی انتھک کاوشوں سے اب تک ایسے ایسے حفاظ کرام تیار ہویے ہیں جو اچھی مساجد و مدارس کی زیب و زینت اور جن کا شمار شعبہ حفظ میں اچھے استاد میں ہوتا ہے الحمد للہ مجھے بھی اس عظیم بارگاہ سے فیض حاصل کرنے کا شرف حاصل ہے آپ عصر حاضر کے ان جلیل القدر اساتذۂ کرام میں شامل ہیں جن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف رضایے الہی اور خوشنودی رسول ہے دور جدید جہاں ظاہری چمک دھمک اور نمایش کا اسیر ہے وہیں حضرت حافظ وقاری قمر الزمان صاحب قبلہ نظامی کی شخصیت زہد و سادگی کا حسین مرقع ہے عام طور پر انسان ذرا سی شہرت و مقبولیت ملتے ہی زرق و برق لباس کے خواہاں ہو جاتے ہیں مگر حضرت کے مزاج میں رنگینی یا تصنع پیدا نہیں ہوا ہے جبکہ مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ علما ہوں یا عوام ہر کوئی آپ سے از حد درجہ محبت کرتا ہے جس قدر آپ علما میں مقبول ہیں اسی طرح عوام بھی نہایت عزت و احترام سے پیش آتی ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ بھی نہایت سادگی سے بھرپور زندگی اور مخلصی کو ترجیح دیتے ہیں حضرت کی پچیس سالہ جد و جہد گواہ ہے کہ ان کی محنتیں شاقہ کا محرک کبھی بھی دنیاوی جاہ و جلال نہیں رہاآپ اپنی ذمہ داریوں کو کو امانت سمجھا اور اسے پوری دیانت داری کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کو اپنا شعار بنایا ان کا اخلاق و اخلاص ہی وہ قوت ہے جو انہیں عوام و علما میں مقبولیت کا درجہ رکھتا ہے
نظم و ضبط اور بے مثال پابندی وقت ان کی زندگی کا سب سے روشن پہلو درسگاہ کی سخت پابندی ہے نماز فجر سے قبل یا بعد نماز ظہر یا اوقات درسگاہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ طلبہ کے ساتھ خود بھی درسگاہ لگا کر بیٹھنا اور ان کے اسباق و آموختہ کو سننا آپ کا مشغلہ ہے اور یہی ایک اچھے محنتی استاد کی نشانی ہے جب استاد گرامی قدر اپنے آبائی وطن میں رہتے تھے اور جامعہ سے جمعرات کو گھر جاتے تو ہفتے کی بصح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی وہ اپنی درسگاہ میں موجود ہوتے تھے اور اب تو جامعہ کے قریب ہی الحمد للہ حضرت قیام فرماتے ہیں کس قدر پابندی درسگاہ ہوگی اور گھن گرج للکار ہوتی ہوگی یہ طلبہ ہی جانتے ہیں آپ اس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مطبخ کی ذمہ داری نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کر رہے ہیں کہ آج پچیس سالوں سے یہ بھی یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور پچیس سال سے مطبخ کی ذمہ داری مسلسل نبھانا جہاں دو سو سے زائد طلبہ کے کھانے کا انتظام ہو یہ ایک مدرسہ سے جڑا ہوا شخصہی جان سکتا ہے کہ آپ کتنی دیانت داری کے ساتھ لگے ہویے ہیں کہ اب تک کسی دوسرے فرد کو اراکین جامعہ نے منتخب نہیں کیا
یہ بے داغ ریکارڈ ایک معلم کے بلند کردار کی بہترین سند ہے اسی کڑی محنت اور طلبہ کے تعلیمی اسفار پر عمیق نظر رکھنے کی برکت ہے کہ آج جماعت اہلسنت خصوصاً کپلوستو ضلع و سدھارتھ نگر بلرامپور کے پاس ان کے تربیت یافتہ سینکڑوں ایسے حفاظ و قرا موجود ہیں جو علم و فن کا شاہکار ہیں ہر سال درجنوں حفاظ تیار ہونا اور بیشر کا یک نششت میں قرآن پاک سنانا ان کے اخلاص اور جد و جہد کا وہ میٹھا پھل ہے جو رہتی دینا تک ان کے لیے صدقہ جاریہ رہے گا
تصویر میں موجود طالب علم نے یک نششت میں قرآن پاک سنا کر اپنی ذہانت و فطانت کا مظاہرہ کیا اور اس کا سہرا حضرت قاری صاحب قبلہ کے سر جاتا ہے جن کی انتھک کوششوں سے یہ موقع میسر آیا
اس عظیم سعادت حاصل کرنے والے طالب علم کا نام و پتہ حافظ عبدالحسین ابن ابوہریرہ چودھری ساکن گدھوا وارڈنمبر 5 کپلوستو نیپال ہے
اس عظیم قربانی اور دلکش منظر پر ہم اپنے استاد و مربی حضرت حافظ وقاری قمر الزمان صاحب قبلہ نظامی کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں مولی عز و جل آپ کو سدا سلامت رکھے حاسدین کے حسد شریروں کے شر و فساد سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
کفش بردار
نصراللہ امجدی
جامعہ مخدومیہ ام حبیبہ گرلس کالج چنروٹا کپلوستو نیپال
