Sep 21, 2026 05:31 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سیمانچل کی تعلیمی تاریخ کا ایک سنہرا باب

سیمانچل کی تعلیمی تاریخ کا ایک سنہرا باب

27 Aug 2026
1 min read

سیمانچل کی تعلیمی تاریخ کا ایک سنہرا باب

جامعہ محمدیہ شاہی عیدگاہ، بڑا جالملک میں انڈیا ہولی قرآن ایوارڈ کے دعوتی وفد کا تاریخی استقبال، معدن اکیڈمی و ایمبرز گلوبل کے اشتراک سے جدید تعلیمی منصوبے کا سنگِ بنیاد

ٹھاکر گنج، ضلع کشن گنج (بہار) | نمائندۂ خصوصی

سیمانچل کی تعلیمی اور دینی تاریخ میں 4 اگست 2026ء کا دن ایک اہم اور یادگار سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر گیا، جب معدن اکیڈمی، کیرالہ کے زیرِ اہتمام ملک گیر قرآنی تحریک "انڈیا ہولی قرآن ایوارڈ" کے دعوتی وفد نے جامعہ محمدیہ شاہی عیدگاہ، بڑا جالملک، علاقہ ٹھاکر گنج، ضلع کشن گنج (بہار) کا دورہ کیا۔ وفد کی آمد پر علماء کرام، ائمۂ مساجد، سماجی و علمی شخصیات، عوامی نمائندوں اور اہلِ علاقہ نے انتہائی والہانہ انداز میں استقبال کیا۔ معزز مہمانوں کو گل ہائے عقیدت پیش کیے گئے اور ہار پہنا کر ان کا خیرمقدم کیا گیا، جس سے اہلِ سیمانچل کی دینی وابستگی، مہمان نوازی اور علمی ذوق کی خوبصورت جھلک نمایاں ہوئی۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نظامت و قیادت *حضرت حافظ و قاری مولانا محمد مظفر حسین رضوی* (ریسرچ اسکالر، شعبۂ علومِ اسلامی، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی؛ ڈائریکٹر، جامعہ محمدیہ شاہی عیدگاہ، بڑا جالملک، علاقہ ٹھاکر گنج، ضلع کشن گنج (بہار)) نے نہایت عمدہ انداز میں فرمائی۔ پروگرام کی نگرانی *حضرت حافظ و قاری مولانا نوشاد علی رضوی* صاحب نے بحسن و خوبی انجام دی اور اس پروگرام کو حضرت مولانا جعفر علی عدنی صاحب مدظلہ العالی کی حمایت حاصل رہی۔

 استقبالیہ تقریب میں مقررین نے انڈیا ہولی قرآن ایوارڈ کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان قرآنی مقابلہ محض ایک مسابقہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کو قرآنِ مجید سے جوڑنے، حفظِ قرآن، حسنِ تلاوت، تجوید اور فہمِ قرآن کو فروغ دینے کی ایک ملک گیر تحریک ہے، جس کے ذریعے ہندوستان بھر سے قرآنی صلاحیتوں کی تلاش اور ان کی قومی سطح پر حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

وفد کی قیادت *حضرت مولانا سید احمد الکبیر البخاری اطال اللہ عمرہ فرما رہے تھے*۔ آپ کے ہمراہ حضرت علامہ مولانا حافظ محمد نسیم عدنی (ریسرچ اسکالر، شعبۂ علومِ اسلامی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)، حضرت علامہ مولانا بشیر سعدی صاحب، حضرت مولانا عاشق عدنی، حضرت مولانا جنید عدنی اور دیگر معزز علماء کرام بھی شریک تھے۔

اپنے کلیدی خطاب میں *حضرت مولانا سید احمد الکبیر البخاری اطال اللہ عمرہ* نے معدن اکیڈمی کی چار دہائیوں پر محیط تعلیمی، دعوتی، رفاہی اور سماجی خدمات کا جامع تعارف پیش کیا۔ آپ نے علم کی عظمت، دینی و عصری تعلیم کے حسین امتزاج اور نئی نسل کی کردار سازی کی اہمیت پر نہایت مدلل اور بصیرت افروز گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ قوموں کی حقیقی ترقی کا راز علم، کردار اور اعلیٰ اخلاق میں پوشیدہ ہے۔ آپ نے حاضرین کوقرآنِ کریم سے مضبوط تعلق قائم کرنے، تعلیم کے فروغ اور صالح معاشرے کی تعمیر کے لیے بھرپور جدوجہد کرنے کی تلقین کی۔

اس کے بعد *حضرت علامہ مولانا بشیر سعدی* صاحب نے نہایت جامع، مدلل اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ آپ نے علم کی عظمت، دینی و عصری تعلیم کی ناگزیر اہمیت اور معاشرے کی تعمیر میں تعلیمی اداروں کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔ بالخصوص سیمانچل کے اس خطے کی تعلیمی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس محرومی کے ازالے کے لیے سنجیدہ اور منظم کوششوں کی اشد ضرورت ہے، اور ان شاء اللہ معدن اکیڈمی اس خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ اور تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون اور عملی کوشش کرے گی۔ آپ نے اہلِ علاقہ سے بھی اپیل کی کہ وہ اس تعلیمی مشن کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہوئے بھرپور تعاون کریں، تاکہ آنے والی نسلوں کو علم و 

کردار سے آراستہ روشن مستقبل میسر آ سکے۔

اس کے بعد *حضرت مولانا عاشق عدنی* نے نہایت ولولہ انگیز اور فکر انگیز خطاب فرمایا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو دینی و عصری علوم کے حصول، اعلیٰ کردار، مثبت فکر اور خدمتِ دین و ملت کے جذبے سے سرشار ہونے کی تلقین کی۔ ان کے مؤثر خطاب نے حاضرین، خصوصاً نوجوانوں کے دلوں میں ایک نیا عزم اور ولولہ پیدا کیا۔

بعد ازاں *حضرت علامہ مولانا حافظ محمد نسیم عدنی* نے سیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خطہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل 

ہونے کے باوجود تعلیمی اعتبار سے پسماندگی کا شکار ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر یہاں معدن اکیڈمی جیسے معیاری تعلیمی ماڈل کو فروغ دیا جائے تو یہ علاقہ دینی اور عصری تعلیم کے میدان میں نئی تاریخ رقم کر سکتا ہے۔

اس بابرکت محفل میں اے آئی ایم آئی  ایم کے انچارج جناب حسین صاحب، ڈاکٹر آصف سعید صاحب (فاؤنڈر، نیاز ملٹی اسپیشلٹی ہاسپٹل)، جناب اجمل ثانی صاحب (بلاک ممبر)، چیئرمین جناب نذیر احمد صاحب، ماسٹر آزاد صاحب، حاجی عبدالقادر صاحب، حاجی ادریس صاحب، حاجی عظیم الدین صاحب، جناب رفیق عالم صاحب، جناب انظار عالم صاحب، جناب مجیب صاحب، جناب ذوالفقار احمد صاحب، سکندر 

 

اعظم صاحب،  جناب وصی احمد صاحب،جناب نوشاد صاحب،نور سرور صاحب،سمیت علاقے کے متعدد علماء کرام، ائمۂ مساجد، سماجی کارکنان، دانشوران اور معززینِ علاقہ نے شرکت فرمائی۔

وفدِ معدن اکیڈمی نے نہایت خلوصِ دل اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ حاضرین کو ملک کے سب سے بڑے قرآنی مقابلے"*انڈیا ہولی قرآن ایوارڈ*"میں بھرپور شرکت کی دعوت

دی اور اہلِ علاقہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے اداروں کے اہل طلبہ و طالبات کی رجسٹریشن کروا کر اس عظیم قومی قرآنی تحریک کا حصہ بنیں۔

اس تاریخی تعلیمی منصوبے کو عملی شکل دینے میں حضرت علامہ مولانا حافظ محمد نسیم عدنی (ریسرچ اسکالر، شعبۂ علومِ اسلامی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) کی 

خصوصی محنت اور رہنمائی نمایاں رہی۔ جامعہ محمدیہ شاہی عیدگاہ، بڑا جالملک کے ڈائریکٹر حضرت حافظ و قاری مولانا محمد مظفر حسین رضوی کی مسلسل دعوت، اصرار اور گزارش پر سب سے پہلے حضرت مولانا نسیم عدنی نے علاقے کا تفصیلی دورہ فرمایا۔ بعد ازاں رمضان المبارک میں معدن اکیڈمی کی جانب سے ایک خصوصی ٹیم کو علاقے میں بھیجا گیا، جس نے تقریباً ایک ماہ تک تعلیمی، سماجی اور معاشی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ایک جامع رپورٹ مرتب کی۔ اس کے بعد حضرت مولانا نسیم عدنی نے دوبارہ علاقے کا حتمی دورہ کیا اور اپنی سفارشات معدن اکیڈمی کی قیادت کے سامنے پیش کیں، جنہیں نہایت مثبت انداز میں قبول کیا گیا۔

انہی سفارشات اور مسلسل جائزے کی روشنی میں، جب عالمی شہرت یافتہ دینی و روحانی شخصیت حضرت شیخ سید ابراہیم الخلیل البخاری دامت برکاتہم العالیہ کے

فرزند اور انڈیا ہولی قرآن ایوارڈ کے دعوتی وفد کے قائد *حضرت مولانا سید احمد الکبیر البخاری اطال اللہ عمرہ* اس دعوتی سفر کے دوران جامعہ محمدیہ شاہی عیدگاہ، بڑا جالملک تشریف لائے اور ادارے، علاقے اور یہاں کے تعلیمی ماحول کا ازخود مشاہدہ فرمایا، تو آپ نے نہایت مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

"*واقعی اس علاقے کو معدن جیسے معیاری تعلیمی ادارے کی اشد ضرورت ہے۔"*

چنانچہ اسی موقع پر آپ نے اپنے دستِ اقدس سے معدن اکیڈمی، کیرالہ اور ایمبرز (Mbraze) گلوبل کے اشتراک سے قائم کیے جانے والے جامعہ محمدیہ شاہی عیدگاہ، بڑا جالملک کے جدید تعلیمی منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا کہ یہ ادارہ مستقبل میں دینی اور عصری تعلیم کے حسین امتزاج کا ایک مثالی مرکز بنے گا،جہاں نئی نسل کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے ساتھ جدید علوم سے بھی آراستہ کیا جائے گا۔

اس موقع پر آپ نے اعلان فرمایا کہ ان شاء اللہ رواں سال ربیع الاول شریف سے ادارے کے تعمیری و تعلیمی کام کا باضابطہ آغاز کیا جائے گا، جبکہ ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ ربیع الاول شریف میں اس ادارے کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آئے گا۔ اس اعلان پر حاضرین نے بے حد مسرت کا اظہار کیا اور اسے سیمانچل کی تعلیمی بیداری، علمی خود کفالت اور

روشن مستقبل کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔

پروگرام کے اختتام پر علماء کرام اور معززینِ علاقہ نے معدن اکیڈمی کے اس عظیم قرآنی و تعلیمی مشن کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ اجتماعی دعا میں اللہ تعالیٰ سے التجا کی گئی کہ وہ اس منصوبے کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے جلد پایۂ تکمیل تک پہنچائے، اسے علم و حکمت، دعوت و تربیت اور خدمتِ خلق کا ایک مثالی مرکز بنائے، اور سیمانچل کے اس خطے کو علم، عمل، کردار اور قرآنِ کریم کی برکتوں سے ہمیشہ منور رکھے۔

اس تاریخی پروگرام نے نہ صرف انڈیا ہولی قرآن ایوارڈ کی قومی دعوتی مہم کو سیمانچل میں نئی تقویت بخشی، بلکہ علاقے میں معیاری دینی و عصری تعلیم کے ایک نئے باب کا بھی آغاز کر دیا۔ اہلِ علاقہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ جامعہ محمدیہ شاہی عیدگاہ، بڑا جالملک مستقبل قریب میں سیمانچل کے نمایاں تعلیمی مراکز میں شمار ہوگا اور یہاں سے ایسی نسل تیار ہوگی جو علم، کردار، خدمتِ انسانیت اور دینی اقدار کی حقیقی ترجمان ہوگی۔

رپورٹ

*محمد مظفر حسین رضوی*

رابطہ:  *9555445611*

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)