Aug 7, 2026 03:28 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
"نعتِ رسول ﷺ کی برکتیں اور کلامِ اعلیٰ حضرت کی عالمگیر مقبولیت"

"نعتِ رسول ﷺ کی برکتیں اور کلامِ اعلیٰ حضرت کی عالمگیر مقبولیت"

09 Jul 2026
1 min read

"نعتِ رسول ﷺ کی برکتیں اور کلامِ اعلیٰ حضرت کی عالمگیر مقبولیت"

دنیا کی تاریخ میں شاعری کی بے شمار اصناف وجود میں آئیں، جن میں محبت، فطرت، فلسفہ، حماست اور معاشرتی موضوعات پر لاکھوں اشعار کہے گئے؛ مگر شاعری کی تمام اصناف میں نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کو جو عظمت، تقدس اور روحانی رفعت حاصل ہے وہ کسی اور صنف کو نصیب نہیں۔ نعت گوئی دراصل عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے اظہار کا ایک پاکیزہ وسیلہ ہے، جس میں شاعر اپنی تمام تر عقیدت، محبت اور وارفتگی کو الفاظ کا جامہ پہناتا ہے۔

نعت کا تعلق محض ادب سے نہیں بلکہ ایمان و عقیدت سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اہلِ ایمان نے حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کرنا اپنے لیے سعادت سمجھا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کا ذکر بلند فرمایا اور آپ کی عظمت و رفعت کو اپنی کتابِ مقدس میں جگہ دی۔ جب خالقِ کائنات اپنے محبوب کا ذکر خیر فرمائے تو مخلوق کی جانب سے ان کی مدح و ثنا یقیناً عبادت اور موجبِ سعادت ہے۔

اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نعت گوئی کی بنیاد عہدِ نبوی ہی میں پڑ چکی تھی۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابۂ کرام رضواناللہ علیہم اجمعین نے بارگاہِ رسالت میں نعتیہ اشعار پیش کیے اور حضور اکرم ﷺ کی دعاؤں سے سرفراز ہوئے۔ اسی نسبت نے نعت گوئی کو محض فن نہیں بلکہ ایک مقدس خدمت کا درجہ عطا کیا۔ نعت پڑھنے اور سننے والوں نے ہر دور میں اس کی روحانی برکتوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ نعت دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کی شمع روشن کرتی ہے، ایمان کو تازگی بخشتی ہے، ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے قلب و روح کو سکون عطا کرتی ہے اور انسان کو سنتِ نبوی کی پیروی کی طرف مائل کرتی ہے۔ بلاشبہ جس دل میں عشقِ رسول ﷺ آباد ہوجائے وہی حقیقی کامیابی کا مستحق ہے۔

نعت گو شاعر کا مقام بھی نہایت بلند ہے۔ وہ اپنے قلم کو محبوبِ خدا ﷺ کی مدح کے لیے وقف کرتا ہے اور اپنی فکری و ادبی صلاحیتوں کو عشقِ رسول ﷺ کی اشاعت کا ذریعہ بناتا ہے۔ تاہم نعت گوئی ایک حساس میدان ہے جہاں ادبِ بارگاہِ رسالت کو ہر چیز پر مقدم رکھنا ضروری ہے۔ اسی لیے اکابرِ اہلِ سنت نے ہمیشہ ایسی نعت گوئی کی حوصلہ افزائی فرمائی جو عقائدِ صحیحہ اور آدابِ شرعیہ کے مطابق ہو۔جب اردو نعتیہ شاعری کا ذکر آتا ہے تو امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، عاشقِ رسول عظیم، امام احمد رضا خان بریلوی کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ آپ نے جس انداز سے عشقِ مصطفیٰ ﷺ کو شعر و ادب کا قالب عطا کیا، اس کی مثال اردو ادب میں کم

ہی ملتی ہے۔ آپ کا نعتیہ دیوان حدائقِ بخشش عشق و ادب کا ایسا شاہکار ہے جسے اہلِ محبت آج بھی عقیدت سے پڑھتے اور سنتے ہیں۔

اعلیٰ حضرت کے کلام کی مقبولیت کا راز صرف فصاحت و بلاغت نہیں بلکہ وہ سوزِ عشق ہے جو ہر شعر میں موجزن دکھائی دیتا ہے۔ ان کے اشعار میں عقیدہ بھی ہے، محبت بھی؛ علم بھی ہے، ادب بھی؛ وارفتگی بھی ہے اور بندگی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر سے لے کر یورپ، افریقہ، عرب اور دنیا کے مختلف خطوں تک بے شمار نعت خواں حضرات ان کا کلام پڑھ کر سامعین کے دلوں کو منور کرتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سے نعت خواں حضرات نے کلامِ اعلیٰ حضرت کو اپنی شناخت بنایا اور اسی نسبت سے انہیں عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی سچی ترجمانی کرتا ہے۔ جب الفاظ میں اخلاص، عقیدت اور ادب شامل ہوجائیں تو وہ دلوں میں اتر جاتے ہیں اور زبانوں پر جاری ہوجاتے ہیں۔

موجودہ دور میں جبکہ ادب اور فنون کے مختلف میدان تجارتی رنگ اختیار کرتے جارہے ہیں، نعت گو شعراء اور نعت خواں حضرات کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نعت کو محض شہرت یا تفریح کا 

ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اسے اصلاحِ امت اور فروغِ عشقِ رسول ﷺ کا وسیلہ بنائیں۔ نعت کی اصل روح محبت، ادب اور اتباعِ سنت ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جسے ہر دور میں زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔آج بھی جب اعلیٰ حضرت کا یہ عاشقانہ کلام محافلِ نعت و میلاد میں گونجتا ہے تو سامعین کے دلوں پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچا عشق کبھی پرانا نہیں ہوتا اور جو کلام عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار ہو وہ زمانوں کے بدلنے سے اپنی تاثیر نہیں کھوتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عشقِ رسول ﷺ کی دولت نصیب فرمائے، نعتِ مصطفیٰ ﷺ کے ادب کو سمجھنے اور اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے جن کی زبانیں ہمیشہ ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے تر رہتی ہیں۔

نور احمد نور

لیڈوامہوا امرڈوبھا شہر پنچایت بکھرا بازار ضلع سنت کبیر نگر

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)