Sep 21, 2026 05:32 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مَرچَوارِی نیپال میں جلوس محمدی نہایت ہی تزک احتشام کے ساتھ اختتام پذیر

مَرچَوارِی نیپال میں جلوس محمدی نہایت ہی تزک احتشام کے ساتھ اختتام پذیر

27 Aug 2026
1 min read

مَرچَوارِی نیپال میں جلوس محمدی نہایت ہی تزک احتشام کے ساتھ اختتام پذیر

روپندیہی مرچواری گاؤں پالیکا

 ( نیپال اردو ٹائمز)

سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰ ﷺ کی ولادتِ با سعادت کی پر مسرت مناسبت سے گزشتہ روز مقامی دینی درسگاہ مدرسہ مدرسہ برکاتیہ نظام العلوم کے زیراہتمام ایک التزام کے ساتھ عظیم الشان اور باوقار 'جلوسِ محمدی' کا انعقاد عمل میں آیا۔صبح کی پہلی کرنوں کے ساتھ ہی مدرسے کا صحن عقیدت مندوں،اور طلباء سے لبریز ہو چکا تھا۔ پرچمِ اسلام کی بلندی، لبوں پر درود و سلام کی صداؤں اور فضا میں پھیلی نعتِ پاک کی گونج نے پورے علاقے کو روحانی و نورانی ماحول میں ڈھال دیا۔

جلوس کا پروقار آغاز اور نورانی سفرصبح ٹھیک 8:00 بجے مدرسے کے صحن میں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں بنامِ پاک نعتِ شریف کے نذرانے پیش کرنے کے بعد جلوس کی باقاعدہ شروعات ہوئی۔ مدرسے کے باوقار اساتذہ کی سرپرستی میں جلوس نے اپنے طے شدہ راستوں کی جانب پیش قدمی کی۔جلوس میں مدرسے کے چھوٹے چھوٹے معصوم طلباء سفید براق لباس، سروں پر سبز و سفید عمامے اور ہاتھوں 

میں مذہبی پرچم اٹھائے صف بستہ چل رہے تھے، جو دیکھنے والوں کے دل موہ رہے تھے۔ جلوس نے جن جن دیہاتوں اور بستیوں کا رخ کیا، وہاں کا ہر فرد آقا کی آمد کی خوشی میں سرشار نظر آیا:جلوس جب اس پہلی بستی نوڈیہواں میں داخل ہوا تو مقامی باشندوں نے سڑک کے دونوں جانب کھڑے ہو کر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ جوان اور بوڑھے سبھی نعرہ تکبیر و رسالت کی گونج میں شامل ہوتے گئے۔

پھلوریا گاؤں کی حدود میں داخل ہوتے ہی طلباء کی نعت خواں ٹیم نے اجتماعی آواز میں درودِ پاک پڑھنا شروع کیا، جس سے پورا ماحول عطر بیز ہو گیا۔ مقامی معززین نے علماء کرام کا پرخلوص استقبال کیا۔

خزہنی چوراہا پر شرکاءِ جلوس کا جذبہ اور نظم و ضبط دیدنی تھا۔ گاؤں کے متعدد افراد نے اپنے گھروں کے سامنے سے گزرتے جلوس پر گل پاشی کی اور جلوس کی صفوں میں شامل ہوئے۔

ڈوکڑی گاؤں میں پہنچ کر جلوس ایک عظیم سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ گرمی اور طویلراستے کے باوجود شرکاء کے جوش و خروش میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔ مقامی نوجوانوں نے شرکاء کے 

لیے پینے کے ٹھنڈے پانی اور مشروبات کے جگہ جگہ سٹال لگا رکھے تھے۔

ہردی گاؤں کی فضا "آمدِ مصطفیٰ... مرحبا مرحبا" کے نعروں سے گونج اٹھی۔ بستی کے لوگوں نے اخوت اور محبت کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے جلوس کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا۔

 علاقے کا مرکزی مقام ہونے کی وجہ سے مرچواری پہنچنے پر جلوس ایک عظیم الشان عوامی اجتماع کا منظر پیش کرنے لگا۔ ہر طرف اسلامی پرچم لہراتے نظر آئے اور عیدِ ملاد النبی ﷺ کی خوشی اپنے عروج پر دکھائی دی۔

تمام مقررہ بستیوں اور دیہاتوں کی سیر کے بعد، 6 گھنٹے پر محیط یہ ایمان افروز اور پرامن جلوس دوپہر ٹھیک 2:00 بجے واپس اپنے مدرسہ پر پہنچ کر اختتام پذیر 

ہوا۔

رات میں مدرسے کے صحن میں ایک پروقار پروگرام بنا جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "نبی کریم ﷺ کی ذاتِ بابرکت پوری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجی گئی ہے۔ جلوسِ محمدی کا مقصد دنیا کو امن، محبت، بھائی چارے اور سیرتِ نبوی ﷺ کے روشن اصولوں سے روشناس کرانا ہے۔"

پروگرام کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، امن و امان، اتحادِ باہمی اور مدرسے کی مزید تعلیمی ترقی و استحکام کے لیے رقت انگیز دعا مانگی گئی۔ بعد ازاں، تمام شرکاء، مہمانوں اور علاقائی عوام میں تبرک و لنگر تقسیم کیا گیا۔

محمد حسن سراقہ رضوی

 بھیرہواں نیپال

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)