نازا (NAZA) کی گواہی، حق کی آواز
غزہ کے ملبے پر ایک سوال: دنیا کب جاگے گی؟
لباس کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو، اگر ضمیر مر جائے تو انسان کی اصل قیمت باقی نہیں رہتی۔ اور جب ظلم انسانیت کی حدوں کو پامال کرنے لگے، تو خاموش رہنا بھی ضمیر کے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ غزہ آج تمہارے زندہ ضمیر سے ایک سوال کر رہا ہے: کیا تم واقعی اس درد کو محسوس کر رہے ہو؟
فلسطین میں جاری خونریزی اب کسی ایک دن، ایک ہفتے یا ایک مہینے کی داستان نہیں رہی۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے 15 ستمبر 2026 تک غزہ میں کم از کم 73,789 فلسطینی شہید اور 174,798 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ تازہ اعداد قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی - QNA- نے 15 ستمبر 2026 کو فلسطینی طبی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیے ہیں۔ لیکن یہ اعداد اس درد کی مکمل تصویر نہیں-
کیونکہ غزہ میں ایسے بھی بے شمار انسان ہیں جن تک امدادی اور طبی ٹیمیں اب تک پہنچ نہیں سکیں۔ کچھ لاشیں ملبے تلے دبی ہیں، کچھ علاقوں تک رسائی ممکن نہیں، اور کچھ جسم ایسے بھی ہیں جنہیں بارود کے دھماکوں نے اس طرح بکھیر دیا کہ انسان کی شناخت تک مٹ گئی -اس لیے آج جو تعداد ہمارے سامنے ہے، وہ صرف ان لوگوں کی ہے جن کی ہلاکت کی اطلاع مل سکی ہے۔ غزہ کے ملبے تلے دبے ہر شخص کا ابھی مکمل حساب نہیں ہو سکا۔
سوچیے، ان ملبوں کے نیچے کتنی مائیں اپنے بچوں کے ساتھ، کتنے بچے اپنے والدین کے
ساتھ، کتنی بیویاں اپنے شوہروں کے ساتھ اور کتنے شوہر اپنی بیویوں کے ساتھ شاید ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے ہیں۔
غزہ میں بعض خاندانوں کے افراد کئی مہینوں بلکہ برسوں بعد ملبے سے مل رہے ہیں۔ اس لیے 73,789 صرف ایک تعداد نہیں، بلکہ ہزاروں انسانوں، خاندانوں اور زندگیوں کی کہانی ہے۔ اور ممکن ہے کہ بہت سے لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوں۔
مگر اسی اندوہناک منظرنامے کے درمیان ایک ایسی آواز بھی سامنے آئی ہے جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں—اور وہ آواز باہر سے نہیں، بلکہ اسی معاشرے کے اندر سے اٹھ رہی ہے جہاں سے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری تباہی اور مبینہ نسل کشی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں یُووال ابراہام (Yuval Abraham) اور ریچل سور(Rachel Szor) کی فلم ’’نازا (NAZA) نے وینس فلم فیسٹیول میں عالمی توجہ حاصل کی
اس فلم میں 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گمنام گواہیوں کے ذریعے غزہ میں شہری ہلاکتوں کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
NAZA ایک اسرائیلی فوجی اصطلاح ہے-
بہت آسان الفاظ میں سمجھیں تو "نازا"
جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد بتانے کے لئے بولا جانیوالا الفاظ ہے
یعنی حملہ کرنے سے پہلے یہ اندازہ لگانا کہ اس حملے میں کتنے عام شہری مارے جا سکتے ہیں۔
فلم میں کچھ ایسے لوگوں کی گواہیاں شامل ہیں جو اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے نظام کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، غزہ میں حملوں کے لیے اہداف طے کرنے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا۔ ان گواہوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی ایک قابلِ قبول نقصان سمجھا گیا۔ فلم انہی لوگوں کی گواہی کے ذریعے یہ سوال اٹھاتی ہے کہ بے گناہ شہریوں کی جانیں آخر اتنی آسانی سے کیسے ضائع کی جا سکتی ہیں؟
اگر ظلم کے خلاف گواہی دینے والی آوازیں اسی معاشرے کے اندر سے اٹھ سکتی ہیں، تو مظلوم کے اپنے بھائی کب اپنی خاموشی توڑیں گے؟ایک طرف فلسطینی ماں اپنے بچے کی لاش اٹھا کر دنیا سے انصاف مانگ رہی ہے،
دوسری طرف اسی ملک کے بعض لوگ اپنے ہی نظام کے بارے میں سوال اٹھانے اور گواہی دینے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔
اور ہم؟
ہم غزہ کی خبر دیکھتے ہیں، چند لمحوں کے لیے افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں، آنکھیں نم ہوتی ہیں—اور پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔
مگر فلسطین کے لیے زندگی کبھی معمول پر نہیں آئی،وہاں ایک بچہ معمول کی نیند سے محروم ہے،ایک ماں اپنے بچے کا نام ملبے میں تلاش کر رہی ہے،ایک باپ اپنے خاندان کی قبریں گن رہا ہے،اور شاید کسی ملبے کے نیچے آج بھی کوئی ایسا شخص موجود ہے جس کا نام ہماری گنتی میں شامل نہیں ہوا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں NAZA
صرف ایک فلم نہیں رہتی، بلکہ ایک سوال بن جاتی ہے۔ ایک ایسا سوال جو ہم سب سے پوچھتا ہے:جب ظلم کے خلاف گواہی دینے والے اپنے ہی گھر سے نکل سکتے ہیں، تو ہم کب اپنی خاموشی توڑیں گے؟
اللہ چاہے تو ظالموں کے درمیان بھی ایسے دل پیدا کر دیتا ہے جو ظلم کے خلاف کھڑے ہوں، سچ بولیں اور اپنے ہی لوگوں کے اعمال پر سوال اٹھائیں۔شاید یہ بھی اللہ کی ایک نشانی ہے کہ کبھی کبھی حق کی گواہی وہاں سے آتی ہے جہاں سے ہم اس کی توقع نہیں کرتے۔
فلسطین ہمیں صرف اسرائیل سے سوال کرنے کا موقع نہیں دیتا؛ فلسطین ہم سے بھی سوال کرتا ہے۔وہ پوچھتا ہے
تم نے میرا درد کب محسوس کیا؟ تم نے میری آواز کب سنی؟تم نے میرے بچوں کے لیے کب کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا؟اور سب سے بڑھ کر—تم کب تک خاموش رہو گے؟
غزہ کے ملبے میں شاید صرف گھر نہیں دبے ہوئے؛ہماری انسانیت بھی دفن ہو رہی ہے۔
اور اگر آج ہم نے اس خاموشی کو نہ توڑا تو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی:
جب فلسطین جل رہا تھا، جب ہزاروں معصوم انسان مارے جا رہے تھے، جب بچے اپنے والدین سے اور مائیں اپنے بچوں سے بچھڑ رہی تھیں، جب ظالم کے اپنے گھر سے بھی گواہی آ رہی تھی—تب تم کہاں تھے؟ فلسطین آج ہم سے صرف ہمدردی نہیں مانگ رہا۔ وہ ہماری انسانیت کا امتحان لے رہا ہے۔محمد اسلم خان یونس دوحہ قطر
aslam.khan282@gmail.com
