ایپسٹن فائل سے کیوں مچا کہرام؟
ABDUL JABBAR ALIMI
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب طاقت اخلاق اور قانون سے آزاد ہو جائے تو وہ انسانیت کو روند ڈالتی ہے۔
چنگیز خان سے لے کر نوآبادیاتی قوتوں تک، اور آج کے جمہوری لبادے میں چھپی عالمی طاقتوں تک، ہر دور میں یہی اصول کارفرما رہا ہے۔ ایپسٹین فائلز نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید دنیا کے دعوے جتنے شاندار ہیں، اس کے اندر چھپی درندگی اتنی ہی خوفناک ہے۔
ایپسٹین فائلز کا افشا ہونا محض مغربی دنیا کا اسکینڈل نہیں، بلکہ یہ پورے عالمی نظامِ طاقت پر فردِ جرم ہے۔ وہ طاقتیں جو جنوبی ایشیا سمیت ترقی پذیر ممالک کو انسانی حقوق، خواتین کے تحفظ اور بچوں کے حقوق پر لیکچر دیتی رہی ہیں، آج خود اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار نظر آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو دنیا دوسروں کے لیے انصاف کے معیار طے کرتی ہے، کیا وہ خود ان معیاروں پر پورا اترنے کی اہل ہے؟
ایپسٹین کے نجی جزیرے پر قائم کیا گیا مجرمانہ نظام اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ کس طرح طاقتور طبقہ دولت اور اثر و رسوخ کے بل پر قانون کو یرغمال بنا لیتا ہے۔ کم عمر لڑکیوں کو ملازمت، بہتر مستقبل اور مالی سہولتوں کے خواب دکھا کر استعمال کیا گیا۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جس کی جھلک ہمیں جنوبی ایشیا میں بھی نظر آتی ہے، جہاں غربت، بے روزگاری اور کمزور قانونی نظام کا فائدہ اٹھا کر انسانی اسمگلنگ اور بچوں کے استحصال جیسے جرائم کو فروغ دیا جاتا ہے۔نیپال، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک طویل عرصے سے انسانی اسمگلنگ کے خطرات سے دوچار ہیں۔ مگر افسوس کہ جب یہی جرائم عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں وقوع پذیر ہوتے ہیں تو انہیں اسکینڈل کہہ کر وقتی شور کے بعد فراموش کر دیا جاتا ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک کو اسی نوعیت کے جرائم پر بدنام اور سزاوار ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار عالمی انصاف کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک اکثر انہی طاقتوں کی سیاسی، معاشی اور سفارتی پالیسیوں کے زیرِ اثر رہتے ہیں، جن کے اخلاقی دعوے ایپسٹین فائلز نے بے نقاب کر دیے ہیں۔ کیا اب بھی ہماری خارجہ اور داخلی پالیسیاں اندھی تقلید پر مبنی رہیں گی؟ یا ہم اپنی اقدار، اپنی سماجی حساسیت اور اپنے انصاف کے پیمانوں پر نظرِ ثانی کریں گے؟
سال 2026 کے آغاز میں سامنے آنے والی ایپسٹین فائلز جنوبی ایشیا کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی ہیں: طاقت کے مراکز چاہے مشرق میں ہوں یا مغرب میں، اگر احتساب سے آزاد رہیں گے تو ظلم کی شکل بدلتی رہے گی مگر ختم نہیں ہوگی۔ نیپال جیسے ممالک کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ عالمی نعروں سے متاثر ہونے کے بجائے اپنے قانونی، سماجی اور اخلاقی نظام کو مضبوط کریں، تاکہ کمزور طبقات کو حقیقی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیپال اردو ٹائمز کی رائے میں ایپسٹین فائلز صرف چند افراد کے کردار پر سوال نہیں، بلکہ اس عالمی نظام پر سوالیہ نشان ہیں جو کمزور ممالک کو نصیحت اور طاقتوروں کو رعایت دیتا ہے۔ اگر آج بھی عالمی برادری، بالخصوص ترقی پذیر دنیا، اس دوہرے معیار کو چیلنج نہ کر سکی تو آنے والی نسلیں ہمیں خاموش تماشائی کے طور پر یاد رکھیں گی۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین کون تھا، بلکہ یہ ہے کہ کیا نیپال اور جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا میں اتنی اخلاقی جرات موجود ہے کہ وہ طاقتور مجرموں کے خلاف ایک ہی معیارِ انصاف نافذ کر سکے؟ یا پھر تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ طاقت، قانون اور انسانیت سب پر حاوی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
