Aug 17, 2026 01:56 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
*تاریخ کی حفاظت اور نئی نسل کی تربیت

*تاریخ کی حفاظت اور نئی نسل کی تربیت

16 Aug 2026
1 min read

*تاریخ کی حفاظت اور نئی نسل کی تربیت

عاصم نعیم انصاری  ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ضلع پریشد اردو ہائی اسکول پرتور ضلع جالنہ

مسلمانوں کی تاریخ ایک انمول خزانہ ہے جس میں قربانیوں جدوجہد کامیابیوں اور حوصلہ مندی کے بے شمار واقعات شامل ہیں۔ یہ صرف ماضی کی کہانیاں نہیں بلکہ ایک ایسا ورثہ ہے جو ہماری شناخت کو محفوظ رکھتا ہے اور ہمیں موجودہ حالات میں درست فیصلے کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔ ایک معلم سے ہونے والی گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تاریخ کو صرف کتابوں میں محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ہندی اور انگریزی میں بڑے پیمانے پر ترجمہ کرکے عام کیا جائے تاکہ نئی نسل اس سے بخوبی واقف ہو............. 

تاریخ کی بقا........... 

تاریخ کا مطالعہ قوموں کی بقا کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ پانی زندگی کے لیے۔ اگر کسی قوم کو اس کی اصل تاریخ سے محروم کر دیا جائے تو وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے. اور اس کی فکری بنیادیں کمزور ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی حکومتیں اور طاقتیں تاریخ کو مسخ کرنے اور اسے پس پشت ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ ہمارے رہنماؤں کو بھلایا جا رہا ہے. اور تاریخی حقائق کو

غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے....... تاریخ کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اس لئے ضروری ہیں کہ تاریخی کتب کے ترجمے

مسلمانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتابیں زیادہ تر عربی فارسی یا اردو میں ہیں جبکہ آج کے دور میں ہندی اور انگریزی بولنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر ان کتابوں کے معیاری ترجمے کیے جائیں تو زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے مستفید ہو سکتے ہیں. اور صحیح معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں...... 

تاریخی کتابوں کا تحفظ اس لئے ضروری ہے. کہ کئی نایاب کتابیں ایسی ہیں جو اب بازار میں دستیاب نہیں یا بہت کمزور حالت میں موجود ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر مسلمان اپنے گھروں میں ایسی کتابوں کو محفوظ کرے مدارس اور لائبریریوں میں ان کا ذخیرہ کیا جائے اور ڈیجیٹل فارمیٹ میں بھی ان کو محفوظ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے محروم نہ ہوں...... 

بچوں کو تاریخ سے روشناس کراناوالدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اسلامی تاریخ کے بارے میں ذاتی طور پر

آگاہ کریں۔ اس کے لیے کہانیوں ویڈیوز اور دیگر 

دلچسپ ذرائع کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے نصاب میں اگر اسلامی تاریخ کو کمزور کیا جا رہا ہے تو ہمیں خود اس کمی کو پورا کرنا ہوگا........ 

تعلیمی اداروں میں تاریخ کی ترویج مدارس اور اسکولوں میں ایسی سرگرمیاں ہونی چاہئیں جن میں طلبہ تاریخ کے اہم اسباق سیکھیں۔ سیمینارز ورکشاپس اور مباحثوں کے ذریعے تاریخی شعور بیدار کیا جا سکتا ہے۔....... 

تاریخ کسی بھی قوم کی شناخت اور اس کے وجود کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی تاریخ کی حفاظت نہ کریں اور اسے اگلی نسلوں تک منتقل نہ کریں تو ہماری آنے والی نسلیں اپنی اصل سے ناواقف ہو جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کو صرف کتابوں میں محفوظ رکھنا کافی نہیں بلکہ اسے عملی طور پر زندہ رکھنے اور اپنی زبان میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخ ہمیں ماضی کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے کن حالات کا سامنا کیاکس طرح 

ترقی کی اور کن اسباب نے انہیں زوال کی طرف دھکیلا۔ اگر ہم اپنی تاریخ سے سبق نہیں لیں گے تو وہی غلطیاں دہرائیں گے جو پہلے کی گئیں اور یوں ہماری شناخت مٹنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا.......کتابیں تاریخ کو محفوظ رکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہیں مگر صرف یہی کافی نہیں۔ تاریخ کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے..... 

جیسے تعلیمی نصاب میں تاریخ کا فروغ ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسی تاریخ پڑھائی جانی چاہیے جو سچائی پر مبنی ہو نہ کہ صرف مخصوص بیانیے کو فروغ دینے والی۔ طلبہ کو اپنے قومی رہنماؤں اور تاریخی واقعات سے روشناس کرانا ضروری ہے....... 

تاریخ کو زبان و ثقافت کے ذریعے محفوظ کرنا........ 

ہر قوم کی تاریخ اس کی زبان ادب  لوک کہانیوں اور ثقافت میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی زبان کو چھوڑ کر دوسری زبانوں پر انحصار کریں گے تو ہماری تاریخ 

دھیرے دھیرے ختم ہو جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی مادری زبان میں تاریخی مواد کو زیادہ سے زیادہ عام کریں...... 

آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہمیں اپنی تاریخ کومحفوظ رکھنے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع جیسے کہ ویڈیوز ویب سائٹس ڈاکیومنٹری فلمز  اور سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ نوجوان نسل تک آسانی سے معلومات پہنچ سکے..... 

تاریخی مقامات کی حفاظت

ہمارے تاریخی ورثے جیسے قلعے مساجد مندر اور دیگر آثار قدیمہ ہماری تاریخ کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ اگر ہم ان کی حفاظت نہیں کریں گے تو ہماری شناخت کے نشان بھی مٹ جائیں گے...... 

مشاعرے ڈرامے اور میلوں کا انعقاد کرنا بھی بہت ضروری ہے. تاریخ کو محض کتابوں میں رکھنے کے بجائے اسے ثقافتی تقریبات کے ذریعے زندہ رکھنا چاہیے۔ مشاعروں تھیٹر اور میلوں کے ذریعے نئی نسل کو اپنی تہذیب و تاریخ سے جوڑنے کا بہترین موقع فراہم کیا جا سکتا ہے...... 

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی شناخت برقرار رکھیں تو ہمیں اپنی تاریخ کی حفاظت کرنی ہوگی۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اسے محض کتابوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی طور پر اسے اپنی زندگی میں شامل کریں اپنی زبان میں عام کریں اور جدید ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ہر ممکن طریقے سے محفوظ رکھیں۔ یہی ہماری بقا اور ترقی کا واحد راستہ ہے......

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)