وولر کے کنارے خضر سے ملاقات
مولانا محمد رضا مصباحی قادری مجددی نقشبندی سے ایک یادگار علمی نشست۔ ڈاکٹر شمس کمال
مبارک پور: گزشتہ ہفتے راقم کو اپنے عزیز شاگرد ڈاکٹر ابراہیم مصباحی صاحب کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے گرامی قدر استاد، صاحب علم و فضل، حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد رضا مصباحی قادری مجددی نقشبندی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات محض رسمی ملاقات نہ تھی، بلکہ ایک ایسی مختصر مگر جامع علمی نشست تھی جس نے دیر تک ذہن و دل کو اپنے حصار میں لیے رکھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے وولر کے کنارے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خضر علیہ السلام کی صحبت میسر آگئی ہو۔ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے پر محیط رہی، لیکن اس مختصر وقت میں حضرت نے تفسیر و قرآنیات، بلاغت قرآن، فقہ، حدیث، تصوف اور عربی ادبیات سمیت متعدد علمی موضوعات پر نہایت سنجیدہ، مدلل اور فکر انگیز گفتگو فرمائی۔ گفتگو کے دوران ان کا وسیع مطالعہ، گہری علمی بصیرت، وسعتِ نظر اور موضوعات پر مضبوط گرفت نمایاں طور پر محسوس ہوتی رہی۔ خصوصاً تصوف کے حوالے سے حضرت نے بعض ایسے دقیق اور قابلِ غور نکات بیان فرمائے جو راقم کے لیے نہ صرف نئے تھے بلکہ مزید غور و فکر کی دعوت بھی دیتے تھے۔
ان کی گفتگو میں محض معلومات کی کثرت نہیں تھی، بلکہ مطالعے کی پختگی، فکر کی بالیدگی اور علم کے ساتھ ایک زندہ اور گہرا تعلق محسوس ہوتا تھا۔ عربی ادب سے غیر معمولی شغف۔ اس ملاقات کا ایک نہایت خوش گوار اور حیرت انگیز پہلو حضرت کا عربی ادبیات سے گہرا شغف تھا۔ اسلامیات اور دینیات کے موضوعات پر گفتگو تو اپنی جگہ، لیکن جب بات عربی ادب کی طرف آئی تو حضرت نے شاعری، ادب، بلاغت، فقہ اللغۃ اور دیگر ادبی و لسانی مباحث پر بھی بھرپور انداز میں گفتگو فرمائی۔ ان موضوعات پر حضرت کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ عربی زبان و ادب محض ان کے لیے ایک ضمنی علمی موضوع نہیں، بلکہ ان کے وسیع مطالعاتی ذوق کا اہم حصہ ہے۔ مدارس کے علمی ماحول میں عربی ادبیات سے اس قدر گہرا اور زندہ شغف یقیناً ہر ایک کے حصے میں نہیں آتا۔ حضرت کی گفتگو سنتے ہوئے یہ احساس بار بار پیدا ہوتا رہا کہ علم کی اصل خوب صورتی صرف کثرتِ معلومات میں نہیں، بلکہ مختلف علوم کے باہمی ربط کو سمجھنے، ان پر غور کرنے اور انہیں ایک جامع فکری تناظر میں دیکھنے میں ہے۔ کتابوں کا تحفہ اور ایک خوش گوار پیغام: ملاقات کے اختتام پر راقم نے اپنی بعض منتخب کتابوں کا ایک سیٹ حضرت کی خدمت میں پیش کیا۔ بعد ازاں حضرت نے پیغام کے ذریعے مطلع فرمایا کہ انہوں نے ان کتابوں کو توجہ سے دیکھا ہے اور ان میں سے ایک دو کتابیں مطالعے میں بھی رکھی ہیں ۔ یہ بات یقیناً میرے لیے باعث مسرت اور حوصلہ افزائی تھی کہ ایک ایسے صاحب علم نے میری تحریروں کو وقت دے کر ملاحظہ فرمایا۔
امید ہے کہ مطالعے کی تکمیل کے بعد حضرت اپنے گراں قدر علمی تاثرات اور مشوروں سے بھی نوازیں گے، جو یقیناً میرے لیے آئندہ علمی سفر میں قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گے۔ ایک ملاقات، جو یاد بن گئی: زندگی میں بعض ملاقاتیں وقت کے چند لمحوں سے زیادہ نہیں ہوتیں، مگر اپنے اثرات کے اعتبار سے برسوں یاد رہتی ہیں۔ یہ ملاقات بھی میرے لیے ایسی ہی ایک یادگار علمی نشست تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے کی اس مختصر ملاقات میں جس علمی وسعت، فکری گہرائی، ادبی ذوق اور تصوف کی باریکیوں سے آشنائی کا مشاہدہ ہوا، اس نے دل پر ایک خوش گوار نقش چھوڑ دیا۔ واپسی پر دل میں یہی احساس تھا کہ شاید بعض علمی شخصیات سے ملاقات دراصل محض ملاقات نہیں ہوتی؛ وہ علم کے ایک نئے دریچے سے آشنائی ہوتی ہے۔ اور آج کی یہ مختصر مگر بامعنی نشست میرے حافظے میں اسی کیفیت کے ساتھ محفوظ ہے کہ: وولر کے کنارے واقعی خضر سے ملاقات ہوگئی تھی۔
