غزل
۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی گلی تمہاری نظر سے گزر گئی
تصویرِ یار سینے میں پھر سے ابھر گئی
نذرانہ ہم کو جب ملا دھوکا فریب کا
پھر یوں ہوا کے وہ مرے دل سے اتر گئی
جیون کے راستوں سے جو ہمدم بچھڑ گیا
منزل کے ساتھ ساتھ حسیں وہ ڈگر گئی
میں چاہتا تھا چھو لوں گا ماضی کا ہر ورق
خوشبو کی طرح یاد ہوا میں بکھر گئی
چارہ گروں نے مدتوں تشخیص کی عبث
پھر زخم کی جگہ پہ ہماری نظر گئ
جس راستے سے وہ گئی تھی شہر کی طرف
عالم کی یہ نگاہ وہیں پر ٹھہر گئی
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
کروشی بلگام کرناٹک
8105493349
