Aug 7, 2026 03:28 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
شہیدِ اعظم کانفرنس بحسن و خوبی اختتام پذیر

شہیدِ اعظم کانفرنس بحسن و خوبی اختتام پذیر

09 Jul 2026
1 min read

شہیدِ اعظم کانفرنس بحسن و خوبی اختتام پذیر

عالمی مبلغ اسلام ڈاکٹر انوار احمد بغدادی کا والہانہ استقبال

پریس ریلیز نیپال اردو تائمز 

ریپورٹ: ابو ارشد مصباحی، مہوتری

دوحہ قطر: گزشتہ روز مورخہ 3 جولائی 2026ء بروز جمعہ، بعد نمازِ مغرب 'قاضی نیپال فاؤنڈیشن' کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان "شہیدِ اعظم کانفرنس" کا انتہائی کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس پروقار تقریب کے مہمانِ خصوصی، جن کے والہانہ استقبال کے لیے یہ پوری بزم سجائی گئی تھی، عالمی شہرت یافتہ اسلامک اسکالر اور مفکرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر انوار احمد بغدادی صاحب دام ظلہ العالی (سابق پرنسپل دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، یوپی، و حال مقیم بلغار اسلامک اکیڈمی، تاتارستان، روس) تھے۔

کانفرنس میں ڈاکٹر صاحب کی عالمی سطح پر انجام دی گئی دینی، علمی، تبلیغی اور تصنیفی خدمات کا شاندار اعتراف کیا گیا۔ کثیر علمائے کرام اور عوامِ اہل سنت کی موجودگی میں پرجوش نعروں کی گونج اور والہانہ محبت کے ساتھ سب سے پہلے آپ کی شال پوشی کی گئی، اور پروگرام کے آخری مرحلے میں آپ کو اعزازی طور پر "قاضی نیپال ایوارڈ" سے سرفراز کیا گیا۔

اس موقع پر مہمانِ خصوصی ڈاکٹر انوار احمد بغدادی صاحب نے ایک انتہائی مدلل، علمی اور ناصحانہ خطاب فرمایا، جس میں انہوں نے دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق درج ذیل اہم نکات پیش کیے:

1.ہم جب بھی کسی دیارِ غیر میں پروگرام کریں، تو وہاں جذباتی بیانات کے بجائے انتہائی سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ اپنی بات رکھیں۔

 2. قاضی نیپال فاؤنڈیشن کی فلاحی و دینی کارکردگی پر انہوں نے دلی مسرت کا اظہار فرمایا۔

3.عوام الناس کو چاہیے کہ وہ دین و شریعت کے مسائل معلوم کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اے آئی پر بھروسہ کرنے کے بجائے مستند علمائے کرام سے رجوع کریں، جیسے حضور قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی دامت برکاتہم العالیہ کی ذاتِ گرامی ہے۔

4.جب بھی امت پر کوئی مصیبت آئے تو احساسِ

کمتری کا شکار ہونے کے بجائے صبر، حوصلے اور استقامت کے ساتھ مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کریں۔ انہوں نے واشگاف لفظوں میں فرمایا: "ہمارا اسلام خطرے میں نہیں ہے، کیونکہ اسلام 'حق' ہے۔ اسلام (اپنے ماننے والوں کی غفلت سے) گرد آلود تو ہو سکتا ہے، لیکن کبھی خطرے میں نہیں پڑ سکتا۔ ہاں، وہ لوگ اور تہذیبیں ضرور خطرے میں ہیں جن کا مذہب غیر مہذب ہے"۔

5.انسان دراصل 'صبر و شکر' کے مجموعے کا نام ہے۔ مصیبت میں صبر کرے اور خوش حالی میں رب کا شکر ادا کرے۔

6.اگر دنیا کے سامنے حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا صحیح اور علمی تعارف پیش کیا جائے، تو دنیا حق کو قبول کرے گی اور کوئی اس پر اعتراض نہیں

ٰ کر سکے گا۔ افسوس کہ چند کم خواندہ خطبا نے اعلی حضرت کے مشن کو (غلط رنگ دے کر) متاثر کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اہل سنت و جماعت کو محض ایک 'فرقہ' سمجھا جانے لگا ہے، حالانکہ مسلکِ اعلیٰ حضرت کی اصل پہچان یہ ہے کہ یہی اہل سنت و جماعت ہے اور یہی سوادِ اعظم ہے۔

7.ہمیں باہمی اتحاد کے ساتھ کام کرنا چاہیے، کیونکہ اتحاد میں ہی برکت اور کامیابی ہے۔

8.علمائے کرام دنیاوی مال و زر اور پیسے کے پیچھے نہ بھاگیں، بلکہ ہمیشہ رب کی رضا پر راضی رہیں۔

9.عوام پر لازم ہے کہ وہ علمائے دین کا ہمیشہ احترام کریں، کیونکہ ان کی پیروی اور رہنمائی میں ہی دنیا و آخرت کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں۔

اس مایہ ناز کانفرنس کی سرپرستی حضرت علامہ عبد

القادر اویسی صاحب نے فرمائی، صدارت کے فرائض حضرت مولانا سلامت حسین رضوی صاحب نے انجام دیے، جبکہ قیادت شاعرِ اسلام حضرت مولانا نعیم الدین قادری صاحب نے نبھائی۔ ان تینوں مقتدر حضرات کے ساتھ 'نیپال اردو ٹائمز' کے نائب ایڈیٹر حضرت مولانا مفتی محمد کلام الدین نعمانی مصباحی صاحب کی کامل معاونت و حمایت شاملِ حال رہی۔

جب کہ نظامت کی خوبصورت ذمہ داری حضرت عالم اویسی صاحب نے انجام دی. 

کانفرنس کا آغاز حافظ دلشاد عالم اویسی صاحب نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا، جس کے بعد انہوں نے 'کلامِ رضا' پڑھ کر محفل میں ایمانی جوش پیدا کیا۔ بعد ازاں حافظ احمد رضا (ابن مولانا عبد القادر اویسی صاحب)، مولانا فیض رضا، حضرت مولانا نعیم الدینقادری صاحب، مولانا شعیب صاحب، اور دامادِ حضور 

قاضی نیپال حضرت مولانا ابو الحقانی صاحب نے اپنے دلکش اور لاجواب نعتیہ کلام و مناقب سے محفل کو منور کر دیا۔ بزم میں یہ اشعار خاص طور پر گونجے 

اس کے بعد، قاضی نیپال فاؤنڈیشن کے نائب صدر اور نیپال اردو ٹائمز کے نائب ایڈیٹر حضرت مفتی کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی صاحب نے علمِ دین اور علما کی فضیلت پر ایک انتہائی جامع بیان پیش کیا۔ بعدہ نیپال اردو ٹائمز کے نمائندے حضرت مولانا بلال برکاتی صاحب نے حضور قاضی نیپال صاحب کی شخصیت اور ان کی دینی، ملی، سماجی، تبلیغی، تعمیری، 

تصنیفی، تدریسی اور سیاسی خدمات کا مختصر مگر جامع مانع تعارف بہترین انداز میں پیش کیا، جسے سن کر حاضرینِ مجلس میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔

پروگرام کے اگلے مرحلے میں، نیپال اردو ٹائمز کے چیف ایڈیٹر حضرت مولانا عبد الجبار علیمی صاحب نے قاضی نیپال فاؤنڈیشن اور اس کے اراکین کا شکریہ ادا کرنے کے بعد مہمانِ خصوصی ڈاکٹر انوار احمد بغدادی صاحب کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت نے مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات پر چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ایک معرکہ آرا کتاب تصنیف فرمائی ہے، اور امامِ اہل سنت کی 'جامع الاحادیث' کا عربی میں ترجمہ بھی کیا ہے، جو کہ ایک عظیم علمی کارنامہ ہے۔

آخر میں، فاؤنڈیشن کے سرپرستِ اعلیٰ علامہ عبد القادر اویسی صاحب نے قاضی نیپال فاؤنڈیشن کی دینی، ملی اور سماجی خدمات کا اجمالی خاکہ پیش کیا اور سبھی حضرات کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر کام کرنے کی دعوت دی۔

یہ مبارک کانفرنس اپنے مقررہ وقت پر، معمولاتِ اہل سنت کے مطابق صلاۃ و سلام کے نذرانے اور سرپرستِ اعلیٰ کی رقت آمیز دعاؤں کے ساتھ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

شرکائے محفل کے اسمائے گرامی حضرت حافظ ارشاد صاحب، حضرت مولانا مجیب الرحمن صاحب، حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب، حضرت مولانا داود صاحب، جناب رستم خان صاحب، جناب ضمیر صاحب، جناب آزاد منصوری صاحب، جناب عابد حسین صاحب، جناب علی حیدر صاحب، جناب اسلام صاحب (میڈیا)، جناب مصطفیٰ صاحب، ذاکر منصوری، حافظ عاشق رضا، ریحان رضا، سانول، طیب صاحب، حافظ احمد رضا، مولانا نور العین صاحب، ابراہیم، محمد شریف صاحب، علی حسین، مولانا علی اکبر ثقافی، حضرت مولانا عابد حسین صاحب، حضرت مولانا نثار مصباحی صاحب، حضرت مولانا جمشید صاحب، حضرت مولانا عالم صاحب، حضرت مولانا عارف صاحب (شوبھاپور)،محترم رفیق صاحب، مولانا امانت صاحب، جناب محترم محمد کلیم صاحب، جناب محترم محمد رضا صاحب، جناب محترم محمد سلمان صاحب، جناب محترم عبدالرزاق صاحب۔ حضرت مولانا مجیب علیمی ، مولانا محمد اسلم علیمی، مولانا شمشیر رضا علیمی ، محمد اول علیمی، حضرت مولانا حافظ عفراللہ علیمی، حضرت مولانا حافظ سہیل علیمی، قاری حبیب اللہ علیمی ، مولانا ذیشان علیمی ، مولانا غزالی علیمی صاحبان. رپورٹر: ابو ارشد مصباحی، مہوتری

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)