ووٹ لمحوں کا فیصلہ، برسوں کی تقدیر
از قلم 🖋️ نوشاد احمد قادری
پرنسپل جامعہ اہلِ سنت مصباح العلوم مسکینیہ چنروٹا
ملک میں الیکشن کا ماحول قائم ہے، فضا جوش و خروش اور نعروں سے گونج رہی ہے، ہر سمت وعدوں کی چمک اور دعوؤں کی کثرت ہے۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن لمحوں میں سب سے بڑی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ انسان عقل سے کام لے یا جذبات کے بہاؤ میں بہہ جائے۔ یاد رکھیے! قوموں کی تقدیر نعروں سے نہیں بلکہ شعور سے بدلتی ہے۔
یہ وقت جوش اور جذبات میں آ کر فیصلے کرنے کا نہیں، بلکہ ہوش، بصیرت اور ذمہ داری کے ساتھ قدم اٹھانے کا ہے۔ کسی کے بہکاوے میں آنا، وقتی فائدے، پیسہ یا مال و دولت کو معیارِ انتخاب بنانا درحقیقت اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے مستقبل کو گروی رکھنے کے مترادف ہے۔ چند لمحوں کی خوشی، عارضی آسانی یا وقتی مفاد اگر ہمارے فیصلے پر حاوی ہو گیا تو اس کی قیمت ہمیں پورے پانچ سال تک تکلیف، پچھتاوے اور محرومی کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔
ووٹ محض ایک پرچی نہیں، یہ ایک امانت ہے، ایک گواہی ہے، ایک عہد ہے جو ہم اپنے رب، اپنی قوم اور آنے والی نسلوں سے کرتے ہیں۔ اگر ہم نے اس امانت میں خیانت کی تو اس کا خمیازہ صرف ہمیں نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنے ووٹ کا استعمال
سوچ سمجھ کر، دیانت داری کے ساتھ اور حق و انصاف کے معیار پر کیا جائے۔ہر حال میں ہمیں اپنے گھروں سے نکلنا ہے، سستی اور بے حسی کو ترک کرنا ہے، اور اپنے مستقبل کے لیے بہترین، صالح اور باصلاحیت رہنما کا انتخاب کرنا ہے۔ ایسا رہنما جو ملک کی خوبصورتی میں اضافہ کرے، امن و امان کو مضبوط کرے، اور نفرت، تعصب اور انتشار کے بجائے بھائی چارگی، رواداری اور محبت کا پیغام عام کرے۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں محبت کا چراغ صرف گھروں میں ہی نہیں بلکہ نفرت کے بازاروں میں بھی روشن ہو۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہے کہ اگر ہمارے علماء کرام چاہ لیں، اگر وہ اپنی ذمہ داری کو پہچان لیں، اگر وہ حق و باطل، صحیح و غلط اور خیر و شر کے درمیان واضح رہنمائی فراہم کریں، تو یہ سفر ہمارے لیے آسان ہی نہیں بلکہ آسان تر ہو سکتا ہے۔ علماء قوم کے ضمیر کی آواز ہوتے ہیں، ان کی بصیرت اور رہنمائی قوم کو بھٹکنے سے بچا سکتی ہے۔
آئیے! اس انتخابی مرحلے کو آزمائش سمجھیں، موقع سمجھیں اور نعمت سمجھیں۔ جذبات نہیں، کردار دیکھیں؛ وعدے نہیں، عمل دیکھیں؛ مال نہیں، اخلاق دیکھیں۔ یہی شعور ہمارے نیپال کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
ووٹ دیجئے، مگر سوچ سمجھ کر کیونکہ یہ فیصلہ صرف آج کا نہیں، آنے والے پانچ برسوں کا ہے۔
از قلم 🖋️ نوشاد احمد قادری پرنسپل جامعہ اہلِ سنت مصباح العلوم مسکینیہ چنروٹا
