سنسری واقعے کے خلاف دارالحکومت میں مظاہرہ، مذہبی منافرت پر مبنی نعروں نے کھڑے کیے سوالات
مولانا مشہود خاں نیپالی
دارالحکومت کاٹھمانڈو نیپال
سنسری ضلع کے دیوان گنج گاؤں پالیکا 3، کپتان گنج میں پیش آنے والے پرتشدد واقعے کے بعد اس کے ردعمل میں منگل کے روز دارالحکومت کٹھمنڈو کے مائیتی گھر علاقے میں بعض ہندو تنظیموں اور کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا، تاہم احتجاج کے دوران لگائے گئے بعض مذہبی منافرت پر مبنی نعروں اور پلے کارڈز نے نئی بحث کو جنم دے دیا۔ مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن میں بعض پر مسلم برادری کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز جملے درج تھے۔ چند شرکاء نے مسلمانوں کے بارے میں توہین آمیز نعرے بھی لگائے، جبکہ بعض پلے کارڈز پر ملک بھر کی مساجد اور مدارس کی نگرانی کا مطالبہ بھی تحریر تھا۔ ان نعروں اور بیانات نے سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے اور مذہبی رواداری کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی افسوسناک واقعے کی آڑ میں پوری مذہبی برادری کو نشانہ بنانا یا اشتعال انگیز زبان استعمال کرنا معاشرتی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور باہمی اعتماد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں سے تحمل، ذمہ داری اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے مؤقف کے اظہار کی اپیل کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ 10 ساون کو سنسری کے دیوان گنج، کپتان گنج میں ہندو اور مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے درمیان معمولی تکرار کے بعد جھڑپیں پھوٹ پڑی تھیں، جو بعد ازاں پرتشدد صورت اختیار کر گئیں۔ اس واقعے میں ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا، جس کے بعد سنسری سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج، ریلیوں اور انصاف کے مطالبات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔مولانا مشہود خاں نیپالی
