Apr 5, 2026 06:47 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ایوان میں تبدیلی کی پہلی جھلک: عبدالجبار علیمی نیپالی

ایوان میں تبدیلی کی پہلی جھلک: عبدالجبار علیمی نیپالی

02 Apr 2026
1 min read

ایوان میں تبدیلی کی پہلی جھلک

عبدالجبار علیمی نیپالی 

نیپال کی پارلیمنٹ میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ہونے والا پہلا اجلاس محض ایک رسمی کارروائی نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسے دور کے آغاز کی علامت تھا جس سے عوام نے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ ایوان کا ماحول شروع ہی سے غیر معمولی طور پر سنجیدہ مگر پُرامید دکھائی دیا۔ حکومتی اراکین کے چہروں پر اعتماد اور عزم نمایاں تھا، جبکہ اپوزیشن بینچز پر محتاط رویہ دیکھنے میں آیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سخت سیاسی مقابلہ بھی متوقع ہے۔

اجلاس کے دوران سوتنتر پارٹی کے صدر روی لامیچھانے کا خطاب سب کی توجہ کا مرکز رہا۔ انہوں نے نہایت سادہ اور براہِ راست انداز میں گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ نئی حکومت ملک میں بدعنوانی کے خاتمے، انصاف کی فراہمی اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنائے گی۔ ان کی تقریر میں روایتی سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کی بات کی گئی، جسے ایوان کے اندر اور باہر دونوں جگہ مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقے میں اس خطاب نے ایک نئی امید پیدا کی ہے کہ شاید اب حکمرانی کا انداز بدلنے والا ہے۔

وزیر اعظم بالن شاہ کے لیے یہ پہلا بڑا پارلیمانی موقع تھا جس میں ان کی قیادت کا ابتدائی تاثر سامنے آیا۔ اگرچہ انہوں نے تفصیلی پالیسی بیان نہیں دیا، لیکن حکومتی صفوں میں نظم و ضبط اور اعتماد اس بات کا اشارہ دے رہا تھا کہ حکومت اپنے ایجنڈے پر واضح ہے۔ نئی کابینہ میں نوجوان چہروں کی شمولیت بھی ایک اہم پہلو ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں روایتی سیاست کے ساتھ ساتھ نئی سوچ کو بھی جگہ دی جا رہی ہے۔

تاہم، اس مثبت منظر کے ساتھ کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ امن و امان کا قیام ہے، کیونکہ حالیہ مظاہروں اور سیاسی کشیدگی نے ملک کے حالات کو متاثر کیا ہے۔ وزیر داخلہ کے طور پر سدن گرنگ کی تقرری کو ایک جرات مندانہ فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک نوجوان رہنما کے طور پر ان کے پاس توانائی اور عزم تو موجود ہے، مگر ان کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اس توانائی کو مؤثر حکمت عملی میں کیسے تبدیل کرتے ہیں اور ملک میں استحکام کیسے لاتے ہیں۔

اسی طرح، سابق حکام کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ایک حساس معاملہ ہے۔ اگر یہ احتساب شفاف اور قانون کے مطابق ہوا تو یہ عوام کے اعتماد کو مضبوط کرے گا، لیکن اگر اس میں کسی قسم کی جانبداری نظر آئی تو یہ سیاسی انتقام کا تاثر پیدا کر سکتا ہے، جو نئی حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ نیپال کی سیاسی تاریخ میں ایسے واقعات کی مثالیں موجود ہیں، اس لیے اس پہلو پر خاص توجہ دینا ضروری ہے۔

معاشی صورتحال بھی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ صرف تقاریر اور وعدے کافی نہیں ہوں گے، بلکہ فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہوگی تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ اگر حکومت ابتدائی دنوں میں معاشی بہتری کے آثار دکھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کی مقبولیت میں واضح اضافہ ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پارلیمنٹ کے اس پہلے اجلاس نے واقعی تبدیلی کی ایک جھلک پیش کی ہے۔ ایوان میں نئی قیادت کا اعتماد، اصلاحات کے وعدے اور نوجوانوں کی شمولیت ایک مثبت اشارہ ہیں۔ تاہم، یہ صرف آغاز ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ دعوے عملی اقدامات میں بدلیں گے اور عوام کو اس تبدیلی کے حقیقی اثرات نظر آئیں گے۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383